صحيح مسلم
كتاب الإمارة— امور حکومت کا بیان
باب وُجُوبِ طَاعَةِ الأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ: باب: بادشاہ یا حاکم یا امام کی اطاعت واجب ہے اس کام میں جو گناہ نہ ہو اور گناہ میں اطاعت کرنا حرام ہے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : " إِنَّ خَلِيلِي أَوْصَانِي أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ ، وَإِنْ كَانَ عَبْدًا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ " ،حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) نے تلقین فرمائی کہ میں سنوں اور اطاعت کروں خواہ امیر اعضاء کٹا غلام ہو۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ جَمِيعًا ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَا : فِي الْحَدِيثِ عَبْدًا حَبَشِيًّا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ ،محمد بن جعفر اور نضر بن شمیل نے ہمیں شعبہ سے، انہوں نے ابوعمران سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور حدیث میں کہا: چاہے وہ (امیر) کٹے ہوئے اعضاء والا حبشی غلام (ہی کیوں نہ ہو)۔
وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ كَمَا ، قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ : عَبْدًا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ .عبیداللہ کے والد معاذ نے ہمیں شعبہ سے اور انہوں نے ابوعمران سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، جس طرح ابن ادریس نے کہا: کٹے ہوئے اعضاء والا غلام (ہی کیوں نہ ہو)۔
تشریح، فوائد و مسائل
مُجَدَّعَ الأَطرَاف: جس کے اعضاء کاٹ دئیے گئے ہوں، مقصود ہے ایک حقیر اور بدصورت غلام بھی اگر حاکم ہو اور صحیح کام کا حکم دے تو اس کی اطاعت بھی واجب ہے۔
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مقام ربذہ میں پہنچے تو نماز کے لیے تکبیر کہی جا چکی تھی، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک غلام لوگوں کی امامت کر رہا ہے، اس سے کہا گیا: یہ ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں، یہ سن کر وہ پیچھے ہٹنے لگا تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے خلیل (جگری دوست) محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ وصیت کی کہ امام گرچہ اعضاء کٹا حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو میں اس کی بات سنوں اور مانوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2862]
فوائد و مسائل: (1)
مسلمان حاکم کی اطاعت ضروری ہے۔
(2)
اسلامی حکومت میں عہدہ اہلیت وقابلیت کی بنیاد پر دیا جاتا ہے رنگ ونسل یا ظاہری حسن جمال کی بنیاد پر نہیں۔
(3)
حکمرانوں کا فرض ہے کہ اسلامی سلطنت کا نظم ونسق احکام شریعت کے مطابق چلائیں ورنہ خلاف شریعت حکم تسلیم کرنے سے انکار کیا جاسکتا ہے۔
اور اسے بغاوت قرار نہیں دیا جائے گا۔
(4)
عالم کا احترام کرنا چاہیے۔
(5)
عالم کے احترام میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اس کی موجودگی میں کم درجے کا عالم نماز نہ پڑھائے۔
(6)
عالم کی اجازت سے کم درجے کا شخص بھی نماز پڑھا سکتا ہے۔
(7)
حاکم اپنے عہدے کی بناء پر نماز کا امام بننے کا حق رکھتا ہے۔
(8)
مسلمانوں میں اجتماعی ڈسپلن قائم رکھنا بہت ضروری ہے۔