حدیث نمبر: 1830
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، أَنَّ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ ، فَقَالَ : أَيْ بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ ، فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ ، فَقَالَ لَهُ : اجْلِسْ ، فَإِنَّمَا أَنْتَ مِنْ نُخَالَةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : وَهَلْ كَانَتْ لَهُمْ نُخَالَةٌ ؟ ، إِنَّمَا كَانَتِ النُّخَالَةُ بَعْدَهُمْ وَفِي غَيْرِهِمْ " .

حضرت حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائذ بن عمرہ رضی اللہ تعالی عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے ہیں، عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے اور کہا، اے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے، ”بدترین، ذلیل (نگران) سخت گیر ہے تو ان میں سے ہونے سے بچاؤ کر۔‘‘ تو اس نے جواب دیا، بیٹھئے، تو تو بس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کا چھان بورا ہے، تو حضرت عائذ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، کیا ان میں چھان بورا بھی تھا؟ چھان بورا تو ان کے بعد اور دوسروں میں پیدا ہوا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإمارة / حدیث: 1830
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائذ بن عمرہ رضی اللہ تعالی عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے ہیں، عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے اور کہا، اے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے، ’’بدترین، ذلیل (نگران) سخت گیر ہے تو ان میں سے ہونے سے بچاؤ کر۔‘‘ تو اس نے جواب دیا، بیٹھئے، تو تو بس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کا چھان بورا ہے، تو حضرت عائذ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، کیا ان میں چھان بورا بھی تھا؟... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4733]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
خُطَمَة: بہت زیادہ توڑنے پھوڑنے والا، جو رعایا کے ساتھ نرمی، کی بجائے سختی اور شدت سے پیش آئے اور ان کو ظلم وستم کا نشانہ بنائے۔
(2)
نُخَالة: چھان بورا، یعنی تو صحابہ میں سے کوئی مقام ومرتبہ نہیں رکھتا، محض نکما اور ردی ہے، جس کی کوئی حیثیت نہیں، اس طرح ابن زیاد نے ان سے انتہائی ناشائستہ اور گستاخانہ انداز اختیار کیا، تو انہوں نے انتہائی وقار اور متانت کے ساتھ بے باکانہ انداز میں پوچھا، کہ کیا، وہ لوگ جو تمام انسانوں میں برگزیدہ اور پسندیدہ تھے اور پوری امت کے پیشوا اور رہنما تھے، جو بعد والے لوگوں کے لیے قدوہ اور نمونہ تھے، ان میں کوئی نکما اور حقیر ہو سکتا ہے، ’’یہ جنس تو بعد والے لوگوں میں پیدا ہوئی ہے، اس لیے تم اپنا خیال کرو۔
‘‘
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1830 سے ماخوذ ہے۔