صحيح مسلم
كتاب الجهاد والسير— جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے
باب غَزْوَةِ خَيْبَرَ: باب: خیبر کی لڑائی کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّادٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ ، فَتَسَيَّرْنَا لَيْلًا ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ : أَلَا تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيْهَاتِكَ ، وَكَانَ عَامِرٌ رَجُلًا شَاعِرًا فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا ، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا ، فَاغْفِرْ فِدَاءً لَكَ مَا اقْتَفَيْنَا ، وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا ، وَأَلْقِيَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا ، إِنَّا إِذَا صِيحَ بِنَا أَتَيْنَا وَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ هَذَا السَّائِقُ ؟ ، قَالُوا : عَامِرٌ ، قَالَ : يَرْحَمُهُ اللَّهُ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : وَجَبَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْلَا أَمْتَعْتَنَا بِهِ ، قَالَ : فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ فَحَاصَرْنَاهُمْ حَتَّى أَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ فَتَحَهَا عَلَيْكُمْ ، قَالَ : فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ مَسَاءَ الْيَوْمِ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا كَثِيرَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا هَذِهِ النِّيرَانُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُوقِدُونَ ؟ ، فَقَالُوا : عَلَى لَحْمٍ ، قَالَ : أَيُّ لَحْمٍ ؟ ، قَالُوا : لَحْمُ حُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَهْرِيقُوهَا وَاكْسِرُوهَا ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَوْ يُهْرِيقُوهَا وَيَغْسِلُوهَا ، فَقَالَ : أَوْ ذَاكَ ، قَالَ : فَلَمَّا تَصَافَّ الْقَوْمُ كَانَ سَيْفُ عَامِرٍ فِيهِ قِصَرٌ ، فَتَنَاوَلَ بِهِ سَاقَ يَهُودِيٍّ لِيَضْرِبَهُ وَيَرْجِعُ ذُبَابُ سَيْفِهِ ، فَأَصَابَ رُكْبَةَ عَامِرٍ فَمَاتَ مِنْهُ ، قَالَ : فَلَمَّا قَفَلُوا ، قَالَ سَلَمَةُ : وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي ، قَالَ : فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاكِتًا ، قَالَ : مَا لَكَ ، قُلْتُ لَهُ : فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ ، قَالَ : مَنْ قَالَهُ ، قُلْتُ : فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ الْأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ : كَذَبَ ، مَنْ قَالَهُ إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْنِ وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ " ، قَلَّ عَرَبِيٌّ مَشَى بِهَا مِثْلَهُ ، وَخَالَفَ قُتَيْبَةُ ، مُحَمَّدًا فِي الْحَدِيثِ فِي حَرْفَيْنِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّادٍ ، وَأَلْقِ سَكِينَةً عَلَيْنَا .قتیبہ بن سعید اور محمد بن عباد نے۔۔ الفاظ ابن عباد کے ہیں۔۔ ہمیں حدیث بیان کی، ان دونوں نے کہا: ہمیں حاتم بن اسماعیل نے سلمہ بن اکوع کے آزاد کردہ غلام یزید بن ابی عبید سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف روانہ ہوئے تو ہم نے رات کے وقت سفر کیا، لوگوں میں سے ایک آدمی نے عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تم ہمیں اپنے نادر جنگی اشعار سے نہیں سناؤ گے؟ اور عامر رضی اللہ عنہ شاعر آدمی تھے، وہ اتر کر لوگوں کے (اونٹوں) کے لیے حدی خوانی کرنے لگے، وہ کہہ رہے تھے: ”اے اللہ! اگر تو (فضل و کرم کرنے والا) نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، نہ صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے، ہم تیرے نام پر قربان، ہم نے جو گناہ کیے ان کو بخش دے اور اگر ہمارا مقابلہ ہو تو ہمارے قدم جما دے اور ہم پر ضرور بالضرور سکینت اور وقار نازل فرما۔ ہمیں جب بھی آواز دے کر بلایا گیا ہم آئے، ہمیں آواز دے کر ان (آواز دینے والے) لوگوں نے ہم پر اعتماد کیا (اور ہم اس پر پورے اترے۔)“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ (حدی خوانی کر کے) اونٹوں کو ہانکنے والا کون ہے؟“ لوگوں نے کہا: عامر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اللہ سے اس کی محبت اور شوق کو دیکھتے ہوئے) فرمایا: ”اللہ اس پر رحم کرے!“ لوگوں میں سے ایک آدمی (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) نے کہا: (اس کے لیے شہادت) واجب ہو گئی، اے اللہ کے رسول! آپ نے (اس کے حق میں دعا مؤخر فرما کر) ہمیں اس (کی صحبت) سے زیادہ مدت فائدہ کیوں نہیں اٹھانے دیا؟ (سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے) کہا: ہم خیبر پہنچے تو ہم نے ان کا محاصرہ کر لیا یہاں تک کہ ہمیں (شدید بھوک کے) مخمصے نے آ لیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ نے اسے ان (جہاد کرنے والے) لوگوں کے لیے فتح کر دیا ہے۔“ جب لوگوں نے اس دن کی شام کی جب انہیں فتح عطا کی گئی تھی تو انہوں نے بہت سی (جگہوں پر) آگ جلائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ آگ کیسی ہے اور یہ لوگ کس چیز (کو پکانے) کے لیے اسے جلا رہے ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: گوشت (کو پکانے) کے لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون سا گوشت؟“ انہوں نے جواب دیا: پالتو گدھوں کا گوشت۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے (پانی سمیت) بہا دو اور ان (برتنوں) کو توڑ دو۔“ اس پر ایک آدمی نے کہا: یا اسے بہا دیں اور برتن دھو لیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا ایسے کر لو۔“ کہا: جب لوگوں نے مل کر صف بندی کی تو عامر رضی اللہ عنہ کی تلوار چھوٹی تھی، انہوں نے مارنے کے لیے اس (تلوار) سے ایک یہودی کی پنڈلی کو نشانہ بنایا تو تلوار کی دھار لوٹ کر عامر رضی اللہ عنہ کے گھٹنے پر آ لگی اور وہ اسی زخم سے فوت ہو گئے۔ جب لوگ واپس ہوئے، سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اور اس وقت انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خاموش دیکھا تو آپ نے پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ میں نے آپ سے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان! لوگوں کا خیال ہے کہ عامر رضی اللہ عنہ کا عمل ضائع ہو گیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”کس نے کہا ہے؟“ میں نے کہا: فلاں، فلاں اور اسید بن حضیر انصاری رضی اللہ عنہ نے۔ تو آپ نے فرمایا: ”جس نے بھی یہ کہا، غلط کہا ہے، اس کے لیے تو یقیناً دو اجر ہیں۔“ آپ نے اپنی دونوں انگلیوں کو اکٹھا کیا۔ ”وہ تو خود جم کر جہاد کرنے والے مجاہد تھے، کم ہی کوئی عربی ہو گا جو اس راستے پر ان کی طرح چلا ہو گا۔“ قتیبہ نے حدیث کے دو حرفوں (القین کے آخری دو حرفوں ی اور ن) میں محمد (بن عباد) کی مخالفت کی ہے اور (محمد) بن عباد کی روایت میں (القین کے بجائے) الق (ضرور بالضرور کی تاکید کے بغیر محض) ”نازل کر“ کے الفاظ ہیں۔
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَنَسَبَهُ غَيْرُ ابْنِ وَهْبٍ ، فَقَالَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : " لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ قَاتَلَ أَخِي قِتَالًا شَدِيدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ فَقَتَلَهُ ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ ، وَشَكُّوا فِيهِ رَجُلٌ مَاتَ فِي سِلَاحِهِ وَشَكُّوا فِي بَعْضِ أَمْرِهِ ، قَالَ سَلَمَةُ : فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ائْذَنْ لِي أَنْ أَرْجُزَ لَكَ ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَعْلَمُ مَا تَقُولُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا ، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَدَقْتَ ، وَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَالْمُشْرِكُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا ، قَالَ : فَلَمَّا قَضَيْتُ رَجَزِي ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَالَ هَذَا ؟ ، قُلْتُ : قَالَهُ أَخِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَرْحَمُهُ اللَّهُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نَاسًا لَيَهَابُونَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ يَقُولُونَ رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا " ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنًا لِسَلَمَةَ بنِ الأَكْوَعِ ، فَحَدَثَنيِ عَنْ أَبِيهِ مِثْلَ ذَلِكَ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : حِينَ قُلُتُ إِنَّ نَاسًا يَهَابُونَ الصَّلاةَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمِ : " كَذَبُوا مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَتَيْنِ " وَأَشَارَ بِإصبَعَيهِ .حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، جب خیبر کا دن تھا، تو میرے بھائی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر بڑی شدید جنگ لڑی اور اس کی تلوار پلٹ کر اسے لگی اور اسے قتل کر ڈالا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے اس سلسلہ میں نکتہ چینی کی اور اس کی شہادت میں شک کیا، یہ آدمی اپنے ہی اسلحہ سے فوت ہوا ہے اور اس کے بعض معاملہ میں (شہادت میں) شک کیا، حضرت سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے واپس لوٹے، تو میں نے کہا، اے اللہ کے رسول! مجھے رجزیہ اشعار سنانے کی اجازت دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی، اس پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے، جو کہنا چاہتے ہو اس کو سوچ سمجھ لو، میں نے کہا، اللہ کی قسم! اگر اللہ کی توفیق نہ ہوتی، ہم راہ یاب نہ ہوتے، نہ صدقہ دیتے، نہ نماز پڑھتے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تو نے سچ کہا) اور ہم پر سکینت نازل فرما اور مڈبھیڑ کی صورت میں ہمیں ثابت قدم رکھ۔ مشرکوں نے یقینا ہم پر زیادتی کی ہے۔ تو جب میں نے رجزیہ کلام ختم کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، ”یہ کلام کس کا ہے؟‘‘ میں نے جواب دیا، میرے بھائی نے کہا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے۔‘‘ میں نے کہا، اے اللہ کے رسولﷺ! کچھ لوگ اس کی نماز جنازہ پڑھنے سے خوف محسوس کرتے ہیں، کہتے ہیں، ایسا آدمی ہے، جو اپنے اسلحے سے فوت ہوا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انتہائی کوشش سے جہاد کرتے ہوئے فوت ہوا ہے۔‘‘ ابن شہاب کہتے ہیں، پھر میں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالی عنہ کے ایک بیٹے سے پوچھا، تو اس نے اپنے آپ باپ سے مجھے اس طرح روایت سنائی، صرف یہ فرق تھا کہ اس نے کہا، جب میں نے یہ کہا، کچھ لوگ اس کی نماز جنازہ پڑھنے سے ہیبت کھاتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے غلط کہا، وہ انتہائی کوشش سے جہاد کرتے ہوئے فوت ہوا، اس لیے اس کے لیے دوہرا ثواب ہے۔‘‘ اور آپﷺ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ کیا۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْماعِيلَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ فَتَحَهَا عَلَيْهِمْ ، فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ الْيَوْمَ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا كَثِيرَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا هَذِهِ النِّيرَانُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُوقِدُونَ ؟ " ، قَالُوا : عَلَى لَحْمٍ ، قَالَ : " عَلَى أَيِّ لَحْمٍ ؟ " ، قَالُوا : عَلَى لَحْمِ حُمُرٍ إِنْسِيَّةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَهْرِيقُوهَا وَاكْسِرُوهَا " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ نُهَرِيقُهَا وَنَغْسِلُهَا ، قَالَ : أَوْ ذَاكَ .حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کے لیے نکلے، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے مسلمانوں کے لیے فتح کر دیا، جب فتح کے دن کی شام ہوئی تو لوگوں نے بہت سی آگیں روشن کیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، ”یہ آگیں کیسی ہیں، کس لیے انہیں جلایا گیا ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا، گوشت کی خاطر، آپ نے فرمایا: ”کس گوشت کے لیے؟‘‘ لوگوں نے کہا، پالتو گدھوں کے گوشت کی خاطر، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں بہا دو اور انہیں توڑ دو۔‘‘ ایک آدمی نے کہا، اے اللہ کے رسولﷺ! یا انہیں بہا دیں اور انہیں دھو لیں، آپﷺ نے فرمایا: ”یا ایسے کر لو۔‘‘
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، وَصَفْوَانُ بْنُ عِيسَى . ح ، وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْر ِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ كُلُّهُمْ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .حماد بن مسعدہ، صفوان بن عیسیٰ اور ابوعاصم نبیل سب نے یزید بن ابی عبید سے اسی سند کے ساتھ روایت کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
هُنَيْهَاتِكَ: هنيهة کی جمع ہے اور هنيهة، هنة کی تصغیر ہے، ہر چیز پر اس کا اطلاق ہو جاتا ہے اور یہاں رزمیہ گیت مراد ہیں۔
(2)
فِدَاءً لَكَ: اللہ تعالیٰ پر فنا نہیں ہے، اس لیے اس کے بچانے کے لیے کوئی اس پر قربان نہیں ہو سکتا، اس لیے یہاں مراد اس کا دین یا اس کا نبی ہے اور محض محبت اور تعظیم مقصود ہے۔
(3)
مَا اقْتَفَيْنَا: جن گناہوں کے ہم پیچھے چلے، ان کا ارتکاب کیا۔
(4)
إِذَا صِيحَ بِنَا أَتَيْنَا: جب ہمیں لڑائی یا حق کے لیے بلایا جاتا ہے، یا ہم سے مدد طلب کی جاتی ہے، ہم پہنچ جاتے ہیں۔
(5)
وَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا: انہوں نے ہمیں مدد کے لیے بلا کر ہم پر اعتماد کیا ہے، کیونکہ تعويل کا معنی ہے، اعتماد کرنا یا عولت علي فلان يابفلان کا معنی ہوتا ہے۔
اس سے میں نے مدد طلب کی۔
(6)
فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَجَبَتْ: جب جنگ کے موقع پر کسی انسان کو يرحمه الله کی دعا دیتے، تو اس کا یہ مطلب ہوتا، یہ انسان اس جنگ میں شہید ہو جائے گا۔
اس لیے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ کہے۔
(7)
مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ: شدید ترین بھوک۔
(8)
حُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ: گھریلو یا پالتو گدھے، جو انسان سے مانوس ہوتے ہیں، کیونکہ جنگلی گدھا، نیل گائے، حلال ہے۔
(9)
كَذَبَ مَنْ قَالَ: جو یہ سمجھتا ہے یہ خودکشی ہے، اس لیے عمل رائیگاں گئے، وہ غلطی پر ہے، کیونکہ اس کے لیے جہاد اور شہادت دونوں کا اجروثواب ہے۔
(10)
جَاهِدٌ مُجَاهِدٌ: اس نے زندگی بھر علم و عمل اور اطاعت الٰہی کے لیے کوشش کی اور اب اللہ کی راہ میں جہاد کیا، یا خوب محنت و کوشش سے جہاد کیا۔
«. . . عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: أَسْمِعْنَا يَا عَامِرُ مِنْ هُنَيْهَاتِكَ، فَحَدَا بِهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ السَّائِقُ؟، قَالُوا: عَامِرٌ، فَقَالَ: رَحِمَهُ اللَّهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَّا أَمْتَعْتَنَا بِهِ، فَأُصِيبَ صَبِيحَةَ لَيْلَتِهِ، فَقَالَ الْقَوْمُ: حَبِطَ عَمَلُهُ قَتَلَ نَفْسَهُ، فَلَمَّا رَجَعْتُ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ، فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ، فَقَالَ كَذَبَ مَنْ قَالَهَا، إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْنِ اثْنَيْنِ: إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ، وَأَيُّ قَتْلٍ يَزِيدُهُ عَلَيْهِ . . .»
”. . . سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے۔ جماعت کے ایک صاحب نے کہا عامر! ہمیں اپنی حدی سنائیے۔ انہوں نے حدی خوانی شروع کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کون صاحب گا گا کر اونٹوں کو ہانک رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ عامر ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ ان پر رحم کرے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ہمیں عامر سے فائدہ کیوں نہیں اٹھانے دیا۔ چنانچہ عامر رضی اللہ عنہ اسی رات کو اپنی ہی تلوار سے شہید ہو گئے۔ لوگوں نے کہا کہ ان کے اعمال برباد ہو گئے، انہوں نے خودکشی کر لی (کیونکہ ایک یہودی پر حملہ کرتے وقت خود اپنی تلوار سے زخمی ہو گئے تھے) جب میں واپس آیا اور میں نے دیکھا کہ لوگ آپس میں کہہ رہے ہیں کہ عامر کے اعمال برباد ہو گئے تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! آپ پر میرے باپ اور ماں فدا ہوں، یہ لوگ کہتے ہیں کہ عامر کے سارے اعمال برباد ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص یہ کہتا ہے غلط کہتا ہے۔ عامر کو دوہرا اجر ملے گا وہ (اللہ کے راستہ میں) مشقت اٹھانے والے اور جہاد کرنے والے تھے اور کس قتل کا اجر اس سے بڑھ کر ہو گا؟“ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ: 6891]
باب اورحدیث میں مناسبت:
امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب میں اس شخص کا ذکر فرمایا ہے جو خطا کے ساتھ اپنے تئیں قتل ہو جائے تو اس پر دیت نہ ہو گی، مگر تحت الباب حدیث میں خطا کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے، دراصل امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب میں خطا کا ذکر اس لیے فرمایا کہ خطا کا معاملہ محل اختلاف ہے، لہٰذا ترجمۃ الباب کے ذریعے آپ راجح کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں۔
حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: «والذى يظهر أن البخاري إنما قيّد بالخطاء لأنه محل الخلاف، قال ابن بطال: قال الأوزاعي و أحمد و إسحاق، تجب ديته على عاقلته، فإن عاش فهي له عليه، وإن مات فهي لورثته، وقال الجمهور لا يجب فى ذالك شيئي، وقصة عامر هذه حجة لهم إذ لم ينقل أن النبى صلى الله عليه وسلم أوجب فى هذه القصة له شيئا، ولو وجب لبيّنها إذ لا يجوز تأخير البيان عن وقت الحاجة، وقر اجمعوا (على) أنه لو قطع طرفًا من أطرافه عمدًا أو خطأ لا يجب فيه شيئي.» [فتح الباري لابن حجر: 186/13]
”جو بات ظاہر ہے وہ یہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے خطا کی قید اس لیے ذکر فرمائی ہے کہ یہ محل اختلاف ہے، بقول ابن بطال، اوزاعی، احمد اور اسحاق کے نزدیک اس صورت میں اس کی دیت اس کی عاقلہ کے ذمہ ہے، اگر زندہ رہا تو یہ اس کے لیے ان کے ذمہ ہے، اور اگر مر گیا تو اس کے ورثا کے لیے ہے، جمہور کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی چیز واجب نہیں ہو گی، سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ ان کے لیے حجت ہے، کیوں کہ یہ منقول نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ میں کوئی شئی واجب فرمائی ہو، اگر واجب فرمائی ہوتی تو اس کا ذکر (لازماً) کرتے، کیونکہ وقت حاجت سے تاخیر بیان جائز نہیں، اس امر پر اجماع ہے کہ اگر عمداً یا غلطی سے اپنا کوئی عضو قطع کر لیا تو اس میں کچھ بھی واجب نہیں ہے۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب کا انعقاد کئی ایک حکمتوں کے پیش نظر فرمایا ہے، جن کا ذکر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے، چنانچہ ترجمۃ الباب میں جو لفظ «خطاء» کا ہے، اس میں ایک یہ بھی حکمت ہے جس کا ذکر حافظ رحمہ اللہ کرتے ہیں، چنانچہ آپ لکھتے ہیں: «وظن الاسماعيلي تعقب ذالك على البخاري و ليس كما ظن و إنما ساق الحديث بلفظ ”فارتد عليه سيفه“ ثم نبه على أن هذا اللفظة لم تقع فى رواية البخاري هنا فأشار إلى أنه عدل هنا عن رواية مكي . . . . . ويجاب بأن البخاري يعتمد هذه الطريق كثيرًا فيترجم بالحكم و يكون قد أورد ما يدل عليه صريحًا فى مكان آخر فلا يجب أن يعيده . . . . . .» [فتح الباري لابن حجر: 187/13]
