صحيح مسلم
كتاب الإمارة— امور حکومت کا بیان
باب غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ: باب: غنیمت میں چوری کرنا کیسا گناہ ہے۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَذَكَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ وَعَظَّمَ أَمْرَهُ ، ثُمَّ قَالَ : لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ ، يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغِثْنِي ، فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا ، قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغِثْنِي ، فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا ، قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا ثُغَاءٌ ، يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغِثْنِي ، فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا ، قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ نَفْسٌ لَهَا صِيَاحٌ ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغِثْنِي ، فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا ، قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغِثْنِي ، فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا ، قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغِثْنِي ، فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا ، قَدْ أَبْلَغْتُكَ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطاب کے لیے کھڑے ہوئے، تو آپﷺ نے غنیمت میں خیانت کی سنگینی کا ذکر کیا اور اس معاملہ کو انتہائی سنگین قرار دیا، پھر فرمایا: ”میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر اونٹ سوار ہو، جو بلبلا رہا ہو، وہ کہے، اے اللہ کے رسولﷺ! میری فریاد رسی کیجئے، تو میں جواب دوں گا، میرے اختیار میں تیرے لیے کچھ نہیں، میں تمہیں پیغام پہنچا چکا ہوں، میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے کہ اس کی گردن پر گھوڑا سوار ہو جو ہنہنا رہا ہو اور وہ کہے گا، اے اللہ کے رسولﷺ! میری مدد فرمائیے، تو میں کہوں گا، میرے بس میں تیرے لیے کچھ نہیں ہے، میں تمہیں پیغام پہنچا چکا ہوں، میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں، وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر کوئی انسان ہو، وہ چلا رہا ہو، وہ کہے گا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری مدد فرمائیے، میں کہوں گا، میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، میں تمہیں مسئلہ بتا چکا ہوں۔ میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں، وہ قیامت کے دن آئے، اس کی گردن پر کپڑے لدے ہوں اور وہ بھی حرکت کر رہے ہوں، وہ کہے گا، یا رسول اللہﷺ! میری مدد کیجئے، میں کہوں گا، میں تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، میں تمہیں پیغام دے چکا ہوں، میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں، کہ اس کی گردن پر سونا چاندی لدا ہو، وہ کہے گا، یا رسول اللہﷺ! میری مدد فرمائیں، میں کہوں گا، میں تمہیں آگاہ کر چکا ہوں۔‘‘
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، وَعُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ جميعا ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ،عبدالرحیم بن سلیمان نے ابوحیان سے، جریر نے ان سے اور عمارہ بن قعقاع سے، ان سب نے ابوزرعہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابوحیان سے اسماعیل کی روایت کردہ حدیث کی طرح روایت بیان کی۔
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ ، قَالَ حَمَّادٌ : ثُمَّ سَمِعْتُ يَحْيَي بَعْدَ ذَلِكَ يُحَدِّثُهُ ، فَحَدَّثَنَا بِنَحْوِ مَا حَدَّثَنَا عَنْهُ أَيُّوبُ ،حماد بن زید نے ایوب سے، انہوں نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے ابوزرعہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں خیانت کا ذکر فرمایا اور اس کی سنگینی بیان کی اور انہوں (ایوب) نے پوری حدیث بیان کی۔ حماد نے کہا: پھر اس کے بعد میں نے یحییٰ بن سعید کو یہی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا۔ انہوں نے بعینہ اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح ہمیں ایوب نے ان سے بیان کی تھی۔
