حدیث نمبر: 1812
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، " أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ خَمْسِ خِلَالٍ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ " لَوْلَا أَنْ أَكْتُمَ عِلْمًا مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ كَتَبَ إِلَيْهِ ، نَجْدَةُ أَمَّا بَعْدُ ، فَأَخْبِرْنِي هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ ؟ ، وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ ؟ ، وَهَلْ كَانَ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ ؟ ، وَمَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ ؟ ، وَعَنِ الْخُمْسِ لِمَنْ هُوَ ؟ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ ، كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي ، هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ ، وَقَدْ كَانَ يَغْزُو بِهِنَّ فَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ ، وَأَمَّا بِسَهْمٍ فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ ، فَلَا تَقْتُلِ الصِّبْيَانَ ، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ ، فَلَعَمْرِي إِنَّ الرَّجُلَ لَتَنْبُتُ لِحْيَتُهُ وَإِنَّهُ لَضَعِيفُ الْأَخْذِ لِنَفْسِهِ ضَعِيفُ الْعَطَاءِ مِنْهَا ، فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ ، فَقَدْ ذَهَبَ عَنْهُ الْيُتْمُ ، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْخُمْسِ لِمَنْ هُوَ ، وَإِنَّا كُنَّا ، نَقُولُ : هُوَ لَنَا ، فَأَبَى عَلَيْنَا قَوْمُنَا ذَاكَ " ،

یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ نامی خارجی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کو خط لکھ کر ان سے پانچ خصائل کے بارے میں سوال کیا، ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا: ”اگر کتمان علم کا ڈر نہ ہوتا تو میں اسے جواب نہ لکھتا‘‘، نجدہ نے انہیں لکھا، حمد و صلوٰۃ کے بعد! مجھے بتائیے کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو جنگ میں لے جاتے تھے؟ اور کیا انہیں غنیمت سے مقرر حصہ دیتے تھے؟ اور کیا بچوں کو قتل کرتے تھے؟ اور یتیم کی یتیمی کب ختم ہو گی؟ اور غنیمت کا خمس (پانچواں حصہ) کس کا ہے؟ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے اسے خط لکھا، تو نے خط لکھ کر مجھ سے پوچھا ہے، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد میں عورتوں کو شریک کرتے تھے؟ آپ ان کو جہاد میں لے جاتے تھے اور وہ زخمیوں کا علاج کرتی تھیں اور غنیمت سے کچھ عطیہ دیا جاتا تھا، لیکن رہا مقررہ حصہ، تو وہ ان کو نہیں دیا جاتا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے (بچوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتے تھے) اس لیے تو بچوں کو قتل نہ کر اور تو نے خط کے ذریعہ مجھ سے پوچھا ہے، یتیم کی یتیمی کب ختم ہو گی؟ تو مجھے اپنی عمر کی قسم، انسان کی داڑھی نکل آتی ہے اور اس کے باوجود، وہ اپنا حق لینے میں کمزور ہوتا ہے اور اپنی طرف سے ان کا حق دینے میں کمزور ہوتا ہے (یعنی اسے لینے دینے کا سلیقہ نہیں ہوتا) تو جب وہ اپنا حق لینے میں لوگوں کی طرح صلاحیت کا اظہار کرے اور اس میں شعور و ادراک پیدا ہو جائے تو اس کی یتیمی ختم ہو جائے گی اور تو نے مجھ سے خط کے ذریعے پوچھا ہے، خمس کا کا ہے؟ تو ہم کہتے ہیں، وہ ہمارا ہے اور ہماری قوم (بنو امیہ) نے ہمیں دینے سے انکار کر دیا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلَاهُمَا ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ ، عَنْ خِلَالٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ حَاتِمٍ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ ، فَلَا تَقْتُلِ الصِّبْيَانَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الصَّبِيِّ الَّذِي قَتَلَ وَزَادَ إِسْحَاقُ فِي حَدِيثِهِ ، عَنْ حَاتِمٍ وَتُمَيِّزَ الْمُؤْمِنَ فَتَقْتُلَ الْكَافِرَ وَتَدَعَ الْمُؤْمِنَ .

یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کو چند باتوں کے بارے میں سوال لکھ بھیجا، جیسا کہ اوپر کی حدیث میں سلیمان بن بلال نے بیان کیا ہے، لیکن اس حدیث میں حاتم نے بیان کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے، تو بھی قتل نہ کر، الا یہ کہ تجھے بھی بچے کے بارے میں خضر علیہ السلام کی طرح اس بات کا علم ہو جائے، جس کے باعث انہوں نے بچے کو قتل کیا تھا اور اسحاق نے حاتم سے یہ اضافہ کیا ہے اور تو مؤمن کا امتیاز کر لے، تو کافر کو قتل کر دینا اور مومن کو چھوڑ دینا۔

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ : " كَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ " يَسْأَلُهُ عَنِ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَةِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ ، هَلْ يُقْسَمُ لَهُمَا ؟ ، وَعَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ ، وَعَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ ؟ ، وَعَنْ ذَوِي الْقُرْبَى مَنْ هُمْ ؟ ، فَقَالَ لِيَزِيدَ : اكْتُبْ إِلَيْهِ فَلَوْلَا أَنْ يَقَعَ فِي أُحْمُوقَةٍ ، مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ ، اكْتُبْ إِنَّكَ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ هَلْ يُقْسَمُ لَهُمَا شَيْءٌ ؟ ، وَإِنَّهُ لَيْسَ لَهُمَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا ، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْهُمْ وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْهُمْ ، إِلَّا أَنْ تَعْلَمَ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ صَاحِبُ مُوسَى مِنَ الْغُلَامِ الَّذِي قَتَلَهُ ، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيُتْمِ ؟ ، وَإِنَّهُ لَا يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيُتْمِ حَتَّى يَبْلُغَ وَيُؤْنَسَ مِنْهُ رُشْدٌ ، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ ذَوِي الْقُرْبَى مَنْ هُمْ ؟ ، وَإِنَّا زَعَمْنَا أَنَّا هُمْ ، فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا " ،

یزید بن ہرمز بیان کرتے ہیں، کہ نجدہ بن عامر حروری نے، ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کو لکھ کر اس غلام اور اس عورت کے بارے میں پوچھا، جو جنگ میں شریک ہوتے ہیں، کیا ان کو حصہ دیا جائے گا؟ اور بچوں کے قتل کا کیا حکم ہے؟ اور یتیم کی یتیمی کب ختم ہو گی؟ اور ذو القربی سے مراد کون ہے؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے یزید کو کہا، اسے خط لکھو اور اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ وہ حماقت میں مبتلا ہو جائے گا، تو میں اسے خط کا جواب نہ دیتا، لکھو! تو نے مجھ سے یہ لکھ کر پوچھا ہے کہ عورت اور غلام، غنیمت کی تقسیم کے وقت موجود ہیں، کیا انہیں بھی کچھ دیا جائے گا؟ اور واقعہ یہ ہے، ان کے لیے غنیمت میں کوئی حصہ نہیں ہے، ہاں انہیں کچھ عطیہ دیا جا سکتا ہے اور تو نے مجھ سے بچوں کے قتل کے بارے میں پوچھا ہے؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قتل نہیں کیا، اس لیے تو بھی انہیں قتل نہ کر، الا یہ کہ تو ان کے بارے میں جان لے، جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی (خضر) نے اس بچے کے بارے میں جان لیا تھا، جسے اس نے قتل کیا تھا۔ اور تو نے مجھ سے یتیم کے بارے میں سوال کیا ہے کہ اس سے یتیم کا نام کب ختم ہو گا؟ اور صورت حال یہ ہے اس سے یتیم کا نام ختم نہیں ہو گا حتیٰ کہ وہ بالغ ہو جائے اور اس سے رشد (سوجھ بوجھ، سلیقہ) معلوم ہو جائے اور تو نے لکھ کر ذوالقربیٰ کے بارے میں پوچھا، وہ کون ہیں؟ اور ہمارا نظریہ یہ ہے کہ وہ ہم ہیں، لیکن ہماری قوم نے ہماری بات کو تسلیم نہیں کیا۔

وحَدَّثَنَاه عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ : كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِطُولِهِ .

یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کو لکھا، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ قَيْسًا يُحَدِّثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ : كَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : فَشَهِدْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ حِينَ قَرَأَ كِتَابَهُ وَحِينَ كَتَبَ جَوَابَهُ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْ أَرُدَّهُ عَنْ نَتْنٍ يَقَعُ فِيهِ مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ وَلَا نُعْمَةَ عَيْنٍ ، قَالَ : " فَكَتَبَ إِلَيْهِ إِنَّكَ سَأَلْتَ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ مَنْ هُمْ ؟ ، وَإِنَّا كُنَّا نَرَى أَنَّ قَرَابَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمْ نَحْنُ ، فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا ، وَسَأَلْتَ عَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُهُ ؟ ، وَإِنَّهُ إِذَا بَلَغَ النِّكَاحَ ، وَأُونِسَ مِنْهُ رُشْدٌ وَدُفِعَ إِلَيْهِ مَالُهُ فَقَدِ انْقَضَى يُتْمُهُ ، وَسَأَلْتَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ مِنْ صِبْيَانِ الْمُشْرِكِينَ أَحَدًا ؟ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُ مِنْهُمْ أَحَدًا وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْ مِنْهُمْ أَحَدًا ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الْغُلَامِ حِينَ قَتَلَهُ ، وَسَأَلْتَ عَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ هَلْ كَانَ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ ؟ ، فَإِنَّهُمْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ سَهْمٌ مَعْلُومٌ ، إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ " ،

یزید بن یرمز بیان کرتے ہیں، نجدہ بن عامر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کو خط لکھا، جب ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے اس کا خط پڑھا اور جب اس کا جواب لکھا، میں بھی موجود تھا، ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر مجھے یہ احساس نہ ہوتا کہ میں اس کو گندگی بدبو میں گرفتار ہونے سے باز رکھ سکوں گا، تو میں اسے جواب نہ لکھتا، اس کی آنکھوں کو آسودگی نصیب نہ ہو، اسے لکھ، تو نے ذوالقربیٰ کے حصہ کے بارے میں پوچھا ہے، جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے، کہ وہ کون ہیں؟ اور ہم سمجھتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار، وہ ہم ہیں، لیکن ہماری قوم نے ہماری بات تسلیم نہیں کی اور تو نے یتیم کے بارے میں پوچھا ہے کہ اس کی یتیمی کب ختم ہو گی؟ اور واقعہ یہ ہے جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائے اور اس سے سوجھ بوجھ (عقل و شعور اور سلیقہ) معلوم ہو اور اس کا مال اسے دے دیا جائے گا، تو اس کی یتیمی ختم ہو جائے گی اور تو نے دریافت کیا ہے، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں کے بچوں میں سے کسی کو قتل کرتے تھے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی کو قتل نہیں کرتے تھے اور تو بھی ان میں سے کسی کو قتل نہ کر، الا یہ کہ تو ان میں وہ بات جان لے، جو خضر علیہ السلام نے اس بچے کے بارے میں جان لی تھی، جسے انہوں نے قتل کیا تھا اور تو نے عورت اور غلام کے بارے میں سوال کیا ہے، کیا ان کے لیے مقررہ حصہ تھا؟ جبکہ جنگ میں شریک ہوتے تھے؟ تو ان کے لیے متعین حصہ نہ تھا، الا یہ کہ مسلمانوں کی غنیمتوں سے ان کو کچھ عطیہ دے دیا جاتا۔

وحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ : كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ وَلَمْ يُتِمَّ الْقِصَّةَ كَإِتْمَامِ مَنْ ذَكَرْنَا حَدِيثَهُمْ .

یزید بن ہرمز بیان کرتے ہیں کہ نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کو خط لکھا، آگے حدیث کا کچھ حصہ ہے، پورا واقعہ بیان نہیں کیا گیا، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیثوں میں مکمل واقعہ بیان کیا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ ، قَالَتْ : " غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ : أَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ ، فَأَصْنَعُ لَهُمُ الطَّعَامَ وَأُدَاوِي الْجَرْحَى وَأَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى " ،

عبدالرحیم بن سلیمان نے ہمیں ہشام (بن حسان) سے حدیث بیان کی، انہوں نے حفصہ بنت سیرین سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شریک ہوئی، میں پیچھے ان کے خیموں میں رہتی تھی، ان کے لیے کھانا تیار کرتی، زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی اور مریضوں کی دیکھ بھال کرتی تھی۔

وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .

