صحيح مسلم
كتاب الجهاد والسير— جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے
باب قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ: باب: ابوجہل مردود کے مارے جانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَنْظُرُ لَنَا مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ ؟ ، فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَكَ ، قَالَ : فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ ، فَقَالَ : آنْتَ أَبُو جَهْلٍ ؟ ، فَقَالَ : وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ أَوَ قَالَ قَتَلَهُ قَوْمُهُ ، قَالَ : وَقَالَ أَبُو مِجْلَزٍ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ : فَلَوْ غَيْرُ أَكَّارٍ قَتَلَنِي " ،حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہمیں یہ دیکھ کر بتائے گا کہ ابوجہل کا کیا بنا؟‘‘ تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ چل پڑے اور اسے اس حال میں دیکھا کہ اسے عفراء کے دو بیٹوں نے تلوار مار کر زمین پر گرا دیا ہے۔ تو ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کی داڑھی پکڑ کر پوچھا، کیا تو ہی ابوجہل ہے؟ تو اس نے جواب دیا، کیا اس آدمی سے بڑا بھی تم نے قتل کیا ہے، یا اس کی قوم نے قتل کیا ہے؟ ابومجلز کہتے ہیں، ابوجہل نے کہا، اے کاش مجھے ایک کسان کے علاوہ کسی اور نے قتل کیا ہوتا۔
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَعْلَمُ لِي مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ ؟ " بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَقَوْلِ أَبِي مِجْلَزٍ كَمَا ذَكَرَهُ إِسْمَاعِيلُ .ہمیں معتمر نے کہا: میں نے اپنے والد (سلیمان تیمی) سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے کون معلوم کرے گا کہ ابوجہل کا کیا ہوا؟“ آگے ابن علیہ کی حدیث اور ابومجلز کے قول کے مانند ہے، جس طرح اسماعیل نے بیان کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
حتي برك: حتیٰ کہ وہ گر گیا، بعض نسخوں میں ہے۔
حتي برد یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا پڑ گیا، یعنی اس کو اتنا گہرا زخم لگ چکا تھا کہ اب اس کا زندہ رہنا ممکن نہ تھا، آخری سانسوں پر تھا۔
(2)
هِل فَوق رَجُل قَتَلتُمُوه: امام نووی نے معنی کیا ہے، تمہارا مجھے قتل کرنا میرے لیے عار و ننگ کا باعث نہیں ہے، یعنی لڑ کر مرنا شرم و عار کا باعث نہیں ہے۔
(3)
فَلَو غَيرَ اَكَّار قَتَلَني: اے کاش مجھے ایک کسان کے علاوہ کوئی قتل کرتا۔
معاذ اور معوذ دونوں انصاری تھے اور انصار کاشت کار لوگ تھے، جن کو عرب حقیر اور کم حیثیت خیال کرتے تھے، اس لیے اس نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اے کاش مجھے میرے ہم پلہ قریشی قتل کرتے۔
فیصلہ کن وار کرنے والے تو حضرت معاذ بن عمرو بن جموح تھے، لیکن اس پر وار کرنے میں معاذ اور معوذ دونوں بھائی ٹھیک تھے اور سر کاٹ کر لانے والے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں اور آپﷺ نے سلب معاذ بن عمرو بن جموح کو دی تھی۔
وہ کہنے لگا، کاش! مجھ کو کسانوں نے نہ مارا ہوتا۔
ان سے انصار کو مراد لیا۔
ان کو ذلیل سمجھا ایک روایت کے مطابق حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اس کا سرکاٹ کر لائے تو آنحضرت ﷺ نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے فرمایا اس امت کا فرعون مارا گیا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس مردود کے ہاتھوں مکہ میں سخت تکلیف اٹھائی تھی۔
ایک روایت کے مطابق جب عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس کی گردن پر پاؤں رکھا تو مردود کہنے لگا۔
ارے ذلیل بکریاں چرانے والے! تو بڑے سخت مقام پر چڑھ گیا۔
پھر انہوں نے اس کا سرکاٹ لیا۔
1۔
ایک روایت کے مطابق ابوجہل نے کہا: کاش! مجھے کسانوں نے نہ ماراہوتا۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4020)
اس لعنتی نے انصار کو ذلیل سمجھتے ہوئے ایسا کہا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس مردود کے ہاتھوں سخت تکلیف اٹھائی تھی۔
اس لیے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس کی داڑھی پکڑی، پھر اس کا سر کاٹا اور اسے رسول اللہﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم یہ اللہ کے دشمن کا سر ہے۔
‘‘ اس پر آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا۔
ایک روایت کے مطابق جب عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس کی گردن پر پاؤں رکھا تو لعین کہنے لگا: اے ذلیل، بکریاں چرانے والے تو بڑے سخت مقام پر چڑھ گیاہے۔
پھر انھوں نے اس کا سرکاٹ لیا اور اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا۔
(فتح الباري: 368/7)
2۔
واضح رہے کہ عفراء ؓ ایک صحابیہ ہیں۔
ان کے دونوں بیٹوں کانام معاذ اور معوذ ہے۔
ان کے والد محترم حضرت حارث بن رفاعہ ؓ ہیں۔
ان کےتیسرے بھائی کا نام عوف ہے وہ بھی بدر میں موجود تھا۔
یہ قومی اونچ نیچ کا تصور ابو جہل کے دماغ میں آخروقت تک سمایا رہا جو مسلمان آج ایسی قومی اونچ نیچ کے تصورات میں گرفتار ہیں ان کو سوچنا چاہیے کہ وہ ابو جہل کی خوئے بد میں گرفتار ہیں۔
اسلام ایسے ہی غلط تصورات کو ختم کرنے آیا مگر صد افسوس کہ خود مسلمان بھی ایسے غلط تصورات میں گرفتار ہوگئے۔
اکار کا ترجمہ مولانا وحید الزماں ؓ نے لفظ کمینے سے کیا ہے۔
گویا ابو جہل نے کاشتکاروں کو لفظ کمینے سے یاد کیا ہے۔
1۔
اس مردود کو تکلیف ہوئی کہ مدینے کے کاشتکاروں کے ہاتھوں کیوں مارا گیا ہے؟ کاش!یہ رئیس کسی رئیس کے ہاتھوں مارا جاتا۔
قومی اونچ نیچ کا تصور اس کے دماغ میں آخر تک سمایارہا۔
2۔
حضرت انس ؓ اگرچہ بدر کی جنگ میں شریک نہ تھے۔
تاہم انھوں نے کسی بدری صحابی سے سن کر یہ واقعہ بیان فرمایا ہے۔
3۔
بہر حال حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ بدری صحابی ہیں جن سے ابو جہل نے کہا تھا۔
بکریوں کے چرواہے! تو ایک سخت چوٹی پر چڑھا ہے۔
انصار چونکہ زراعت پیشہ تھے اس لیے ابو جہل نے حقارت کے طور پر کہا: کاش! مجھے زراعت پیشہ قتل نہ کرتے کوئی بڑا آدمی قتل کرتا۔
فخر و غرور کا یہ جادو ہے جو سر چڑھ کر بولتا ہے۔