صحيح مسلم
كتاب الجهاد والسير— جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے
باب غَزْوَةِ أُحُدٍ: باب: جنگ احد کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يُسْأَلُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ ، فَقَالَ : " جُرِحَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ وَهُشِمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ ، فَكَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغْسِلُ الدَّمَ وَكَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ يَسْكُبُ عَلَيْهَا بِالْمِجَنِّ ، فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ أَنَّ الْمَاءَ لَا يَزِيدُ الدَّمَ إِلَّا كَثْرَةً أَخَذَتْ قِطْعَةَ حَصِيرٍ فَأَحْرَقَتْهُ حَتَّى صَارَ رَمَادًا ، ثُمَّ أَلْصَقَتْهُ بِالْجُرْحِ ، فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ " ،ابوحازم کے بیٹے عبدالعزیز نے اپنے والد سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے جنگ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخمی ہونے کے متعلق سوال کیا جا رہا تھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک زخمی ہو گیا تھا اور سامنے (ثنایا کے ساتھ) کا ایک دانت (رباعی) ٹوٹ گیا تھا اور خود سر مبارک پر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا (آپ کے چہرے سے) خون دھو رہی تھیں اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ڈھال سے اس (زخم) پر پانی ڈال رہے تھے، جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ دیکھا کہ پانی ڈالنے سے خون نکلنے میں اضافہ ہو رہا ہے تو انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر جلایا وہ راکھ ہو گیا، پھر اس کو زخم پر لگا دیا تو خون رک گیا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ : وَهُوَ يَسْأَلُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَمَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مَنْ كَانَ يَغْسِلُ جُرْحَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَنْ كَانَ يَسْكُبُ الْمَاءَ وَبِمَاذَا دُووِيَ جُرْحُهُ ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ غَيْرَ ، أَنَّهُ زَادَ وَجُرِحَ وَجْهُهُ ، وَقَالَ : مَكَانَ هُشِمَتْ كُسِرَتْ ،یعقوب بن عبدالرحمان القاری نے ابوحازم سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کے متعلق سوال کیا جا رہا تھا، انہوں نے کہا: سنو! اللہ کی قسم! مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زخم کون دھو رہا تھا اور پانی کون ڈال رہا تھا اور آپ کے زخم پر کون سی دوائی لگائی گئی، پھر عبدالعزیز کی حدیث کی طرح بیان کیا، مگر انہوں نے یہ اضافہ کیا: اور آپ کا چہرہ انور زخمی ہو گیا اور (خود) ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا کی جگہ ”ٹوٹ گیا“ کہا۔
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ مُطَرِّفٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ أُصِيبَ وَجْهُهُ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُطَرِّفٍ جُرِحَ وَجْهُهُ .امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے ابو حازم کی حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے ہیں اور ابن ابی حلال کی روایت میں ہے آپﷺ کا چہرہ زخمی کر دیا گیا اوپر ”جرح‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
هُشِمَتِ البَيضة: خود کو توڑ دیا گیا۔
(2)
يَسْكُبُ عَلَيْهَا بِالْمِجَنِّ: وہ خود سے زخم پر پانی ڈال رہے تھے۔
اور عبداللہ بن قمیہ مردود نے پتھر مارے۔
آپ نے فرمایا اللہ تجھے تباہ کرے۔
ایسا ہی ہوا کہ ایک پہاڑی بکری نے نکل کر اس کو سینگوں سے ایسا مارا کہ ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔
سچ ہے وہ لوگ کس طرح فلاح پاسکتے ہیں جن کے ہاتھوں نے اپنے زمانہ کے نبیﷺ کے سر کو زخمی کردیا ہو۔
1۔
اس حدیث کے مطابق ڈھال کو تحفظ کے علاوہ ایک اور مقصد کے لیے استعمال کیا گیا وہ یہ کہ حضرت علی ؓ اس میں پانی بھر کر لاتے تھے تاکہ رسول اللہ ﷺکے زخم کو دھویاجائے، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ ڈھال درمیان سے گہری تھی۔
2۔
بیماری اورتکلیف کا علاج کروانا توکل کے منافی نہیں کیونکہ رسول اکرم ﷺنے ایسا کیا ہے اور آپ سب لوگوں سے بڑھ کر توکل کرنے والے تھے۔
بہرحال امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ ڈھال سے تحفظ حاصل کیا جاسکتاہے۔
چہرہ کا زخم ابن قمیہ کے ہاتھوں سے ہوا اور دانتوں کا صدمہ عتبہ ابن ابی وقاص کے ہاتھوں سے پہنچا اور خود کو آپﷺ کے سر مبارک پر توڑنے والا عبداللہ بن ہشام تھا۔
خود‘ لوہے کا ٹوپ جو سر کی حفاظت کے لئے سر ہی پر پہنا جاتا ہے۔
حدیث سے اس کا پہننا ثابت ہوا۔
جنگ احد کے تفصیلی حالات کتاب المغازی میں آئیں گے‘ إن شاء اللہ۔
1۔
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ جنگی ہتھیاروں کا استعمال جائز ہے اور یہ تو کل کے منافی نہیں چنانچہ خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے سر مبارک پر خود پہنا۔
خود اس لوہے کی ٹوپی کو کہتے ہیں جو جنگ میں سر کی حفاظت کے لیے پہنی جاتی ہے۔
2۔
اس حدیث سے کود کا پہننا ثابت ہوا۔
اگرچہ اس قسم کے ہتھیار انسان کو موت سے نہیں بچا سکتے تاہم اسباب و ذرائع کا استعمال انتہائی ضروری ہے تاکہ ایسا کرنا دلوں میں مضبوطی کا باعث ہو۔
واللہ أعلم۔