حدیث نمبر: 1856
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةً ، فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ ، وَقَالَ : " بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ " .

لیث نے ابوزبیر سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حدیبیہ کے دن ہم ایک ہزار چار سو تھے، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔ وہ ببول (کیکر) کا درخت تھا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے اس بات پر آپ سے بیعت کی کہ ہم فرار نہ ہوں گے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر موت کی بیعت نہیں کی۔

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " لَمْ نُبَايِعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَوْتِ إِنَّمَا بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ " .

سفیان نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مر جانے پر بیعت نہیں کی، ہم نے آپ سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہ ہوں گے۔

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، سَمِعَ جَابِرًا يَسْأَلُ كَمْ كَانُوا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ؟ ، قَالَ : " كُنَّا أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً ، فَبَايَعْنَاهُ ، وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ فَبَايَعْنَاهُ " ، غَيْرَ جَدِّ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ اخْتَبَأَ تَحْتَ بَطْنِ بَعِيرِهِ .

محمد بن حاتم نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حجاج نے ابن جریج سے حدیث سنائی، کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے پوچھا گیا تھا کہ حدیبیہ کے دن آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے کہا: ہم چودہ سو تھے، ہم نے ایک درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ تھام رکھا تھا، وہ ببول کا درخت تھا، ہم سب نے آپ سے بیعت کی سوائے جد بن قیس انصاری کے، (اس نے آپ سے بیعت نہیں کی) وہ اپنے اونٹ کے پیٹ کے نیچے چھپ گیا۔

وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ مُجَالِدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَسْأَلُ " هَلْ بَايَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ؟ ، فَقَالَ : لَا ، وَلَكِنْ صَلَّى بِهَا ، وَلَمْ يُبَايِعْ عِنْدَ شَجَرَةٍ إِلَّا الشَّجَرَةَ الَّتِي بِالْحُدَيْبِيَةِ " ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بِئْرِ الْحُدَيْبِيَةِ .

ابو زبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے سوال کیا گیا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں بیعت لی تھی؟ انہوں نے جواب دیا، نہیں، لیکن وہاں نماز پڑھی تھی اور حدیبیہ کے درخت کے سوا آپ نے کسی درخت کے پاس بیعت نہیں لی اور ابن جریج بیان کرتے ہیں اور مجھے ابو زبیر نے بتایا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے کنواں پر دعا کی تھی۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ ، قَالَ سَعِيدٌ وَإِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ " ، وقَالَ جَابِرٌ : لَوْ كُنْتُ أُبْصِرُ لَأَرَيْتُكُمْ مَوْضِعَ الشَّجَرَةِ .

عمرو نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حدیبیہ کے دن ہم ایک ہزار چار سو تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج تم روئے زمین کے بہترین افراد ہو۔“ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں دیکھ سکتا تو میں تم کو اس درخت کی جگہ دکھاتا۔

وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ ، فَقَالَ : " لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ " .

عمرو بن مرہ نے سالم بن ابی جعد سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اصحاب شجرہ (بیعت رضوان کرنے والوں کی تعداد) کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ (پانی) ہمیں کافی ہوتا لیکن ہم (تقریبا) ایک ہزار پانچ سو لوگ تھے۔

وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ . ح وحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ كِلَاهُمَا ، يَقُولُ : عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً " .

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو ہمارے لیے پانی کافی ہوتا، ہم پندرہ سو تھے۔

وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا وقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ : قُلْتُ لِجَابِرٍ : " كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ ؟ ، قَالَ : أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ " .

سالم بن ابی الجعد بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا، اس دن آپ کتنے تھے؟ انہوں نے جواب دیا، چودہ سو (1400)۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1856
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1856 | سنن ترمذي: 1591 | سنن ترمذي: 1594 | سنن نسائي: 4163 | مسند الحميدي: 1312

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1591 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی بیعت کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے آیت کریمہ: «لقد رضي الله عن المؤمنين إذ يبايعونك تحت الشجرة» " اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے۔‏‏‏‏" (الفتح: ۱۸) کے بارے میں روایت ہے، جابر کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرار نہ ہونے کی بیعت کی تھی، ہم نے آپ سے موت کے اوپر بیعت نہیں کی تھی۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1591]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
 ’’اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپﷺ سے بیعت کر رہے تھے۔
‘‘ (الفتح: 18)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1591 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4163 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´میدان جنگ سے نہ بھاگنے پر بیعت کا بیان۔`
جابر کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت پر نہیں بلکہ میدان جنگ سے نہ بھاگنے پر بیعت کی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4163]
اردو حاشہ: موت پر بیعت کرنے کا مطلب بھی یہی ہے کہ ہم ثابت قدم رہیں گے‘ بھاگیں گے نہیں، خواہ موت والے حالات پیدا ہو جائیں۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا مقصود یہ ہے کہ ہم  نے بیعت کرتے وقت یہ نہیں کہا تھا کہ اگر چہ مرجائیں۔ صرف یہ کہا تھا کہ بھاگیں گے نہیں۔ ویسے مفہوم اور نتیجے میں کوئی فرق نہیں۔ عض لوگوں نے موت کا لفظ بھی بولا ہے کہ بھاگیں گے نہیں‘ خواہ موت بھی آجائے جیسا کہ آئندہ روایت میں اس کی صراحت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4163 سے ماخوذ ہے۔