صحيح مسلم
كتاب الجهاد والسير— جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے
باب كَرَاهَةِ الاِسْتِعَانَةِ فِي الْغَزْوِ بِكَافِرٍ: باب: کافر سے جہاد میں مدد لینا منع ہے مگر ضرورت سے جائز ہے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ بَدْرٍ ، فَلَمَّا كَانَ بِحَرَّةِ الْوَبَرَةِ أَدْرَكَهُ رَجُلٌ قَدْ كَانَ يُذْكَرُ مِنْهُ جُرْأَةٌ وَنَجْدَةٌ ، فَفَرِحَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَوْهُ ، فَلَمَّا أَدْرَكَهُ ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : جِئْتُ لِأَتَّبِعَكَ وَأُصِيبَ مَعَكَ ، قَالَ لَهُ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ؟ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ ، قَالَتْ : ثُمَّ مَضَى حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالشَّجَرَةِ أَدْرَكَهُ الرَّجُلُ ، فَقَالَ لَهُ : كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ ، قَالَ : فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ ، قَالَ : ثُمَّ رَجَعَ فَأَدْرَكَهُ بِالْبَيْدَاءِ ، فَقَالَ لَهُ : كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَانْطَلِقْ " .نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی جانب نکلے، جب آپ وبرہ کے حرے پر پہنچے تو ایک آدمی آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا۔ اس کی جرات و بہادری کا بڑا چرچا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے اسے دیکھا تو خوش ہوئے، جب وہ آپ کو ملا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: میں اس لیے آیا ہوں کہ آپ کا ساتھ دوں اور آپ کے ساتھ (غنیمت میں سے) حصہ وصول کروں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو لوٹ جاؤ، میں کسی مشرک سے ہرگز مدد نہیں لوں گا۔“ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں: پھر وہ چلا گیا، حتی کہ جب ہم درخت کے پاس پہنچے تو وہ آدمی (دوسری بار) آپ کو ملا اور آپ سے وہی بات کہی جو پہلی مرتبہ کہی تھی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سے وہی کچھ کہا جو پہلی مرتبہ کہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس ہو جاؤ، میں کسی مشرک سے ہرگز مدد نہیں لوں گا۔“ کہا: وہ واپس چلا گیا اور بیداء کے مقام پر آپ کو ملا تو آپ نے اس سے وہی بات پوچھی جو پہلی بار پوچھی تھی: ”تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تو پھر (ہمارے ساتھ) چلو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اور اگر اس سے مد (لینے کی ضرورت نہ ہو، یا اس کے بارے میں خطرہ ہو کہ وہ فساد و خرابی کا باعث بنے گا، تو پھر اس سے مدد نہیں لی جائے گی اور یہاں آپ نے انکار اس لیے فرمایا، کہ آپ نے فراست نبوت سے یہ بھانپ لیا تھا، وہ مسلمان ہو جائے گا، یا یہ پہلی جنگ تھی اور آپ اس کی مدد کی ضرورت محسوس نہیں فرماتے تھے، کیونکہ آپ مدینہ سے قافلہ پر حملہ کرنے کے لیے نکلے تھے، ابھی لشکر سے مڈبھیڑ کا علم نہیں ہوا تھا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے لیے نکلے، جب آپ حرۃ الوبرہ ۱؎ پہنچے تو آپ کے ساتھ ایک مشرک ہو لیا جس کی جرات و دلیری مشہور تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو؟ اس نے جواب دیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ” لوٹ جاؤ، میں کسی مشرک سے ہرگز مدد نہیں لوں گا “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1558]
وضاحت:
1؎:
مدینہ سے چار میل کی دوری پر ہے۔
2؎:
بعض روایتوں میں ہے کہ اس کی بہادری وجرأتمندی اس قدر مشہور تھی کہ صحابہ اسے دیکھ کر خوش ہوگئے، پھر اس نے خود ہی صراحت کردی کہ میں صرف اور صرف مال غنیمت میں حصہ لینے کی خواہش میں شریک ہو رہا ہوں، پھر اس نے جب ایمان نہ لانے کی صراحت کردی تو آپﷺ نے اس کا تعاون لینے سے انکار کردیا۔
پھر بعد میں اس نے ایمان کا اقرار کیا اور آپ کی اجازت سے شریک جنگ ہوا، یہاں پھر یہ سوال پیداہوتا ہے کہ کافر سے مدد لینا جائز ہے یا نہیں۔
ایک جماعت کایہ خیال ہے کہ مدد لینا جائز ہے اور بعض کی رائے ہے کہ بوقت ضرورت مدد لی جاسکتی ہے جیساکہ آپ نے جنگ حنین کے موقع پر صفوان بن امیہ وغیرہ سے اسلحہ کی امداد لی تھی اسی طرح بنو قینقاع کے یہود یوں سے بھی مددلی تھی، بہر حال اسلحہ اور افرادی امداد دونوں کی شدید ضرورت وحاجت کے موقع پر لینے کی گنجائش ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مشرکوں میں سے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر ملا تاکہ آپ کے ساتھ مل کر لڑائی کرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوٹ جاؤ، ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2732]
جب مشرکین سے مدد نہیں لی جاتی تو غنیمت میں ان کاحصہ ہی بے معنی ہے۔
اور اسلامی سیاست کا بنیادی قاعدہ و اصول یہی ہے کہ مشرکین سے مدد نہ لی جائے۔
مگر حصب احوال ومصالح اگر کہیں اضطراری کیفیت ہوتو بمقابلہ کفار مدد لی جا سکتی ہے۔
مسلمانوں کے خلاف نہیں جیسا کہ سفر ہجرت میں رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبد اللہ بن اریقط لیثی کی رہنمائی میں اپنا سفر مکمل فرمایا تھا۔
یہ مشرک تھا مگر قابل اعتماد تھا۔
ایسی کوئی صورت ہو تو انعام وغیرہ دیا جا سکتا ہے۔
واللہ اعلم دیکھئے۔
(نیل الأوطار، باب ماجاء في الاستعانة بالمشرکین:254/7)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے۔“ علی بن محمد نے اپنی روایت میں عبداللہ بن یزید یا زید کہا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2832]
فوائد و مسائل:
(1)
مسلمان اپنے عقیدے کے دفاع کے لیے جہاد کرتا ہے۔
مسلمانوں کے ملک کی زمین کا دفاع بھی اسی لیے اہم ہے کہ یہ دین کے دفاع کا ایک حصہ ہے۔
مشرک چونکہ اس عقیدے کو تسلیم نہیں کرتا اس لیے وہ خلوص کے ساتھ اس کے دفاع کے لیے جنگ نہیں کرسکتا۔
(2)
غیر مسلم یا تو مسلمانوں کے کھلے دشمن ہوتے ہیں یا مسلمانوں کی حفاظت میں ہوتے ہیں۔
پہلی قسم کا مشرک (حربی)
اسلامی فوج میں شامل نہیں ہوسکتا کیونکہ اسلامی فوج اس کے خلاف لڑتی ہے۔
دوسری قسم کا مشرک (ذمی)
مسلمانوں کی حفاظت میں ہوتا ہے۔
اور جس کی حفاظت مسلمان کرتے ہیں اس سے یہ مطالبہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ مسلمانوں کی حفاظت اور دفاع کرے۔