حدیث نمبر: 1795
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ , قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا ، قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ أَتَى عَلَيْكَ يَوْمٌ كَانَ أَشَدَّ مِنْ يَوْمِ أُحُدٍ ؟ ، فَقَالَ : لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمِكِ وَكَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ ، إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَى ابْنِ عَبْدِ يَالِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ ، فَلَمْ يُجِبْنِي إِلَى مَا أَرَدْتُ ، فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَهْمُومٌ عَلَى وَجْهِي ، فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلَّا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي ، فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ أَظَلَّتْنِي ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ ، فَنَادَانِي ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ ، وَمَا رُدُّوا عَلَيْكَ وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْكَ مَلَكَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ ، قَالَ : فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ ، ثُمَّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ وَأَنَا مَلَكُ الْجِبَالِ ، وَقَدْ بَعَثَنِي رَبُّكَ إِلَيْكَ لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرِكَ فَمَا شِئْتَ ، إِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَيْهِمُ الْأَخْشَبَيْنِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا " .

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ پر کوئی ایسا دن بھی آیا جو احد کے دن سے زیادہ شدید ہو؟ آپ نے فرمایا: ”مجھے تمہاری قوم سے بہت تکلیف پہنچی، جب میں خود کو ابن عبدیالیل بن عبدکلال کے سامنے لے گیا (یعنی اس کو دعوتِ اسلام دی) لیکن جو میں چاہتا تھا اس نے میری بات نہ مانی، میں غمزدہ ہو کر چل پڑا اور قرن ثعالب پر پہنچ کر ہی میری حالت بہتر ہوئی، میں نے سر اٹھایا تو مجھے ایک بادل نظر آیا، اس نے مجھ پر سایہ کیا ہوا تھا، میں نے دیکھا تو اس میں جبرائیل علیہ السلام تھے، انہوں نے مجھے آواز دے کر کہا: اللہ عزوجل نے جو کچھ آپ نے اپنی قوم سے کہا وہ اور انہوں نے جو آپ کو جواب دیا وہ سب سن لیا، اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کا فرشتہ آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ ان کفار کے متعلق اس کو جو چاہیں حکم دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی اور سلام کیا، پھر کہا: اے محمد! اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی طرف سے آپ کو دیا گیا جواب سن لیا، میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں اور مجھے آپ کے رب نے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ مجھے جو چاہیں حکم دیں، اگر آپ چاہیں تو میں ان دونوں سنگلاخ پہاڑوں کو (ٹھا کر) ان کے اوپر رکھ دوں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”بلکہ میں یہ امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں سے ایسے لوگ نکالے گا جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1795
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3231 | صحيح البخاري: 7389

