صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب مَعْرِفَةِ طَرِيقِ الرُّؤْيَةِ: باب: اللہ کے دیدار کی کیفیت کا بیان۔
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، " أَنَّ نَاسًا فِي زَمَنِ ِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، قَالَ : هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ بِالظَّهِيرَةِ ، صَحْوًا لَيْسَ مَعَهَا سَحَابٌ ؟ وَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، صَحْوًا لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ ؟ قَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : مَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا ، إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ لِيَتَّبِعْ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ ، فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ كَانَ يَعْبُدُ غَيْرَ اللَّهِ سُبْحَانَهُ مِنَ الأَصْنَامِ ، وَالأَنْصَابِ ، إِلَّا يَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلَّا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ ، وَفَاجِرٍ ، وَغُبَّرِ أَهْلِ الْكِتَابِ ، فَيُدْعَى الْيَهُودُ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ ؟ قَالُوا : كُنَّا نَعْبُدُ عُزَيْرَ ابْنَ اللَّهِ ، فَيُقَالُ : كَذَبْتُمْ ، مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ صَاحِبَةٍ ، وَلَا وَلَدٍ ، فَمَاذَا تَبْغُونَ ؟ قَالُوا : عَطِشْنَا يَا رَبَّنَا فَاسْقِنَا ، فَيُشَارُ إِلَيْهِمْ أَلَا تَرِدُونَ ، فَيُحْشَرُونَ إِلَى النَّارِ ، كَأَنَّهَا سَرَابٌ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا ، فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ ، ثُمَّ يُدْعَى النَّصَارَى ، فَيُقَالُ لَهُمْ : مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ ؟ قَالُوا : كُنَّا نَعْبُدُ الْمَسِيحَ ابْنَ اللَّهِ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : كَذَبْتُمْ ، مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ صَاحِبَةٍ ، وَلَا وَلَدٍ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : مَاذَا تَبْغُونَ ؟ فَيَقُولُونَ : عَطِشْنَا يَا رَبَّنَا فَاسْقِنَا ، قَالَ : فَيُشَارُ إِلَيْهِمْ ، أَلَا تَرِدُونَ ، فَيُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ ، كَأَنَّهَا سَرَابٌ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا ، فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلَّا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ تَعَالَى مِنْ بَرٍّ ، وَفَاجِرٍ ، أَتَاهُمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى فِي أَدْنَى صُورَةٍ مِنَ الَّتِي رَأَوْهُ فِيهَا ، قَالَ : فَمَا تَنْتَظِرُونَ ، تَتْبَعُ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ ، قَالُوا : يَا رَبَّنَا ، فَارَقْنَا النَّاسَ فِي الدُّنْيَا ، أَفْقَرَ مَا كُنَّا إِلَيْهِمْ وَلَمْ نُصَاحِبْهُمْ ، فَيَقُولُ : أَنَا رَبُّكُمْ ، فَيَقُولُونَ : نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ، لَا نُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، حَتَّى إِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَكَادُ أَنْ يَنْقَلِبَ ، فَيَقُولُ : هَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ آيَةٌ فَتَعْرِفُونَهُ بِهَا ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، فَيُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ ، فَلَا يَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ لِلَّهِ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِهِ ، إِلَّا أَذِنَ اللَّهُ لَهُ بِالسُّجُودِ ، وَلَا يَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ اتِّقَاءً وَرِيَاءً ، إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ ظَهْرَهُ طَبَقَةً وَاحِدَةً ، كُلَّمَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ ، خَرَّ عَلَى قَفَاهُ ، ثُمَّ يَرْفَعُونَ رُءُوسَهُمْ وَقَدْ تَحَوَّلَ فِي صُورَتِهِ الَّتِي رَأَوْهُ فِيهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ ، فَقَالَ : أَنَا رَبُّكُمْ ، فَيَقُولُونَ : أَنْتَ رَبُّنَا ، ثُمَّ يُضْرَبُ الْجِسْرُ عَلَى جَهَنَّمَ ، وَتَحِلُّ الشَّفَاعَةُ ، وَيَقُولُونَ : اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْجِسْرُ ؟ قَالَ : دَحْضٌ مَزِلَّةٌ فِيهِ خَطَاطِيفُ ، وَكَلَالِيبُ ، وَحَسَكٌ تَكُونُ بِنَجْدٍ فِيهَا شُوَيْكَةٌ ، يُقَالُ لَهَا : السَّعْدَانُ ، فَيَمُرُّ الْمُؤْمِنُونَ كَطَرْفِ الْعَيْنِ ، وَكَالْبَرْقِ ، وَكَالرِّيحِ ، وَكَالطَّيْرِ ، وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ ، فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ ، وَمَخْدُوشٌ مُرْسَلٌ ، وَمَكْدُوسٌ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ، حَتَّى إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ بِأَشَدَّ مُنَاشَدَةً لِلَّهِ فِي اسْتِقْصَاءِ الْحَقِّ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، لِلَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِإِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ فِي النَّارِ ، يَقُولُونَ : رَبَّنَا كَانُوا يَصُومُونَ مَعَنَا ، وَيُصَلُّونَ ، وَيَحُجُّونَ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : أَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ ، فَتُحَرَّمُ صُوَرُهُمْ عَلَى النَّار ، فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا قَدْ أَخَذَتِ النَّارُ إِلَى نِصْفِ سَاقَيْهِ وَإِلَى رُكْبَتَيْهِ ، ثُمَّ يَقُولُونَ : رَبَّنَا مَا بَقِيَ فِيهَا أَحَدٌ مِمَّنْ أَمَرْتَنَا بِهِ ، فَيَقُولُ : ارْجِعُوا ، فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ دِينَارٍ مِنْ خَيْرٍ ، فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا ، ثُمَّ يَقُولُونَ : رَبَّنَا لَمْ نَذَرْ فِيهَا أَحَدًا مِمَّنْ أَمَرْتَنَا ، ثُمَّ يَقُولُ : ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ نِصْفِ دِينَارٍ مِنَ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ ، فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا ، ثُمَّ يَقُولُونَ : رَبَّنَا لَمْ نَذَرْ فِيهَا مِمَّنْ أَمَرْتَنَا أَحَدًا ، ثُمَّ يَقُولُ : ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْر ، فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا ، ثُمَّ يَقُولُونَ : رَبَّنَا لَمْ نَذَرْ فِيهَا خَيْرًا ، وَكَانَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، يَقُولُ : إِنْ لَمْ تُصَدِّقُونِي بِهَذَا الْحَدِيثِ ، فَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : إِنَّ اللَّهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا سورة النساء آية 40 ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : شَفَعَتِ الْمَلَائِكَةُ ، وَشَفَعَ النَّبِيُّونَ ، وَشَفَعَ الْمُؤْمِنُونَ ، وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ، فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِنَ النَّارِ ، فَيُخْرِجُ مِنْهَا قَوْمًا لَمْ يَعْمَلُوا خَيْرًا قَطُّ ، قَدْ عَادُوا حُمَمًا ، فَيُلْقِيهِمْ فِي نَهَرٍ فِي أَفْوَاهِ الْجَنَّةِ ، يُقَالُ لَهُ : نَهَرُ الْحَيَاةِ ، فَيَخْرُجُونَ كَمَا تَخْرُجُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ أَلَا تَرَوْنَهَا تَكُونُ إِلَى الْحَجَرِ أَوْ إِلَى الشَّجَرِ ، مَا يَكُونُ إِلَى الشَّمْسِ ، أُصَيْفِرُ ، وَأُخَيْضِرُ ، وَمَا يَكُونُ مِنْهَا إِلَى الظِّلِّ يَكُونُ أَبْيَضَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَأَنَّكَ كُنْتَ تَرْعَى بِالْبَادِيَةِ ؟ قَالَ : فَيَخْرُجُونَ كَاللُّؤْلُؤِ فِي رِقَابِهِمُ الْخَوَاتِمُ ، يَعْرِفُهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ اللَّهِ الَّذِينَ أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ ، وَلَا خَيْرٍ قَدَّمُوهُ ، ثُمَّ يَقُولُ : ادْخُلُوا الْجَنَّةَ ، فَمَا رَأَيْتُمُوهُ فَهُوَ لَكُمْ ، فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ ؟ فَيَقُولُ : لَكُمْ عِنْدِي أَفْضَلُ مِنْ هَذَا ، فَيَقُولُونَ : يَا رَبَّنَا ، أَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ هَذَا ؟ فَيَقُولُ : رِضَايَ ، فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا .
حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں (آپ سے) عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ آپ نے فرمایا: ”کیا دوپہر کے وقت صاف مطلع ہو، جب ابر نہ ہوں، سورج کو دیکھتے ہوئے تمہیں کوئی زحمت ہوتی ہے؟ اور کیا پورے چاند کی رات کو جب مطلع صاف ہو اور ابر نہ ہوں تو چاند کو دیکھنے میں کوئی تکلیف محسوس کرتے ہو؟“ صحابہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! نہیں!“ آپ نے فرمایا: ”قیامت کے روز اللہ تبارک وتعالیٰ کو دیکھنے میں اس سے زیادہ دقت نہ ہو گی جتنی ان دونوں میں سے کسی ایک کو دیکھنے میں ہوتی ہے۔ جب قیامت کا دن ہو گا، ایک اعلان کرنے والا یہ اعلان کرے گا: ’ہر امت اس کے پیچھے چلے جس کی وہ عبادت کیا کرتی تھی۔‘ کوئی آدمی ایسا نہ بچے گا جو اللہ کے سوا بتوں اور پتھروں کو پوجتا تھا مگر وہ آگ میں جا گرے گا حتی کہ جب ان کے سوا جو اللہ کی عبادت کرتے تھے، وہ نیک ہوں یا بد، اور اہل کتاب کے بقیہ (بعد کے دور) لوگوں کے سوا کوئی نہ بچے گا تو یہود کو بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: ’تم کس کی عبادت کرتے تھے؟‘ وہ کہیں گے: ’ہم اللہ کے بیٹے عزیر کی عبادت کرتے تھے۔‘ تو کہا جائے گا: ’تم نے جھوٹ بولا، اللہ تعالیٰ نے نہ کوئی بیوی بنائی نہ بیٹا، تو (اب) کیا چاہتے ہو؟‘ کہیں گے: ’اے پروردگار! ہمیں پیاس لگی ہے ہمیں پانی پلا۔‘ تو ان کو اشارہ کیا جائے گا کہ تم پانی (کے گھاٹ) پر کیوں نہیں جاتے؟ پھر انہیں اکٹھا کر کے آگ کی طرف ہانک دیا جائے گا، وہ سراب کی طرح ہو گی، اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو توڑ رہا ہو گا اور وہ سب (ایک دوسرے کے پیچھے) آگ میں گرتے چلے جائیں گے، پھر نصاریٰ کو بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: ’تم کس کی عبادت کرتے تھے؟‘ وہ کہیں گے: ’ہم اللہ کے بیٹے مسیح کو پوجتے تھے۔‘ ان سے کہا جائے گا: ’تم جھوٹ بولتے ہو، اللہ نے نہ کوئی بیوی بنائی نہ کوئی بیٹا،‘ پھر ان سے کہا جائے گا: ’(اب) تم کیا چاہتے ہو؟‘ وہ کہیں گے: ’ہم پیاسے ہیں ہمارے پروردگار! ہمیں پانی پلا،‘ آپ نے فرمایا: ”ان کو اشارہ کیا جائے گا: ’تم پانی (کے گھاٹ) پر کیوں نہیں جاتے؟‘ پھر انہیں اکٹھا کر کے جہنم کی طرف ہانکا جائے گا، وہ سراب کی طرح ہو گی (اور) اس کا ایک حصہ (شدت اشتعال سے) دوسرے کو توڑ رہا ہو گا، وہ (ایک دوسرے کے پیچھے) آگ میں گرتے چلے جائیں گے، حتی کہ جب ان کے سوا کوئی نہ بچے گا جو اللہ تعالیٰ (ہی) کی عبادت کرتے تھے، نیک ہوں یا بد، (تو) سب جہانوں کا رب سبحان وتعالیٰ ان کی دیکھی ہوئی صورت سے کم تر (یا مختلف) صورت میں آئے گا (اور) فرمائے گا: ’تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟ ہر امت اس کے پیچھے جا رہی ہے جس کی وہ عبادت کرتی تھی،‘ وہ (سامنے ظاہر ہونے والی صورت کے بجائے اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہو کر) التجا کریں گے: ’اے ہمارے رب! ہم دنیا میں سب لوگوں سے، جتنی شدید بھی ہمیں ان کی ضرورت تھی، الگ ہو گئے، ہم نے ان کا ساتھ نہ دیا۔‘ وہ کہے گا: ’میں تمہارا رب ہوں،‘ وہ کہیں گے: ’ہم تم سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے‘ (دو یا تین دفعہ یہی کہیں گے) یہاں تک کہ ان میں بعض لوگ بدلنے کے قریب ہوں گے تو وہ فرمائے گا: ’کیا تمہارے اور اس کے درمیان کوئی نشانی (طے) ہے جس سے تم اس کو پہچان سکو؟‘ وہ جواب دیں گے: ’ہاں!