صحيح مسلم
كتاب الإمارة— امور حکومت کا بیان
باب وُجُوبِ طَاعَةِ الأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ: باب: بادشاہ یا حاکم یا امام کی اطاعت واجب ہے اس کام میں جو گناہ نہ ہو اور گناہ میں اطاعت کرنا حرام ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَدَّتِي تُحَدِّثُ : أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ ، يَقُولُ : " وَلَوِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ ، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا " ،یحییٰ بن حصین بیان کرتے ہیں، میں نے اپنی دادی (ام الحصین) سے سنا، اس نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں یہ فرماتے سنا: ”اور اگر تم پر ایسا غلام مقرر کر دیا جائے جو تمہیں اللہ کے قانون کے مطابق چلائے تو اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔‘‘
وحَدَّثَنَاه ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : عَبْدًا حَبَشِيًّا ،امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، جس میں (حبشی غلام) کہا ہے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : عَبْدًا حَبَشِيًّا مُجَدَّعًا .وکیع بن جراح نے ہمیں شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا: ”کٹے ہوئے اعضاء والا حبشی غلام ہو۔“
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ حَبَشِيًّا مُجَدَّعًا وَزَادَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى أَوْ بِعَرَفَاتٍ .بہز نے ہمیں شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی: انہوں نے ”کٹے ہوئے اعضاء والا حبشی غلام“ نہیں کہا، اور یہ اضافہ کیا: انہوں (ام الحصین رضی اللہ عنہا) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منیٰ یا عرفات میں سنا۔
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ ، قَالَ : سَمِعْتُهَا تَقُولُ : " حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ ، قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلًا كَثِيرًا ثُمَّ سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : إِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ حَسِبْتُهَا ، قَالَتْ : أَسْوَدُ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا " .یحییٰ بن حصین اپنی دادی ام الحصین رضی اللہ تعالی عنہا سے بیان کرتے ہیں، اس نے بتایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ساری باتیں بیان فرمائیں، پھر میں نے آپﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اگر تم پر نکٹا غلام امیر بنا دیا جائے‘‘، میرے خیال میں اس نے کہا، ”سیاہ‘‘ ”وہ تمہیں اللہ کی کتاب کے مطابق چلائے، تو اس کی بات سنو اور مانو۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
حج میں گرمی سے بچنے کے لیے چھتری استعمال کرنا، یا سایہ بان کے نیچے بیٹھنا درست ہے۔
احرام کی حالت میں سر پر کپڑا وغیرہ رکھنا جائز نہیں ہے۔
2۔
اگرحاکم اعلیٰ کی طرف سے کسی ایسے انسان کو کسی علاقہ یا محکمہ کا سربراہ بنا دیا جائے جو دنیوی اعتبار سے کسی بلند وبالا خاندان کا نہ ہو یا شخصی وجاہت اور حسن وجمال سے محروم ہو لیکن کام قرآن وسنت کی روشنی میں کرتا ہو تو اس کی اطاعت وفرمانبرداری فرض ہے، اس کے خلاف بغاوت کرنا جائز نہیں ہے۔
اگر اس کے احکام اور اعمال دین کے منافی ہیں تو پھر اس کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔
ام حصین احمسیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ کے جسم پر ایک چادر تھی جسے اپنی بغل کے نیچے سے لپیٹے ہوئے تھے، (گویا میں) آپ کے بازو کا پھڑکتا ہوا گوشت دیکھ رہی ہوں، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ” لوگو! اللہ سے ڈرو، اور اگر کان کٹا ہوا حبشی غلام بھی تمہارا حاکم بنا دیا جائے تو اس کی بات مانو اور اس کی اطاعت کرو، جب تک وہ تمہارے لیے کتاب اللہ کو قائم کرے “ (یعنی کتاب اللہ کے موافق حکم دے) ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1706]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں امیر کی اطاعت اور اس کی ماتحتی میں رہنے کی ترغیب دی جارہی ہے، اور ہرایسے عمل سے دوررہنے کاحکم دیا جا رہا ہے جس سے فتنہ کے سر اٹھانے اور مسلمانوں کی اجتماعیت میں انتشار پید ہونے کا اندیشہ ہو۔
یحییٰ بن حصین کی دادی (ام الحصٰن الاحمسیۃ رضی اللہ عنہا) بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں فرماتے ہوئے سنا: اگر کوئی حبشی غلام بھی تم پر امیر بنا دیا جائے جو تمہیں کتاب اللہ کے مطابق چلائے تو تم اس کی سنو اور اطاعت کرو۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4197]
(2) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام وامیر بننے کے لیے حریت اور آزادی شرط نہیں ہے کہ صرف آزاد شخص ہی امام اور امیر بن سکے۔ آقا و مولا کی اجازت سے غلام بھی امام وامیر بن سکتا ہے۔ اس صورت میں غلام، صرف غلام ہی نہیں بلکہ امام برحق بھی ہوگا، لہٰذا اس کی اطاعت بھی واجب ہوگی۔
(3) یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ کوئی بھی امام و امیر یا خلیفۃ المسلمین صرف اس صورت میں واجب الطاعۃ ہے جب تک وہ کتاب وسنت کے مطابق احکام دے، لوگوں کو شریعت اسلامیہ کے مطابق چلائے اور خود بھی پابند شریعت بن کررہے، ہاں! اگر کوئی امیر کتاب وسنت کے مخالف محض اپنی خواہش نفس کی اطاعت کرانا چاہے تو اس صورت میں وہ قطعاََ اطاعت کا حق دار نہیں کیونکہ رسول اﷲ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: [لا طاعةَ لِمخلوقٍ في معصيةِ اللَّهِ إنَّما الطّاعةُ في المعروفِ ] (مسند أحمد:94/1)
(4) نیز اس حدیث مبارکہ سے تقلید شخصی کا مکمل طور پر رد ہوتا ہے۔ غیر مشروط اطاعت صرف اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کا حق ہے جو کسی دوسرے کو نہیں دیا جا سکتا۔