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ پر اُحد کے دن سے زیادہ سخت دن گزرا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے تیری قوم کی طرف سے بہت تکالیف پہنچی اور سب سے زیادہ تکلیف عقبہ کے دن پہنچی، جب میں نے اپنے آپ کو ابن عبد یالیل بن عبد کلال کے سامنے پیش کیا، (اس کو اسلام کی دعوت دی) تو اس نے میری... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4653]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
يوم العقبة: اس سے مراد عقبۂ طائف ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور ابو طالب کی وفات کے بعد دس (10)
نبوت، شوال میں، بنو ثقیف کے سرداروں کو اسلام کی دعوت دینے طائف گئے، لیکن انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدترین سلوک کیا، اوباش لوگ آپ کے پیچھے لگا دئیے۔
(2)
فلم استفق: میں اپنے آپ میں نہیں آیا، مجھے افاقہ نہیں ہوا۔
(3)
قَرنِ الثَّعَالِب: یہی قرن منازل ہے، جو اہل نجد کا میقات ہے اور مکہ سے ایک دن رات کے فاصلہ پر ہے۔
(4)
أُطْبِقُ عَلَيْهِم الأَخْشَبَين: اخشبان سے مراد شارحین نے مکہ کے دو پہاڑ ابوقبيس، قعيقحان لیے ہیں، جو مکہ کے شمال و جنوب میں واقع ہیں اور اس وقت مکہ کی آبادی ان دونوں کے درمیان واقع تھی، لیکن سوال یہ ہے کہ سنگین ترین سلوک جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اہل طائف نے کیا اور انہیں کے اس بدترین سلوک کے بعد پہاڑوں کا فرشتہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ اگر آپ یہ چاہیں کہ میں ان کو دو پہاڑوں میں پیس کر رکھ دوں تو میں آپ کی خواہش کے مطابق ان کو پیس کر رکھ دوں گا تو پھر اہل مکہ کو مراد لینا کیوں کر درست ہو سکتا ہے، اس لیے صحیح بات یہی ہے کہ اخشبان مکہ کے دو پہاڑوں کو ان کی مضبوطی اور صلابت کی وجہ سے کہا گیا ہے، اس لیے مراد یہ ہے کہ مکہ کے ان مضبوط و مستحکم پہاڑوں جیسے پہاڑوں میں، اہل طائف کو پیس کر رکھ دوں یا مکہ کے ان دو پہاڑوں کو وہاں لے جا کر ان میں پیس دوں، کیونکہ پہاڑوں کے فرشتہ کے لیے ان پہاڑوں کا وہاں لے جانا مشکل نہ تھا یا پھر یہ مراد لیا جائے کہ بنو ثقیف نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بدسلوکی صرف اس لیے کیا کہ آپ کی قوم اہل مکہ نے آپ کی دعوت کو قبول نہیں کیا تھا، اگر وہ قبول کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان مصائب سے دوچار نہ ہونا پڑتا، اس لیے اس کا اصل سبب وہ تھے، اس لیے فرشتہ نے کہا کہ ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو میں اہل مکہ کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس ڈالوں۔
‘‘
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1795 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7389 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7389. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: سیدنا جبریل نے مجھے آواز دے کر کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی بات سن لی ہے اور جو کچھ انہوں نے آپ کو جواب دیا ہے اسے بھی سن لیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7389]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث انتہائی اختصار کے ساتھ بیان کی ہے: اس کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا احد کے دن سے زیادہ گراں اور تکلیف دہ دن بھی کبھی آپ پر آیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا۔
’’ہاں تمھاری قوم سے مجھے جن مصائب کا سامنا کرنا پڑا ان میں سب سے سنگین مصیبت اور شدید تکلیف دہ تھی جو مجھے عقبہ کے دن پہنچی۔
جب میں نےاپنے آپ کو عبد یالیل بن عبد کلال کے صاحبزادے پر پیش کیا مگر اس نے میری بات قبول نہ کی اس غم والم سے نڈھال اپنے رخ پر چل پڑا۔
مجھے قرن ثعالب پہنچ کر کچھ افاقہ ہوا۔
وہاں میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بادل کا ایک ٹکڑا مجھ پر سایہ کیے ہوئے ہے۔
میں نے بغور دیکھا تو اس میں حضرت جبرئیل علیہ السلام تھے انھوں نے مجھے آواز دیتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کا کلام اور ان کا جواب سن لیا ہے۔
اب اس نے آپ کے پاس پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے تاکہ آپ ان کے متعلق اسے جو حکم دیں اس کی تعمیل ہو گی۔
اس کے بعد پہاڑوں کےفرشتے نے آواز دی اور سلام کرنے کے بعد کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! بات یہی ہے۔
اب آپ جو چاہیں میں کرنے کے لیے حاضر ہوں۔
اگر آپ چاہیں تو میں انھیں دو پہاڑوں کے درمیان کچل دوں؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نہیں! مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشت سے ایسی نسل پیدا کرے گا جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرے گی اور اس کے ساتھ کسی کوشریک نہیں ٹھہرائے گی۔
‘‘ (صحیح البخاري، بدء الخلق: حدیث: 3231)

