صحيح مسلم
كتاب الجهاد والسير— جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے
باب غَزْوَةِ أُحُدٍ: باب: جنگ احد کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَشُجَّ فِي رَأْسِهِ فَجَعَلَ يَسْلُتُ الدَّمَ عَنْهُ ، وَيَقُولُ : كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ سورة آل عمران آية 128 " .حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنگ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا (ثنائیہ کے ساتھ والا) رباعی دانت ٹوٹ گیا اور آپ کے سر اقدس میں زخم لگا، آپ اپنے سر سے خون پونچھتے تھے اور فرماتے تھے: ”وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کے سر میں زخم لگایا اور اس کا رباعی کا دانت توڑ دیا، اور وہ انہیں اللہ کی طرف بلا رہا تھا۔“ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اس معاملے میں آپ کے ہاتھ میں کوئی چیز نہیں (کہ وہ اللہ ان کی طرف توجہ فرمائے یا ان کو عذاب دے کہ وہ ظالم ہیں)۔“
تشریح، فوائد و مسائل
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنگ احد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے چاروں دانت (رباعیہ) توڑ دیئے گئے، اور پیشانی زخمی کر دی گئی، یہاں تک کہ خون آپ کے مبارک چہرے پر بہ پڑا۔ آپ نے فرمایا: ” بھلا وہ قوم کیوں کر کامیاب ہو گی جو اپنے نبی کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کرے، جب کہ حال یہ ہو کہ وہ نبی انہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہو۔ تو یہ آیت «ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم» ۱؎ نازل ہوئی۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3002]
وضاحت:
1؎:
اے نبی! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے یا عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں (آل عمران: 128)
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے خون بہایا گیا، آپ کے دانت توڑ دیئے گئے، آپ کے کندھے پر پتھر مارا گیا، جس سے آپ کے چہرے پر خون بہنے لگا، آپ اسے پونچھتے جا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے: ” وہ امت کیسے فلاح یاب ہو گی جس کا نبی انہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہو اور وہ اس کے ساتھ ایسا (برا) سلوک کر رہے ہوں۔“ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت: «ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون» نازل فرمائی۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3003]
وضاحت:
1؎:
یعنی انہوں نے اس حدیث کی روایت کرنے میں (وَرُمِيَ رَمْيَةً عَلَى كَتِفِهِ) کی بابت غلطی کی ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنگ احد کے دن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک دانت ٹوٹ گیا، اور سر زخمی ہو گیا، تو خون آپ کے چہرہ مبارک پر بہنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خون کو اپنے چہرہ سے پونچھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: وہ قوم کیسے کامیاب ہو سکتی ہے جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون سے رنگ دیا ہو، حالانکہ وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دے رہا تھا، تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ليس لك من الأمر شيء» ” اے نبی! آپ کو اس معاملے میں کچھ اختیار نہیں ہے “ (سورة آل عمران: 128)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4027]
فوائد و مسائل:
(1)
جہاد میں رسول اللہﷺ کی شجاعت مومنوں کے لیے اسوہ حسنہ ہے۔
(2)
رسول اللہﷺ کا یہ فرمانا افسوس کے طور پر تھا کہ انھوں نے اتنا بڑا جرم کیا ہے کیا معلوم اس کی پاداش میں ان پر عذاب ہی آجائے۔
(3)
اللہ تعالی نے فرمایا ہدایت دینا آپ کی ذمہ داری نہیں۔
ان میں بعض کو ایمان نصیب ہوگا بعض اپنے جرم کی سزا میں جہنم ردید ہوں گے۔
(4)
نبی ﷺ مخلوق کے دلوں پر اختیار نہیں رکھتے نہ عذاب لانا یا روکنا ان کے اختیار میں ہے۔