حدیث نمبر: 181
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بن مَيْسَرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ صُهَيْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : تُرِيدُونَ شَيْئًا أَزِيدُكُمْ ؟ فَيَقُولُونَ : أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوهَنَا ، أَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ ، وَتُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ ؟ قَالَ : فَيَكْشِفُ الْحِجَابَ ، فَمَا أُعْطُوا شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَى رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ " ،

عبدالرحمن بن مہدی نے کہا: ہمیں حماد بن سلمہ نے ثابت بنانی سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”جب جنت والے جنت میں داخل ہو جائیں گے، (اس وقت) اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا: ’تمہیں کوئی چیز چاہیے جو تمہیں مزید عطا کروں؟‘ وہ جواب دیں گے: ’کیا تو نے ہمارے چہرے روشن نہیں کیے؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا اور دوزخ سے نجات نہیں دی؟‘“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چنانچہ اس پر اللہ تعالیٰ پردہ اٹھا دے گا تو انہیں کوئی چیز ایسی عطا نہیں ہو گی جو انہیں اپنے رب عزوجل کے دیدار سے زیادہ محبوب ہو۔“

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَبِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَزَادَ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الآيَةَ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ سورة يونس آية 26 .

امام صاحب رحمہ اللہ نے ایک دوسری سند سے حدیث بیان کی، اور اس میں اتنا اضافہ کیا: ”پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: «لِلَّذِينَ أَحْسَنُواْ ٱلْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ» (یونس: 26) ”جن لوگوں نے اچھی زندگی گزاری ان کے لیے اچھی جگہ ہے (یعنی جنت اور اس کی نعمتیں) اس پر زائد ایک نعمت ہے (دیدار حق ہے)۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 181
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في صفة الجنة، باب: ما جاء في روية الرب تبارك و تعالی برقم (2552) وابن ماجه في ((سننه)) في المقدمة، باب: ما انكرت الجهمية برقم (187) انظر ((التحفة)) برقم (4968)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2552 | سنن ترمذي: 3105 | سنن ابن ماجه: 187

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3105 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ یونس سے بعض آیات کی تفسیر۔`
صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «للذين أحسنوا الحسنى وزيادة» جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے اچھائی (جنت) ہے اور مزید برآں بھی (یعنی دیدار الٰہی) (یونس: ۲۶)، کی تفسیر اس طرح فرمائی: جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا: اللہ کے پاس تمہارے لیے اس کی طرف سے کیا ہوا ایک وعدہ ہے اور وہ چاہتا ہے کہ تم سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کر دے۔ تو وہ جنتی کہیں گے: کیا اللہ نے ہمارے چہرے روشن نہیں کر دیئے ہیں اور ہمیں آگ سے نجات نہیں دی ہے اور ہمیں جنت میں داخل نہیں فرمایا ہے؟ (اب کون س۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3105]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے اچھائی (جنت) ہے اور مزید برآں بھی (یعنی دیدارالٰہی) (یونس: 26)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3105 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 187 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔`
صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «للذين أحسنوا الحسنى وزيادة» جن لوگوں نے نیکی کی ان کے لیے نیکی ہے اور اس سے زیادہ بھی ہے (سورة يونس: 26) کی تلاوت فرمائی، اور اس کی تفسیر میں فرمایا: جب جنت والے جنت میں اور جہنم والے جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو منادی پکارے گا: جنت والو! اللہ کے پاس تمہارا ایک وعدہ ہے وہ اسے پورا کرنا چاہتا ہے، جنتی کہیں گے: وہ کیا وعدہ ہے؟ کیا اللہ نے ہمارے نیک اعمال کو وزنی نہیں کیا؟ ہمارے چہروں کو روشن اور تابناک نہیں کیا؟ ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا؟ اور ہمیں جہنم سے نجات نہیں دی؟۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 187]
اردو حاشہ: (1)
اللہ تعالیٰ کا دیدار سب سے عظیم اور سب سے خوش کن نعمت ہے جو اہل جنت کو حاصل ہو گی اور یہ ان کے لیے سب سے محبوب نعمت ہو گی۔

(2)
جنت میں داخل ہونا بھی ایک نعمت ہے جو دیدار الہی کے حصول کا ذریعہ ہے اس لیے بعض صوفیاء کا یہ کہنا درست نہیں کہ نیکی کرتے ہوئے جنت کی طمع یا جہنم کا خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔
بلکہ صرف اللہ کی ذات مطلوب ہونی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے نیک مومنوں کی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ یوں دعا کرتے ہیں: ﴿رَ‌بَّنا ءاتِنا فِى الدُّنيا حَسَنَةً وَفِى الأخِرَ‌ةِ حَسَنَةً وَقِنا عَذابَ النّارِ‌﴾ (البقرۃ: 201)
 ’’اے ہمارے مالک! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی نصیب فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔‘‘
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 187 سے ماخوذ ہے۔