اس حدیث میں واضح طور پر اس اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سنتا ہے اور انھیں دیکھتا ہے۔
اس پر کوئی چیز مخفی نہیں سمع اور بصر اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفات ہیں جس کے متعلق ہم ابھی بیان کر آئے ہیں۔
جو شخص ان صفات کا انکار کرتا ہے ا سے ان سے آگاہ کیا جائے۔
اور دلائل و براہین سے اسے قائل کیا جائے اگر وہ اپنے انکار پر جما رہے اور حق کی وضاحت کے باوجود اسے قبول نہ کرے تو اس کے کفر میں کوئی شبہ نہیں کیونکہ اس نے ایک ایسی چیز کا انکار کیا ہے جو تمام انبیاء علیہم السلام کے اجماع سے ثابت ہے۔
(شرح کتاب التوحید للغنیمان: 199/1)
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے کرمانی کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان احادیث سے اللہ تعالیٰ کی دو ذاتی صفات سمع اور بصر کا ثبوت ملتا ہے۔
جب کوئی سنائی اور دیکھائی دینے والی چیز وجود میں آتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی ذاتی قدیم صفات کا تعلق ان سے قائم ہو جاتا ہے جبکہ معتزلہ ان صفات کو حادث کہتے ہیں قرآنی آیات اور احادیث ان کے موقف کی تردید کرتی ہیں۔
بہر حال اس سلسلے میں اسلاف کا موقف ہی صحیح اوردرست ہے۔
واللہ المستعان۔
(فتح الباري: 459/13)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7389 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3231 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3231. حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: کیا آپ پر اُحد کے دن سے سخت دن بھی کبھی آیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’میں نے تمہاری قوم کی طرف سے سخت تکالیف کا سامنا کیا ہے اور لوگوں سے سخت تکلیف جو میں نے اٹھائی وہ عقبہ کے دن تھی۔ جب میں نے خود کو ابن عبد یا لیل بن عبد کلال کے سامنے پیش کیا تو اس نے میری خواہش کے مطابق جواب نہ دیا۔ میں رنجیدہ منہ چلتا ہوا وہاں سے لوٹا۔ (مجھے ہوش نہیں تھا کہ کدھر جارہا ہوں؟)جب قرن ثعالب پہنچا توذرا ہوش آیا۔ میں نے اوپر سر اٹھایا تو دیکھا کہ بادل کے ایک ٹکڑے نے مجھ پر سایہ کردیا ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ اس میں حضرت جبرئیل ؑ موجود ہیں۔ انھوں نے مجھے آواز دی کہ اللہ تعالیٰ نے وہ جواب سن لیاہے جو آپ کی قوم نے آپ کو دیا ہے اور اس نے آپکے پاس پہاڑوں کے فرشتے کو بھیجاہے۔ آپ اسے کافروں کے متعلق جو چاہیں حکم دیں؟پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:3231]
حدیث حاشیہ: یہ طائف کا مشہور واقعہ ہے جب آنحضرت ﷺ اپنے شفیق چچا ابوطالب کے انتقال کے بعد بغرض تبلیغ اسلام طائف تشریف لے گئے تھے، آپ ﷺ نے وہاں کے سرداروں کو خصوصیت کے ساتھ اسلام کی دعوت دی، مگر وہ لوگ بدتمیزی سے پیش آئے اور آپ کے پیچھے اوباش لڑکوں کو لگادیا جن کی حرکات سے آپ کو سخت تکلیف کا سامنا ہوا، مگر ان حالات میں بھی آپ نے ان پر عذاب پسند نہیں فرمایا، بلکہ ان کی ہدایت کی دعا فرمائی جو قبول ہوئی۔
حضرت امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو لاکر اس سے بھی فرشتوں کا وجود ثابت فرمایا۔
اخشبین سے مراد مکہ کے دو مشہور پہاڑ جبل ابوتبیس اور جبل قعیقعان مراد ہیں۔
لفظ عقبہ جو روایت میں آیاہے یہ طائف کی طرف ایک گھاٹی کا نام ہے۔
طائف کی طرف آپ ﷺ شوال10نبوی میں تشریف لے گئے تھے۔
پہلے وہاں کے لوگوں نے خود آپ کو بلا بھیجا تھا بعد میں وہ مخالف ہوگئے اور انہوں نے آپ ﷺ پر پتھر مارے، ایک پتھر آپ کی ایڑی میں لگا اور آپ زخمی ہوگئے۔
اس قدر ستانے کے باوجود آپ ﷺ نے ان کے لیے دعائے خیر فرمائی۔
صلی اللہ علیه وسلم
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3231 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3231 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3231. حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: کیا آپ پر اُحد کے دن سے سخت دن بھی کبھی آیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’میں نے تمہاری قوم کی طرف سے سخت تکالیف کا سامنا کیا ہے اور لوگوں سے سخت تکلیف جو میں نے اٹھائی وہ عقبہ کے دن تھی۔ جب میں نے خود کو ابن عبد یا لیل بن عبد کلال کے سامنے پیش کیا تو اس نے میری خواہش کے مطابق جواب نہ دیا۔ میں رنجیدہ منہ چلتا ہوا وہاں سے لوٹا۔ (مجھے ہوش نہیں تھا کہ کدھر جارہا ہوں؟)جب قرن ثعالب پہنچا توذرا ہوش آیا۔ میں نے اوپر سر اٹھایا تو دیکھا کہ بادل کے ایک ٹکڑے نے مجھ پر سایہ کردیا ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ اس میں حضرت جبرئیل ؑ موجود ہیں۔ انھوں نے مجھے آواز دی کہ اللہ تعالیٰ نے وہ جواب سن لیاہے جو آپ کی قوم نے آپ کو دیا ہے اور اس نے آپکے پاس پہاڑوں کے فرشتے کو بھیجاہے۔ آپ اسے کافروں کے متعلق جو چاہیں حکم دیں؟پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:3231]
حدیث حاشیہ:

یہ واقعہ نبوت کے دسویں سال پیش آیا جب حضرت خدیجہ الکبریٰ ؓ اور جناب ابوطالب فوت ہوچکے تھے اور کفار کی ایذا رسانی میں شدت آگئی تھی۔
آپ اس امید پر طائف تشریف لے گئے کہ وہاں کچھ سہارا ملے گا۔
آپ وہاں قبیلہ ثقیف کے تین سرداروں کے پاس گئے اور اپنی قوم کے مظالم کی ان سے شکایت کی تو انھوں نے آپ کی مدد کرنے کی بجائے آپ سے سخت رویہ اختیار کیا جس سے آپ کو شدید دھچکا لگا۔
آپ وہاں دس روز ٹھہرے۔

عقبہ، منی کے میدان میں ایک وادی کا نام ہے۔
اسی طرح قرن ثعالب بھی مکہ سے دوسراحل پر واقع ہے۔
طائف میں سرداروں نے آپ سے بدتمیزی کی اور اوباش لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگادیا۔
انھوں نے آپ کو پتھر مارے۔
ایک پتھر آپ کی ایڑی پر لگا جس سے آپ زخمی ہوگئے۔
اس قدر ستائے جانے کے باوجود آپ نے ان کے لیے دعائے خیر کی جو اللہ تعالیٰ کے ہوں قبول ہوئی۔

امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے فرشتوں کا وجود اور ان کی کارکردگی ثابت کی ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3231 سے ماخوذ ہے۔