صحيح مسلم
كتاب الإمارة— امور حکومت کا بیان
باب الأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وَتَحْذِيرِ الدُّعَاةِ إِلَى الْكُفْرِ: باب: فتنہ اور فساد کے وقت بلکہ ہر وقت مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْوِيه ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ ، فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ فَمِيتَةٌ جَاهِلِيَّةٌ " .حماد بن زید نے ہمیں جعد ابوعثمان سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابورجاء سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے امیر میں ایسی بات دیکھے جو اسے ناپسند ہے تو صبر کرے، کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی ہٹا اور (اسی حالت میں) مر گیا تو یہ جاہلیت کی موت ہے۔“
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْجَعْدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَرِهَ مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فَلْيَصْبِرْ عَلَيْهِ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ خَرَجَ مِنَ السُّلْطَانِ شِبْرًا ، فَمَاتَ عَلَيْهِ إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً " .عبدالوارث نے ہمیں جعد سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابورجاء عطاردی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اپنے امیر کی کوئی بات بری لگے، وہ اس پر صبر کرے، کیونکہ لوگوں میں سے جو شخص بھی سلطان (کی اطاعت) سے ایک بالشت بھی باہر نکلا اور اسی حالت میں مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
مسلمان کو ایسی خودسری کی حالت میں مرنا عہد جاہلیت والوں کی سی موت ہرنا ہے جو مسلمان کے لیے کسی طرح زیبا نہیں ہے۔
1۔
جماعت سے الگ ہونے سے مراد ملکی وقومی اور دینی نظام کوتوڑ کر حاکم اسلام سے بغاوت کرنا ہے۔
ایسا آدمی عہد جاہلیت کی سی خودسری میں گرفتار ہوجاتا ہے۔
ایسی حالت میں مرناجاہلیت کی موت مرنا ہے جو مسلمان کی شان کے مناسب نہیں۔
2۔
اس حدیث میں امیر سے مراد ہماری خود ساختہ تنظیموں کے امیر نہیں بلکہ خلیفہ اسلام ہے جو صحیح معنوں میں صاحب اقتدار اوراختیارات کا مالک ہو۔
ایسے امیر کی اطاعت ضروری ہے۔
معمولی باتوں کا بہانہ بنا کر بغاوت کا راستہ ہموار کرنا جاہلیت کی یاد تازہ کرنے کے مترادف ہے کیونکہ دور جاہلیت کے لوگ ہر قسم کے قانون سے بالازندگی گزارنے کے عادی تھے۔
ایسے حالات میں اگرکوئی حاکم وقت سے بغاوت کرتاہے تو جاہلیت کی موت مرتا ہے۔
اس حدیث کی پہلے بھی وضاحت ہوچکی ہے۔
واللہ المستعان۔w
فتنہ و فساد زور پکڑ جائے گا۔
ابن حبان اور امام احمد کی روایت میں ہے گو یہ حاکم تمہارا مال کھائے، تمہاری پیٹھ پر مار لگائے یعنی جب بھی صبر کرو۔
اگر کفر کرے تو اس سے لڑنے پر تم کو مواخذہ نہ ہوگا۔
دوسری روایت میں یوں ہے جب تک وہ تم کو صاف اور صریح گناہ کی بات کا حکم نہ دے۔
تیسری روایت میں ہے جو حاکم اللہ کی نافرمانی کرے اس کی اطاعت نہیں کرنا چاہئے۔
ابن ابی شیبہ کی روایت میں یوں ہے تم پر ایسے لوگ حاکم ہوں گے جو تم کو ایسی باتوں کا حکم کریں گے جن کو تم نہیں پہچانتے اور ایسے کام کریں گے جن کو تم برا جانتے ہو تو ایسے حاکموں کی اطاعت کرنا تم کو ضروری نہیں یہ جو فرمایا اللہ کے پاس تم کو دلیل مل جائے گی یعنی اس سے لڑنے اور اس کی مخالفت کرنے کی سند تم کو مل جائے گی۔
اس سے یہ نکلا کہ جب تک حاکم کے قول و فعل کی تاویل شرعی ہو سکے۔
اس وقت تک اس سے لڑنا یا اس پر خروج کرنا جائز نہیں البتہ اگر صاف و صریح وہ شرع کے مخالف حکم دے تو اور قواعد اسلام کے برخلاف چلے جب تو اس پر اعتراض کرنا اور اگر نہ مانے تو اس سے لڑنا درست ہے۔
داؤدی نے کہا اگر ظالم حاکم کا معزول کرنا بغیر فتنہ اور فساد کے ممکن ہو تب تو واجب ہے کہ وہ معزول کر دیا جائے ورنہ صبر کرنا چاہئے۔
بعضوں نے کہا ابتداء فاسق کو حاکم بنانا درست نہیں اگر حکومت ملتے وقت عادل ہو پھر فاسق ہو جائے اس پر خروج کرنے میں علماء کا اختلاف ہے اور صحیح یہ ہے کہ خروج اس وقت تک جائز نہیں جب تک اعلانیہ کفر نہ کرے، اگر اعلانیہ کفر کی باتیں کرنے لگے اس وقت اس کو معزول کرنا واجب ہے۔
1۔
ان احادیث میں امیر سے مراد ہماری تنظیموں کے امیر نہیں بلکہ خلیفہ اسلام ہے جو صحیح معنوں میں صاحب اقتدار ہو۔
ایسے صاحب اختیارخلیفے کی اطاعت ضروری ہے۔
معمولی باتوں کا بہانہ بنا کر قانون شکنی نہ کی جائے اور نہ بغاوت کا راستہ ہی ہموار کیا جائے۔
اگر ایسا کیا تو عہد جاہلیت کی یاد تازہ ہوگی کیونکہ دور جاہلیت میں لاقانونیت کا دور دورہ تھا اور وہ لوگ ہر قسم کے قانون سے بالا زندگی گزارنے کے عادی تھے۔
2۔
اگر کوئی حکمران وقت سے بغاوت کرتا ہے تو وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے خونریزی اور فتنہ و فساد زور پکڑے گا۔
انسانوں کی عزت و آبرو اور جان و مال کی حفاظت اسی میں ہے کہ حاکم وقت کی اطاعت کی جائے۔
سازشوں اور فتنوں کو دبانے کا یہ ایک بہترین ذریعہ ہے۔
ہاں اگر حاکم وقت کھلا کفر کرے تو ایسے حالات میں جہاں اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی ہو وہاں ان کی اطاعت نہ کی جائے۔
3۔
جماعت سے علیحدگی کی صورت یہ ہے کہ وہ خلیفہ وقت کے خلاف سرکشی کی کوشش کرے اگرچہ معمولی سی ہی کیوں نہ ہو اس مذموم کوشش کا نتیجہ فساد اور خونریزی ہے جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