‘ تو پنڈلی ظاہر کر دی جائے گی پھر کوئی ایسا شخص نہ بچے گا جو اپنے دل سے اللہ کو سجدہ کرتا تھا مگر اللہ اسے سجدے کی اجازت دے گا اور کوئی ایسا نہ بچے گا جو جان بچانے کے لیے یا دکھاوے کے لیے سجدہ کرتا تھا مگر اللہ تعالیٰ اس کی پشت کو ایک ہی مہر بنا دے گا، جب بھی وہ سجدہ کرنا چاہے گا اپنی گدی کے بل گر پڑے گا، پھر وہ (سجدے سے) اپنے سر اٹھائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی اس صورت میں آ چکا ہو گا جس میں انہوں نے اس کو (سب سے) پہلی مرتبہ دیکھا تھا اور وہ فرمائے گا: ’میں تمہارا رب ہوں۔‘ تو وہ کہیں گے: ’(ہاں) تو ہی ہمارا رب ہے،‘ پھر جہنم پر پل دیا جائے گا اور سفارش کا دروازہ کھل جائے گا، اور (سب رسول) کہہ رہے ہوں گے: ’اے اللہ! سلامت رکھ، سلامت رکھ۔‘“ پوچھا گیا: ”اے اللہ کے رسول! جسر (پل) کیا ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”بہت پھسلنی، ڈگمگا دینے والی جگہ ہے، اس میں اچک لینے والے آنکڑے اور کئی کئی نوکوں والے کنڈے ہیں اور اس میں کانٹے دار پودے ہیں جو نجد میں ہوتے ہیں جنہیں سعدان کہا جاتا ہے۔ تو مومن آنکھ کی جھپک کی طرح اور بجلی کی طرح اور ہوا کی طرح اور پرندوں کی طرح اور تیز رفتار گھوڑوں اور سواریوں کی طرح گزر جائیں گے، کوئی صحیح سالم نجات پانے والا ہو گا اور کوئی زخمی ہو کر چھوڑ دیا جانے والا اور کچھ جہنم کی آگ میں تہ بن تہ لگا دیے جانے والے، یہاں تک کہ جب مومن آگ سے خلاصی پا لیں گے تو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی پورا پورا حق وصول کرنے (کے معاملے) میں اس قدر اللہ سے منت اور آہ وزاری نہیں کرتا جس قدر قیامت کے دن مومن اپنے ان مسلمان بھائیوں کے بارے میں کریں گے جو آگ میں ہوں گے۔ وہ کہیں گے: ’اے ہمارے رب! وہ ہمارے ساتھ روزے رکھتے، نمازیں پڑھتے اور حج کرتے تھے۔‘ تو ان سے کہا جائے گا: ’تم جن کو پہچانتے ہو انہیں نکال لو،‘ ان کی صورتیں آگ پر حرام کر دی گئی ہوں گی۔ تو وہ بہت سے لوگوں کو نکال لائیں گے جن کی آدھی پنڈلیوں تک یا گھٹنوں تک آگ پکڑ چکی ہو گی، پھر وہ کہیں گے: ’اے ہمارے رب! جنہیں نکالنے کا تو نے حکم دیا تھا ان میں سے کوئی دوزخ میں نہیں رہا۔‘ تو وہ فرمائے گا: ’واپس جاؤ، جس کے دل میں دینار بھر خیر (ایمان) پاؤ اس کو نکال لاؤ‘ تو وہ بڑی خلقت کو نکال لائیں گے، پھر کہیں گے: ’اے ہمارے رب! جنہیں نکالنے کا تو نے حکم دیا تھا ان میں سے کسی کو ہم دوزخ میں نہیں چھوڑا۔‘ وہ پھر فرمائے گا: ’واپس جاؤ، جس کے دل میں آدھے دینار کے برابر خیر پاؤ اس کو نکال لاؤ‘ تو وہ (پھر سے) بڑی خلقت کو نکال لائیں گے، پھر وہ کہیں گے: ’اے ہمارے رب! جنہیں نکالنے کا تو نے حکم دیا تھا ہم نے ان میں کسی کو دوزخ میں نہیں چھوڑا۔‘ وہ پھر فرمائے گا: ’واپس جاؤ، جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر خیر پاؤ اس کو نکال لاؤ‘ تو وہ کثیر خلقت کو نکال لائیں گے، پھر وہ کہیں گے: ’اے ہمارے رب! ہم نے اس میں کسی صاحب خیر کو نہیں چھوڑا۔‘“ (ایمان ایک ذرے کے برابر بھی ہو سکتا ہے۔) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: ”اگر تم اس حدیث میں میری تصدیق نہیں کرتے تو چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ’’بے شک اللہ ایک ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اس کو بڑھاتا ہے اور اپنی طرف سے اجر عظیم دیتا ہے۔