حدیث نمبر: 1777
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا ، فَلَمَّا وَاجَهْنَا الْعَدُوَّ تَقَدَّمْتُ فَأَعْلُو ثَنِيَّةً ، فَاسْتَقْبَلَنِي رَجُلٌ مِنَ الْعَدُوِّ فَأَرْمِيهِ بِسَهْمٍ فَتَوَارَى عَنِّي ، فَمَا دَرَيْتُ مَا صَنَعَ وَنَظَرْتُ إِلَى الْقَوْمِ فَإِذَا هُمْ قَدْ طَلَعُوا مِنْ ثَنِيَّةٍ أُخْرَى ، فَالْتَقَوْا هُمْ وَصَحَابَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَلَّى صَحَابَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَرْجِعُ مُنْهَزِمًا وَعَلَيَّ بُرْدَتَانِ مُتَّزِرًا بِإِحْدَاهُمَا مُرْتَدِيًا بِالْأُخْرَى ، فَاسْتَطْلَقَ إِزَارِي فَجَمَعْتُهُمَا جَمِيعًا ، وَمَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْهَزِمًا وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَى ابْنُ الْأَكْوَعِ فَزَعًا ، فَلَمَّا غَشُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَنِ الْبَغْلَةِ ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ مِنَ الْأَرْضِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ بِهِ وُجُوهَهُمْ ، فَقَالَ : شَاهَتِ الْوُجُوهُ فَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْهُمْ إِنْسَانًا إِلَّا مَلَأَ عَيْنَيْهِ تُرَابًا بِتِلْكَ الْقَبْضَةِ ، فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ " .

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حنین کی جنگ لڑی، جب ہمارا دشمن سے سامنا ہوا تو میں آگے بڑھا پھر میں ایک گھاٹی پر چڑھ جاتا ہوں، میرے سامنے دشمن کا آدمی آیا تو میں اس پر تیر پھینکتا ہوں، وہ مجھ سے چھپ گیا، اس کے بعد مجھے معلوم نہیں اس نے کیا کیا۔ میں نے (ان) لوگوں کا جائزہ لیا تو دیکھا وہ ایک دوسری گھاٹی کی طرف ظاہر ہوئے، ان کا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کا ٹکراؤ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی پیچھے ہٹ گئے اور میں بھی شکست خوردہ لوٹتا ہوں۔ میرے (جسم) پر دو چادریں تھیں، ان میں سے ایک کا میں نے تہبند باندھا ہوا تھا اور دوسری کو اوڑھ رکھا تھا تو میرا تہبند کھل گیا، میں نے ان دونوں کو اکٹھا کیا اور شکست خوردگی کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، آپ اپنے سفید خچر پر تھے۔ (مجھے دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اکوع کا بیٹا گھبرا کر لوٹ آیا ہے۔“ جب وہ ہر طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ آور ہوئے تو آپ خچر سے نیچے اترے، زمین سے مٹی کی ایک مٹھی لی، پھر اسے سامنے کی طرف سے ان کے چہروں پر پھینکا اور فرمایا: ”چہرے بگڑ گئے۔“ اللہ نے ان میں سے کسی انسان کو پیدا نہیں کیا تھا مگر اس ایک مٹھی سے اس کی آنکھیں بھر دیں، سو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے، اللہ نے اسی (ایک مٹھی خاک) سے انہیں شکست دی اور (بعد ازاں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اموالِ غنیمت مسلمانوں میں تقسیم کیے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1777
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جنگ حنین لڑی تو جب ہم دشمن کے مقابلہ میں آئے، میں آگے بڑھ کر ایک گھاٹی پرچڑھ گیا، دشمن کا ایک آدمی میرے سامنے آیا تو میں نے اس پر تیر پھینکا اور وہ مجھ سے چھپ گیا، مجھے پتہ نہیں چلا، اس نے کیا کیا، میں نے دشمن لوگوں پر نظر دوڑائی تو وہ دوسری گھاٹی سے چڑھ چکے تھے تو ان کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں سے ٹکراؤ ہوا اور... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4619]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
استَطَلَقَ ازَارَي: بھاگتے ہوئے تہبند کھل گیا، (جس کو میں نے اوپر کی چادر کے ساتھ پکڑ لیا، کیونکہ باندھنے کا موقع نہ تھا۔
(2)
مُنهَزِمًا: مَرَرتُ کے فاعل سے حال ہے کہ میں شکست خوردہ گزرا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مفعول سے حال نہیں ہے کہ یہ کہا جا سکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم شکست کھا گئے تھے۔
(3)
شَاهَتِ الوُجُوه: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی نتیجہ میں شکست سے ان کے منہ لٹک گئے، کیونکہ ناکام ہو کر وہ قیدی بن چکے تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1777 سے ماخوذ ہے۔