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ .ہمیں عبدالوارث نے بیان کیا، کہا: ہمیں ایوب نے یحییٰ بن سعید بن حیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزرعہ سے، انہوں نے ابوہریرہ سے ان سب کی حدیث کی طرح حدیث روایت کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
لَا أُلْفِيَنَّ: میں کسی کوہرگزنہ پاؤں۔
یا لَا أُلْقِيَنَّ میری ہرگز ملاقات نہ ہو۔
(2)
رُغَاءٌ: اونٹ کی آواز، جس کو بلبلانا کہتے ہیں۔
(3)
حَمْحَمَةٌ: چارہ دیکھ کر گھوڑے کی آواز، جس کو ہنہنانے سے تعبیر کرتے ہیں۔
(4)
ثُغَاءٌ: بکری کی آواز، جسےمنمنانے یا ممیانے کا نام دیا جاتا ہے۔
(5)
رِقَاعٌ: رقعة کی جمع ہے، کپڑے کے ٹکڑے، یہاں مراد کپڑے ہیں، جو تخفق ہل رہےہوں گے۔
(6)
صَامِتٌ: سونا چاندی، ناطق حیوانات کےمقابلہ میں آتا ہے۔
(7)
صِيَاحٌ: چیخنا، چلانا۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام امور کی نشان دہی فرما دی ہے، جس کی انسان نے پابندی کرنی ہے، اس لیے اگر وہ کسی شرعی حکم کی مخالفت کرے گا، تو اسے اس کی سزا ملے گی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آغاز میں ایسے کسی انسان کی سفارش نہیں فرمائیں گے، جس نے مالی خیانت کی ہو گی یا کسی کا ناجائز خون بہایا ہو گا اور مال غنیمت میں کسی قسم کی خیانت انتہائی سنگین ہے اور اس کے گناہ کبیرہ ہونے پر ائمہ کا اتفاق ہے، حتیٰ کہ بعض ائمہ کے نزدیک اس کا تمام مال جلا دیا جائے گا، لیکن جمہور ائمہ، امام مالک، امام شافعی اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس کا مال جلایا نہیں جائے گا، امام اپنی صوابدید کے مطابق اس کو سزا دے گا، اس لیے اگر کسی نے کسی کا مال کسی ناجائز طریقہ سے لیا ہے، تو اسے توبہ کرکے پشیمانی اور ندامت کا اظہار کرتے ہوئے، اس کے مالک یا اس کے ورثاء کو واپس کردینا چاہیے، یہ ممکن نہ ہو، تو اس کی طرف سے صدقہ کر دینا چاہیے، اگر حکومت کا مال کھایا ہے، تو کسی قومی فنڈ میں سے جمع کرا دے۔
اسے باضابطہ امیر اسلام کے ہاں جمع کرنا ہو گا۔
بعد میں شرعی تقسیم کے تحت وہ مال دیا جائے گا۔
اس میں خیانت کرنے والا عنداللہ بہت بڑا مجرم ہے جیسا کہ حدیث ہذا میں بیان ہوا ہے۔
بکری‘ گھوڑا‘ اونٹ یہ سب چیزیں تمثیل کے طور پر بیان کی گئی ہیں۔
روایت میں اموال غنیمت میں سے ایک چادر کے چرانے والے کو بھی دوزخی کہا گیا ہے۔
چنانچہ وہ حدیث آگے مذکور ہے۔
قال المھلب ھذا الحدیث وعید لمن أنفذہ اللہ علیه من أهل المعاصي ویحتمل أن یکون الحمل المذکور لا بد منه عقوبة له بذالك لیفتضح علی رؤوس الأشهاد و أما بعد ذلك فإلی اللہ الأمر في تعذیبه أو العفو عنه وقال غیره هذا الحدیث یفسر قوله عز و جل﴿یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ﴾ أي یأت به حاملا له علی رقبته (فتح)
یعنی اس حدیث میں وعید ہے اہل معاصی کے لئے۔
احتمال ہے کہ یہ اٹھانا بطور عذاب اس کے لئے ضروری ہو‘ تاکہ وہ سب کے سامنے ذلیل ہو‘ بعد میں اللہ کو اختیار ہے چاہے اسے عذاب کرے‘ چاہے معاف کرے۔
یہ حدیث آیت کریمہ ﴿یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ﴾ (آل عمران: 161)
کی تفسیر بھی ہے کہ وہ عاصی اس خیانت کو قیامت کے دن اپنی گردن پر اٹھا کر لائے گا۔
1۔
فتح کے بعد میدان جنگ میں جو بھی مال وغیرہ ملے اسے مال غنیمت کہا جاتا ہے۔
اسے باضابطہ طور پر امیر لشکر کے پاس جمع کرانا چاہیے۔
اس کے بعد شرعی تقسیم کے تحت وہ مجاہدین کو دیا جائے گا۔
اس مال غنیمت میں خیانت کا مرتکب اللہ کے ہاں بہت بڑا مجرم ہوگا۔
حدیث میں مذکورہ اشیاء بطورتمثیل بیان ہوئی ہیں۔
مال غنیمت سے تو ایک چادر چرانے والے کو بھی جہنمی کہا گیاہے۔
2۔
اس حدیث سے آیت کریمہ کی بھی تفسیر ہوتی ہے۔
کہ دنیا میں جو بھی خیانت کی ہوگی قامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے اسے اپنے کندھوں پر اٹھا کرلائے گا اور رسول اللہ ﷺ ڈانٹتے ہوئے اسے فرمائیں گے: ’’میں تیرے متعلق کسی قسم کااختیار نہیں رکھتا۔
میں نے تجھے اللہ کا پیغام پہنچا دیاتھا۔
اب تیرےلیے کوئی عذرقابل قبول نہیں۔
‘‘