‘‘“ آپ نے فرمایا: ”پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’فرشتوں نے سفارش کی، انبیاء نے سفارش کی، مومنوں نے بھی سفارش کی، اب ارحم الراحمین کے سوا کوئی باقی نہیں رہا‘ تو وہ آگ سے ایک مٹھی بھرے گا اور ایسے لوگوں کو اس میں سے نکال لے گا جنہوں نے کبھی بھلائی کا کوئی کام نہیں کیا تھا اور وہ (جل کر) کوئلہ ہو چکے ہوں گے، پھر وہ انہیں جنت کے دہانوں پر (بہنے والی) ایک نہر میں ڈال دے گا جس کو نہر حیات کہا جاتا ہے، وہ اس طرح (اگ کر) نکل آئیں گے جس طرح (گھاس کا) چھوٹا سا بیج سیلاب کے خس و خاشاک میں پھوٹتا ہے، کیا تم اسے دیکھتے نہیں ہو کہ کبھی وہ پتھر کے ساتھ لگا ہوتا ہے اور کبھی درخت کے ساتھ، جو سورج کے رخ پر ہوتا ہے وہ زرد اور سبز ہوتا ہے اور جو سائے میں ہوتا ہے وہ سفید ہوتا ہے؟“ صحابہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ایسا لگتا ہے کہ آپ جنگل میں جانور چرایا کرتے تھے؟“ آپ نے فرمایا: ”تو وہ لوگ (نہر سے) موتیوں کے مانند نکلیں گے، ان کی گردنوں میں مہریں ہوں گی، اہل جنت (بعد ازاں) ان کو (اس طرح) پہچانیں گے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے آزاد کیے ہوئے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی عمل کے جو انہوں نے کیا ہو اور بغیر کسی نیکی کے جو انہوں نے آگے بھیجی ہو، جنت میں داخل کیا ہے۔ پھر وہ فرمائے گا: ’جنت میں داخل ہو جاؤ اور جو تمہیں نظر آئے وہ تمہارا ہے،‘ اس پر وہ کہیں گے: ’اے ہمارے رب! تو نے ہمیں وہ کچھ دیا ہے جو جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔‘ تو وہ فرمائے گا: ’تمہارے لیے میرے پاس اس سے بڑھ کر کون سی چیز (ہو سکتی) ہے؟‘ تو وہ فرمائے گا: ’میری رضا کہ اس کے بعد میں تم سے کبھی ناراض نہ ہوں گا۔‘“
قَالَ مُسْلِم : قَرَأْتُ عَلَى عِيسَى بْنِ حَمَّادٍ زُغْبَةَ الْمِصْرِيِّ ، هَذَا الْحَدِيثَ فِي الشَّفَاعَةِ ، وَقُلْتُ لَهُ : أُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْكَ ، أَنَّكَ سَمِعْتَ مِنَ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ لِعِيسَى بْنِ حَمَّادٍ : أَخْبَرَكُمُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَرَى رَبَّنَا ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ إِذَا كَانَ يَوْمٌ صَحْوٌ ؟ قُلْنَا : لَا " ، وَسُقْتُ الْحَدِيثَ حَتَّى انْقَضَى آخِرُهُ وَهُوَ نَحْوُ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ : بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ وَلَا قَدَمٍ قَدَّمُوهُ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : لَكُمْ مَا رَأَيْتُمْ وَمِثْلُهُ مَعَهُ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : بَلَغَنِي أَنَّ الْجِسْرَ ، أَدَقُّ مِنَ الشَّعْرَةِ وَأَحَدُّ مِنَ السَّيْفِ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ ، فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ وَمَا بَعْدَهُ ، فَأَقَرَّ بِهِ عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ .امام مسلم نے کہا: میں نے شفاعت کے بارے میں یہ حدیث عیسیٰ بن حماد زغبہ مصری کے سامنے پڑھی اور ان سے کہا: ”(کیا) یہ حدیث میں آپ کے حوالے سے بیان کروں کہ آپ نے اسے لیث بن سعد سے سنا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں!“ (امام مسلم نے کہا:) میں نے عیسیٰ بن حماد سے کہا: آپ کو لیث بن سعد نے خالد بن یزید سے خبر دی، انہوں نے سعید بن ابی ہلال سے، انہوں نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے کہا کہ ہم نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے رب کو دیکھ سکیں گے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب چمکتا ہوا بے ابر دن ہو تو کیا تمہیں سورج کو دیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے؟“ ہم نے کہا: ”نہیں۔“ (امام مسلم نے کہا:) میں حدیث پڑھتا گیا یہاں تک کہ وہ ختم ہو گئی اور (سعید بن ابی ہلال کی) یہ حدیث حفص بن میسرہ کی (مذکورہ) حدیث کی طرح ہے۔ انہوں نے ”بغیر کسی عمل کے جو انہوں نے کیا ہو اور بغیر کسی نیکی کے جو انہوں نے آگے بھیجی ہو“ کے بعد یہ اضافہ کیا: ”چنانچہ ان سے کہا جائے گا: ’تمہارے لیے وہ سب کچھ ہے جو تم نے دیکھا ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور۔‘“ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ پل بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہو گا۔“ لیث کی روایت میں یہ جملہ: ”تو وہ کہیں گے: ’اے ہمارے رب! تو نے ہمیں وہ کچھ دیا ہے جو جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا‘“ اور اس کے بعد کے الفاظ نہیں ہیں۔ چنانچہ عیسیٰ بن حماد نے اس کا اقرار کیا (کہ انہوں نے اوپر بیان کی گئی سند کے ساتھ لیث سے یہ حدیث سنی۔)
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، بِإِسْنَادِهِمَا نَحْوَ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ إِلَى آخِرِهِ ، وَقَدْ زَادَ ، وَنَقَصَ شَيْئًا .زید بن اسلم کے ایک اور شاگرد ہشام بن سعد نے بھی ان دونوں (حفص اور سعید) کی مذکورہ سندوں کے ساتھ حفص بن میسرہ جیسی حدیث (454) آخر تک بیان کی اور کچھ کمی و زیادتی بھی کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
اگر صورت نہ ہوپھر اس کا دیدار کیوں کر ہوگا۔
صورت کی حقیقت خود اللہ ہی کو معلوم ہے۔
اہلحدیث صفات باری کی تاویل نہیں کرتے۔
سلف صالح کا یہی طریقہ رہا ہے۔
مسلم کی روایت میں یوںہے۔
مسلمان پہلے اپنے پرورد گار کو نہ پہچان سکیں گے، کیونکہ وہ دوسری صورت میں جلوہ گر ہوگا اور جب وہ فرمائے گا کہ میں تمہارا پرورد گار ہوں تو مسلمان کہیں گے ہم تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں پھر پرورد گار اپنی پہلی صورت میں ظاہر ہوگا جس صورت میں مسلمان اس کو دیکھ چکے ہوں گے۔
اس وقت سب مسلمان سجدے میں گر پڑیں گے اور کہیں گے تو بیشک ہمارا پرورد گار ہے۔
1۔
ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمھارے پاس کوئی نشانی ہے جس کے ذریعے سے تم اپنے پروردگار کو پہچان لو؟ وہ عرض کریں گے۔
پنڈلی بطور نشانی ہے اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی ظاہر کرے گا تو ہر مومن سجدہ ریز ہو جائے گا اور جو دنیا میں ریا کاری اور شہرت کے لیے سجدہ کرتے تھے وہ باقی رہ جائیں گے۔
وہ سجدے کے لیے جھکیں گے تو ان کی کمر ایک تختے کی طرح بن جائے گی پھر جہنم پر پل رکھ دیا جائے گا۔
پھر اللہ تعالیٰ نجات یافتہ لوگوں سے فرمائے گا جاؤ جس کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان پاؤ اسے جہنم سے نکال لاؤ چنانچہ وہ جسے پہچانیں گے نکال لائیں گےراوی حدیث حضرت ابو سعید کہتے ہیں کہ اگر تمیں میری بات پر یقین نہیں تو اللہ تعالیٰ كافرمان پڑھ لو: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا﴾ (النساء: 40/4۔
وصحیح البخاري، التوحید، حدیث: 7439)
امام بخاری ؒ نے اس روایت سے عنوان ثابت کیا ہے اور پیش کردہ روایت سے اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