حدیث نمبر: 1816
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي عَامِرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ ، قَالَ : فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا ، فَنَقِبَتْ قَدَمَايَ وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي ، فَكُنَّا نَلُفُّ عَلَى أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ ، فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ " ، لِمَا كُنَّا نُعَصِّبُ عَلَى أَرْجُلِنَا مِنَ الْخِرَقِ ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : فَحَدَّثَ أَبُو مُوسَى بِهَذَا الْحَدِيثِ ، ثُمَّ كَرِهَ ذَلِكَ ، قَالَ : كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ ، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ : وَزَادَنِي غَيْرُ بُرَيْدٍ وَاللَّهُ يُجْزِي بِهِ .

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ کے لیے نکلے، ہم چھ افراد کے لیے ایک اونٹ تھا، جس پر ہم باری باری سوار ہوتے تھے، اس لیے ہمارے پاؤں (ننگے ہونے کی وجہ سے) زخمی ہو گئے، میرے دونوں پاؤں زخمی ہو گئے اور ناخن گر گئے، اس لیے ہم نے اپنے پیروں پر چیتھڑے لپیٹے، اس لیے اس کا نام غزوہ ذات الرقاع کہا گیا، کیونکہ ہم اپنے پیروں پر چیتھڑے باندھے ہوئے تھے، ابو بردہ کہتے ہیں، ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ حدیث سنائی، پھر اس کے بیان کرنے کو ناپسند کیا، گویا کہ وہ اپنے کسی عمل کا اظہار کرنا ناپسند کرتے تھے، ابو اسامہ کہتے ہیں، بریدہ کے علاوہ کسی نے مجھے یہ اضافہ سنایا اور اللہ انہیں اس کا صلہ دے گا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1816
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 4128

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ کے لیے نکلے، ہم چھ افراد کے لیے ایک اونٹ تھا، جس پر ہم باری باری سوار ہوتے تھے، اس لیے ہمارے پاؤں (ننگے ہونے کی وجہ سے) زخمی ہو گئے، میرے دونوں پاؤں زخمی ہو گئے اور ناخن گر گئے، اس لیے ہم نے اپنے پیروں پر چیتھڑے لپیٹے، اس لیے اس کا نام غزوہ ذات الرقاع کہا گیا، کیونکہ ہم اپنے پیروں پر چیتھڑے باندھے ہوئے تھے، ابو بردہ کہتے ہیں، ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4699]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
نَعْتَقِبُهُ: ہم اس پر یکے بعد دیگرے سوار ہوتے، کیونکہ سب کا بیک بار بیٹھنا ممکن نہ تھا۔
(2)
نَقِبَتْ: زخمی ہو گئے۔
(3)
خِرَقَ: خرقه کی جمع ہے، چیتھڑے، کپڑوں کے ٹکڑے۔
(4)
نُعَصِّبُ یانعصِبُ: ہم باندھتے تھے۔
فوائد ومسائل: غزوہ ذات الرقاع کہ وجہ تسمیہ یہی صحیح ہے، جو خود راوی نے بیان کی ہے، کیونکہ رقاع، رقعة کی جمع ہے، جس کا معنی ٹکڑا یا پیوند ہے، بقول بعض اس کا سبب وہاں ایک رنگ برنگ پہاڑ تھا، یا اس نام کا درخت تھا، یا جھنڈوں کو پیوند لگے ہوئے تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1816 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4128 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4128. حضرت ابو موسٰی اشعری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم ایک غزوے میں نبی ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے جبکہ ہم چھ آدمی تھے۔ ہمارے پاس ایک ہی اونٹ تھا جس پر باری باری سواری کرتے تھے۔ اس سفر میں ہمارے پاؤں زخمی ہو گئے۔ میرے قدم بھی زخمی ہوئے حتی کہ میرے (پاؤں کے) ناخن گر گئے تو ہم نے اپنے پاؤں پر چيھتڑے لپیٹ لیے، اس لیے اس غزوے کا نام ذات الرقاع رکھا گیا کیونکہ ہم نے اپنے پاؤں پر پٹیاں باندھی تھیں۔ حضرت ابوموسٰی ؓ نے یہ حدیث بیان کی لیکن پھر وہ اسے پسند نہیں کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ نیکی میں نے اس لیے نہیں کی تھی کہ اس کا شہرہ کروں۔ گویا انہوں نے اپنے اس عمل کو ظاہر کرنا پسند نہیں کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4128]
حدیث حاشیہ: چونکہ اس جنگ میں پیدل چلنے کی تکلیف سے قدموں پر چیتھڑے لپیٹنے کی نوبت آگئی تھی۔
اسی لیے اسے غزوہ ذات الرقاع کے نام سے موسوم کیا گیا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4128 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4128 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4128. حضرت ابو موسٰی اشعری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم ایک غزوے میں نبی ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے جبکہ ہم چھ آدمی تھے۔ ہمارے پاس ایک ہی اونٹ تھا جس پر باری باری سواری کرتے تھے۔ اس سفر میں ہمارے پاؤں زخمی ہو گئے۔ میرے قدم بھی زخمی ہوئے حتی کہ میرے (پاؤں کے) ناخن گر گئے تو ہم نے اپنے پاؤں پر چيھتڑے لپیٹ لیے، اس لیے اس غزوے کا نام ذات الرقاع رکھا گیا کیونکہ ہم نے اپنے پاؤں پر پٹیاں باندھی تھیں۔ حضرت ابوموسٰی ؓ نے یہ حدیث بیان کی لیکن پھر وہ اسے پسند نہیں کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ نیکی میں نے اس لیے نہیں کی تھی کہ اس کا شہرہ کروں۔ گویا انہوں نے اپنے اس عمل کو ظاہر کرنا پسند نہیں کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4128]
حدیث حاشیہ:

اس غزوے میں حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کی شرکت کا ذکر ہے اور وہ غزوہ خیبر کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔
اس کامطلب یہ ہے کہ غزوہ ذات الرقاع خیبر کے بعد ہوا ہے۔

حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ نے اس حدیث کو بیان کرنا اچھاخیال نہ کیا کیونکہ انھوں نے انتہائی مشقت میں یہ کام کیا تھا اوراسے بیان کرنے میں تذکیہ نفس پایا جاتا ہے جبکہ نیک عمل کوچھپانا اس کے ظاہر کرنے سے افضل ہے اور یہی نیک عمل اور اچھائی کاحسن ہوتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اگر تم صدقات کو چھپا کر دواور فقراء کی ضروریات کو پورا کروتو یہ عمل تمہارے لیے بہتر ہے۔
‘‘ (البقرة: 271/2)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4128 سے ماخوذ ہے۔