صحيح مسلم
كتاب الإمارة— امور حکومت کا بیان
باب كَرَاهَةِ الإِمَارَةِ بِغَيْرِ ضَرُورَةٍ: باب: بے ضرورت حاکم بننا اچھا نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1825
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ ابْنِ حُجَيْرَةَ الْأَكْبَرِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي ، قَالَ : فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى مَنْكِبِي ثُمَّ ، قَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ : إِنَّكَ ضَعِيفٌ ، وَإِنَّهَا أَمَانَةُ وَإِنَّهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ ، إِلَّا مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا " .حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا، اے اللہ کے رسولﷺ! کیا کوئی کام میرے سپرد نہیں فرمائیں گے؟ (مجھے کوئی منصب عنایت نہیں فرمائیں گے) تو آپ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر مارا پھر فرمایا: ”اے ابوذر! تو ضعیف (کمزور) ہے اور یہ ایک امانت (ذمہ داری) ہے اور یہ قیامت کے دن رسوائی اور شرمندگی کا باعث بنے گی، مگر جس نے اس کے حق کا پاس کرتے ہوئے لیا اور اس کے سبب اس کی جو ذمہ داری ہے، اس کو پورا کیا۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا، اے اللہ کے رسولﷺ! کیا کوئی کام میرے سپرد نہیں فرمائیں گے؟ (مجھے کوئی منصب عنایت نہیں فرمائیں گے) تو آپ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر مارا پھر فرمایا: ’’اے ابوذر! تو ضعیف (کمزور) ہے اور یہ ایک امانت (ذمہ داری) ہے اور یہ قیامت کے دن رسوائی اور شرمندگی کا باعث بنے گی، مگر جس نے اس کے حق کا پاس کرتے ہوئے لیا اور اس کے سبب اس کی جو ذمہ داری ہے، اس کو پورا کیا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4719]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، کہ انسان کو کس قسم کا عہدہ اور ذمہ داری قبول کرنے سے بچنا چاہیے، خصوصاً اس صورت میں جب وہ اس منصب کی ذمہ داریوں اور تقاضوں کو پورا کرنے کا اہل نہ ہو، وگرنہ یہ عہدہ اس کے لیے قیامت کے دن ذلت وندامت کا باعث بنے گا، لیکن اگر وہ منصب کا اہل ہو اور اس کی ذمہ داریوں سے خوش اسلوبی کے ساتھ عہدہ براء ہوسکتا ہو اور عدل وانصاف کے تقاضے پورے کرسکتا ہو تو پھر یہ اس کے لیے رفعت وفضل کا باعث ہوگا، جیسا کہ اگلے باب میں آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1825 سے ماخوذ ہے۔