یزید بن ہارون نے ہشام بن حسان سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1812
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ نامی خارجی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کو خط لکھ کر ان سے پانچ خصائل کے بارے میں سوال کیا، ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا: ’’اگر کتمان علم کا ڈر نہ ہوتا تو میں اسے جواب نہ لکھتا‘‘، نجدہ نے انہیں لکھا، حمد و صلوٰۃ کے بعد! مجھے بتائیے کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو جنگ میں لے جاتے تھے؟ اور کیا انہیں غنیمت سے مقرر حصہ دیتے تھے؟ اور کیا بچوں کو قتل کرتے تھے؟ اور یتیم کی یتیمی کب ختم ہو... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4684]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
يُحْذَيْنَ: انہیں کچھ عطیہ دیا جائے گا۔
(2)
مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ؟: یتیم کب یتیم کے حکم میں نہیں ہو گا۔
(3)
إِنَّهُ لَضَعِيفُ الْأَخْذِ: اسے بالغ ہونے کے باوجود لین دین کا سلیقہ نہیں ہوتا، وہ حقوق و فرائض کی سوجھ بوجھ نہیں رکھتا۔
(4)
فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ: جب وہ لوگوں سے معاملہ کرنے میں سوجھ بوجھ دکھائے، جس طرح لوگ اچھی طرح اپنا حق لیتے ہیں۔
فوائد ومسائل: نجدہ خارجی نے خط کے ذریعے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے چند باتوں کے بارے میں سوال کیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما دین میں ان کے غلو اور انتہا پسندی کی بنا پر اس کو جواب لکھنا پسند نہیں کرتے تھے، لیکن کتمان علم کی وعید سے ڈر کر اس کا جواب دینے پر آمادہ ہوگئے، عورتوں کے جہاد میں شریک ہونے اور غنیمت میں حصہ ہونے کے بارے میں جواب دیا، کہ وہ علاج معالجہ وغیرہ کی ضرورت کے لیے جاسکتی ہیں، لیکن انہیں غنیمت میں سے مجاہدوں والا حصہ نہیں ملے گا، ہاں انہیں کچھ عطیہ کے طور پر دیا جائے گا، جمہور فقہاء، امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام احمد وغیرہ ہم کا یہی موقف ہے، امام مالک کے نزدیک عورتوں کو کچھ بھی نہیں دیا جائے گا اور غلاموں کا بھی یہی حکم ہےاس طرح جو بچے جنگ میں شریک نہ ہوں، انہیں قتل نہیں کیا جائے گا اور بلوغ کے بعد یتیمی کا حکم اس حدیث میں اس وقت ختم ہو گا جب اس کے اندر عقل وشعور پیدا ہو جائے، اسے لین دین کا سلیقہ اور سوجھ بوجھ حاصل ہوجائے، ائمہ حجاز (امام مالک، امام شافعی، امام احمد)
اور صاحبین (امام ابو یوسف اور امام محمد)
کا بھی یہی موقف ہے، لیکن امام ابو حنیفہ کے نزدیک پچیس سال کا ہو جائے، تو اس کا مال اس کے حوالہ کر دیا جائے گا اور یہ سمجھا جائے گا، اس میں سلیقہ اور عقل و شعور پیدا ہو گیا ہے اور وہ لوگوں سے صحیح طریقہ سے لین دین کر سکتا ہے، حالانکہ قرآن مجید نے ﴿آنَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْدًا﴾ رشدو سلیقہ نظر آئے، کی قید لگائی ہے، کسی عمر کا تعین نہیں کیا، اسی طرح نجدہ نے غنیمت کے خمس کے بارے میں سوال کیا، تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا، ہماری قوم کے گھرانوں نے ہمیں یہ نہیں دیا، جبکہ میرا موقف یہ ہے کہ یہ آپ کے (ذالقربی)
کا حق ہے، امام شافعی کا موقف بھی یہی ہے کہ غنیمت کے خمس کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا اور پانچواں حصہ، بنو ہاشم اور بنو مطلب میں بلاامتیاز غنی اور فقیروں میں تقسیم ہو گا، مردو عورت کو ملے گا، امام احمد کا موقف بھی یہی ہے، لیکن احناف کے نزدیک غنیمت کا خمس، تین حصوں میں تقسیم ہوگا: (1)
یتامٰی (2)
مساکین (3)
اور مسافروں کو ملے گا اور فقراء میں ذوالقربیٰ فقراء بھی داخل ہیں، لیکن مالداروں کو نہیں ملے گا اور (أبیٰ علينا قومنا)
سے مراد احناف کے نزدیک خلفائے راشدین ہیں اور شوافع کے نزدیک یزید بن معاویہ اور بعد کے خلفاء مراد ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1812 سے ماخوذ ہے۔