”اسماعیلی اس بات سے امام بخاری رحمہ اللہ کا تعقب کرتے ہیں مگر ان کا یہ ظن ٹھیک نہیں ہے کیونکہ انہوں نے یہ حدیث «فارتد عليه نفسه» کے الفاظ سے نقل کیے ہیں، پھر تنبیہ کی ہے کہ یہ الفاظ یہاں کی روایت بخاری میں نہیں تھے تو اشارہ کیا کہ اس نکتہ کے مدنظر مکی بن ابراہیم کی روایت سے عدول کیا ہے تو یہ اس کے وضوح کے مدنظر اولیٰ ہے، جواب دیا گیا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ یہ اسلوب بکثرت استعمال کرتے ہیں کہ حکم کے ساتھ ترجمۃ الباب قائم کرتے ہیں اور انہیں اس پر صریحاً دال روایت کسی اور جگہ نقل کی ہوتی ہے تو اس کا اعادہ کرنا پسند نہیں کرتے تو اسے کسی اور طریق کے حوالے سے وارد کرتے ہیں۔“
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے ان اقتباسات سے یہ بات واضح ہوئی کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے جو ترجمۃ الباب میں «خطاء» کے الفاظ شامل فرمائے ہیں یہ مفہوم بھی دوسری حدیث میں موجود ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت کو یہاں ذکر نہیں فرمایا تاکہ تکرار کا باعث نہ بنے، چنانچہ جس حدیث میں اس لفظ «خطاء» کی صراحت ہے وہ حدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی ہی صحیح میں ذکر فرمائی جس کے الفاظ یہ ہیں: «فلما تصافّ القوم كان سيف عامر فيه قصر فتناول به يهوديًا ليضربه و يرجع ذباب سيفه فأصاب ركبة عامر فمات منه.» [صحيح البخاري: ح: 6148]
”یعنی جب لوگوں نے صف بندی کر لی تو سیدنا عامر رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار سے ایک یہودی پر وار کیا، ان کی تلوار چھوٹی تھی، اس کی نوٹ پلٹ کر خود انہی کے گھٹنوں پر لگی اور اس کی وجہ سے ان کی شہادت ہو گئی۔“
چنانچہ اس منظر کے پیش نظر باب کا تعلق حدیث کے ساتھ قائم ہو گیا۔
علامہ ابن المنیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: «انما يتم مقصود الترجمة بذكر القصة التى مات فيها عامر، وذالك أن سيفه كان قصيرًا، فرجع إلى ركبته من ضربته، فمات منها، وقد بينه فى غير هذا الموضع.» [المتواري: ص 347]
”ترجمۃ الباب کا تمام ہونا اس قصہ کے ساتھ ہے جس میں سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی، جس میں یہ واقعہ ہے کہ ان کی تلوار چھوٹی تھی، جس کی وجہ سے وہ پلٹ کر آپ ہی کے گھٹنوں پر لگی جس کی پاداش میں آپ کی شہادت ہوئی، اس واقعہ کی وضاحت دوسری جگہ پر ہے۔“
بدر الدین بن جماعۃ رحمہ اللہ ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ترجمۃ الباب کا حدیث سے مطابقت کے لیے اس حدیث کو یہاں پر ذکر نہیں کیا، جس میں (خطاء) کا ذکر ہے، اور وہ روایت کچھ یوں ہے کہ سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کی تلوار ہی آپ پر لوٹ آئی، جبکہ آپ کفار سے لڑ رہے تھے، پس اسی کی وجہ سے آپ قتل ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر دیت بھی واجب نہیں فرمائی۔“
مزید لکھتے ہیں: «فاكتفى بذكر أصل الحديث للعلم لمطابقة للترجمة فى الرواية الأخرى و قدمنا غير مرة انه يعتاد ذائك كثيرًا.» [مناسبات تراجم البخاري ص 128]
اب جہاں تک تعلق ہے، ترجمۃ الباب میں لفظ «دية» کا کہ تحت الباب حدیث میں دیت کے الفاظ موجود نہیں ہے تو اس کی مناسبت حدیث کے ساتھ کس طرح سے قائم ہو گی؟ لہذا اس لفظ کی مطابقت کے لیے علامہ عینی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: «مطابقة للترجمة من حيث انه صلى الله عليه وسلم لم يحكم بالدية لورثة عامر على عاقلته أو على بيت المال المسلمين.» [عمدة القاري شرح صحيح البخاري: 76/23]
