صحيح مسلم
كتاب الإمارة— امور حکومت کا بیان
باب النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ وَالْخِلاَفَةُ فِي قُرَيْشٍ: باب: خلیفہ قریش میں سے ہونا چاہیئے۔
حدیث نمبر: 1819
وحَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ " .حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ (عرب) خیر و شر میں قریش کے تابع ہیں۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگ (عرب) خیر و شر میں قریش کے تابع ہیں۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4703]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: خیرو شر سے مراد اسلام اور جاہلیت و کفر ہے کہ جاہلیت میں بھی لوگ ان کو قائد تسلیم کرتے تھے اور اب اسلام میں بھی قائد وہی ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1819 سے ماخوذ ہے۔