صحيح مسلم
كتاب الإمارة— امور حکومت کا بیان
باب إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ: باب: جب دو خلیفوں سے بیعت ہو۔
حدیث نمبر: 1853
وحَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ فَاقْتُلُوا الْآخَرَ مِنْهُمَا " .حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو خلیفوں کے لیے بیعت لی جائے تو ان میں سے دوسرے کو قتل کر دو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب دو خلیفوں کی بیعت کر لی جائے، تو ان میں سے دوسرے کو قتل کر دو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4799]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، جب ایک خلیفہ کی بیعت پر لوگ عام طور پر متفق ہو گئے ہیں، پھر دوسرا اپنی خلافت کے لیے بیعت لیتا ہے اور روکنے کے باوجود باز نہیں آتا اور اس کے قتل کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا، تو اس کو قتل کر دیا جائے گا، کیونکہ اس کے بغیر ملت اسلامیہ کی وحدت و یگانت برقرار نہیں رہ سکتی اور اس کو انتشار و افتراق سے محفوظ نہیں کیا جا سکتا، لیکن آج دین اور سیاست کے نام پر، اپنے مفادات کے لیے، اقتدار پسند افراد نے لوگوں کو دینی اور سیاسی گروہوں اور جماعتوں میں تقسیم کر دیا ہے اور پھر تقسیم در تقسیم کا منحوس چکر چل نکلا ہے، جس کی بنا پر امت میں وحدت و یگانت پیدا کرنا جوئے شیر لانا بن گیا ہے، کیونکہ جمہوریت کے نام پر انتخاب کی جس دیوی کی قصیدہ خوانی کی جاتی ہے، اس نے آج تک انتشار کے سوا کچھ نہیں دیا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1853 سے ماخوذ ہے۔