صحيح مسلم
كتاب الجهاد والسير— جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے
باب اشْتِدَادِ غَضَبِ اللَّهِ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: باب: جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود قتل کریں اس پر اللہ تعالی کا غصہ بہت سخت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ فَعَلُوا هَذَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ حِينَئِذٍ يُشِيرُ إِلَى رَبَاعِيَتِهِ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى رَجُلٍ يَقْتُلُهُ رَسُولُ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .ہمام بن منبہ سے روایت ہے، کہا: یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، انہوں نے کئی احادیث بیان کیں، ان میں سے ایک یہ ہے: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس قوم پر اللہ کا غضب شدید ہو گیا جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ کیا“ آپ اس وقت اپنے رباعی دانت کی طرف اشارہ فرما رہے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص پر سخت غضب ناک ہوتا ہے جس کو اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ میں (جہاد کرتے ہوئے) قتل کر دے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
رباعی وہ دانت ہوتے ہیں جو سامنے والے دودانتوں کے دائیں بائیں ہوتے ہیں اور ہر انسان کے چار دنت رباعی ہوتے ہیں۔
2۔
رسول اللہ ﷺ کے دائیں جانب والے نچلے رباعی دانت کے ساتھ نچلا ہونٹ بھی زخمی ہواتھا۔
غزوہ احد میں عتبہ بن ابی وقاص ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو پتھر مارا جس سے دائیں جانب والا نچلا رباعی دانت متاثر ہواتھا۔
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ مجھے کسی شخص کے قتل کی اتنی حرص نہ تھی جتنی اپنے حقیقی بھائی عتبہ بن ابی وقاص کوقتل کرنے کی خواہش تھی کیونکہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے اگلے دودانت زخمی کیے تھے۔
(فتح الباري: 457/7)