حدیث نمبر: 1836
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما ، عَنْ يَعْقُوبَ ، قَالَ سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكَ السَّمْعَ وَالطَّاعَةَ فِي عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ ، وَمَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ " .

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے مخاطب! تم پر سننا اور اطاعت کرنا لازم ہے اپنی تنگی اور آسانی میں، طبیعت کی نشاط کے وقت اور ناگواری کے وقت، چاہے تم پر کسی کو ترجیح ہی دی جائے۔‘‘

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1836
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے مخاطب! تم پر سننا اور اطاعت کرنا لازم ہے اپنی تنگی اور آسانی میں، طبیعت کی نشاط کے وقت اور ناگواری کے وقت، چاہے تم پر کسی کو ترجیح ہی دی جائے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4754]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
عُسْرِ: تنگی اورمشقت۔
(2)
يُسْرِ: آسانی اور سہولت۔
(3)
مَنْشَطِكَ: تمہاری نشاط اور خوشی کا باعث ہو۔
(4)
مَكْرَه: کراہت وناپسندیدگی۔
(5)
أَثَرَة، أُثرَة، إِثرَة: ترجیح اور ایثار۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، اگر امیر جائز کام کا حکم دے، تو ہر قسم کے حالات میں اس کی اطاعت کرنا لازم ہے، یہ نہیں کام اگر اپنی مرضی کے مطابق ہوا یا آسان اور سہل ہوا یا اپنے مفاد میں ہوا تو مان لیا، وگرنہ ٹال مٹول سے کام لیا یا مخالفت شروع کر دی اور اس پر اعتراض کرنا شروع کر دئیے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1836 سے ماخوذ ہے۔