”ترجمۃ الباب اور حدیث میں مطابقت یوں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کے وارثوں کو دیت دینے کا کوئی حکم نہیں دیا تھا۔“
لہذا ان تصریحات سے ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت قائم ہوتی ہے۔
فائدہ:
مذکورہ بالا حدیث امام بخاری رحمہ اللہ کی ثلاثیات میں سے ہے۔
(1)
ایک روایت میں وضاحت ہے کہ جب مسلمانوں کی فوج دشمن کے سامنے صف آراء ہوئی تو حضرت عامر رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار سے ایک یہودی پر حملہ کیا۔
چونکہ ان کی تلوار چھوٹی تھی، اس لیے وہ پلٹ کر ان کے گھٹنے پر لگی۔
اس سے آپ جانبر نہ ہو سکے، اس وجہ سے لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ خود کشی ہے اور اس سے انسان کے عمل برباد ہو جاتے ہیں۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4196) (2)
امام بخاری رحمہ اللہ کا استدلال اس روایت سے یہ ہے کہ حضرت عامر رضی اللہ عنہ خود اپنی تلوار سے شہید ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قبیلے پر دیت واجب نہیں كى اور نہ ان کے علاوہ کسی دوسرے پر ہی واجب کی۔
اگر دیت واجب کی ہوتی تو بیان کی جاتی کیونکہ یہ مقام محتاج بیان تھا اور ضرورت کے وقت بیان کی تاخیر جائز نہیں ہوتی۔
تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر کسی نے قصداً یا سہواً اپنے اعضاء میں سے کوئی عضو کاٹ دیا تو اس کے متعلق کچھ بھی واجب نہیں ہے، البتہ امام اوزاعی اور امام احمد رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ غلطی کی صورت میں اس کے قبیلے پر دیت واجب ہوگی۔
اگر وہ زندہ رہا تو دیت کا حقدار وہ خود ہوگا، بصورت دیگر اس کے ورثاء حقدار ہوں گے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے جمہور اہل علم کی تائید کی ہے اور اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ اس صورت میں کوئی دیت واجب نہ ہوگی۔
(فتح الباري: 272/12)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس دعا سے سمجھ گئے کہ عامر بن اکوع کی شہادت یقینی ہے۔
اسی لئے انہوں نے لفظ مذکور زبان سے نکالے آخر خود ان ہی کی تلوار سے ان کی شہادت ہوگئی وہ یقینا شہید ہوگئے۔
یہ حدیث مفصل پہلے بھی گزرچکی ہے لوگوں نے خود کشی کا غلط گمان کیا تھا بعد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گمان کی تغلیط فرما کر حضرت عامر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا اظہار فرمایا۔
راوی حدیث حضرت سلمہ بن اکوع کی کنیت ابومسلم ہے اورشجرہ کے نیچے بیعت کرنے والوں میں سے ہیں۔
بہت بڑے دلاور وبہادر تھے۔
مدینہ میں 74ھ میں بعمر اسی سال فوت ہوئے۔
(1)
عرب لوگ اونٹوں پر سفر کرتے وقت خوش الحانی سے چھوٹے چھوٹے شعر پڑھتے تھے جن سے مست ہو کر اونٹ تیزی سے چلتے تھے۔
حضرت عامر بن اکوع بھی بہت اچھے حدی خواں تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اشعار سن کر فرمایا: ''اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے!'' حضرات صحابۂ کرام میں یہ معروف تھا کہ غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کے لیے رحم کی دعا کرتے تو وہ زندہ نہ رہتا بلکہ شہید ہو جاتا، اس لیے انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کاش! ہمیں ان کی زندگی سے مزید فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا۔
(2)
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف عامر رضی اللہ عنہ کے لیے دعائیہ کلمات استعمال کیے، دعا میں اپنی ذات کا ذکر نہیں فرمایا۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا مذکورہ حدیث لانے سے یہی مقصود ہے۔
واللہ المستعان