صحيح مسلم
كتاب الجهاد والسير— جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے
باب كِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هِرَقْلَ يَدْعُوهُ إِلَى الإِسْلاَمِ: باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کا بیان جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام لانے کے لیے شام کے بادشاہ ہرقل کو لکھا تھا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ مِنْ فِيهِ إِلَى فِيهِ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَبَيْنَا أَنَا بِالشَّأْمِ إِذْ جِيءَ بِكِتَابٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هِرَقْلَ يَعْنِي عَظِيمَ الرُّومِ ، قَالَ : وَكَانَ دَحْيَةُ الْكَلْبِيُّ جَاءَ بِهِ فَدَفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى ، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ بُصْرَى إِلَى هِرَقْلَ ، فَقَالَ هِرَقْلُ : هَلْ هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ قَوْمِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ؟ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَدُعِيتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَدَخَلْنَا عَلَى هِرَقْلَ فَأَجْلَسَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا مِنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ؟ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : فَقُلْتُ : أَنَا فَأَجْلَسُونِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَجْلَسُوا أَصْحَابِي خَلْفِي ثُمَّ دَعَا بِتَرْجُمَانِهِ ، فَقَالَ لَهُ : قُلْ لَهُمْ إِنِّي سَائِلٌ هَذَا عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ ، قَال : فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : وَايْمُ اللَّهِ لَوْلَا مَخَافَةُ أَنْ يُؤْثَرَ عَلَيَّ الْكَذِبُ لَكَذَبْتُ ثُمَّ ، قَالَ : لِتَرْجُمَانِهِ سَلْهُ كَيْفَ حَسَبُهُ فِيكُمْ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : هُوَ فِينَا ذُو حَسَبٍ ، قَالَ : فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ ؟ ، قُلْتُ : لَا ، قَالَ : فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ ؟ ، قُلْتُ : لَا ، قَالَ : وَمَنْ يَتَّبِعُهُ أَشْرَافُ النَّاسِ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ ، قَالَ : قُلْتُ : بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ ، قَالَ : أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : لَا بَلْ يَزِيدُونَ ، قَالَ : هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطَةً لَهُ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : لَا ، قَالَ : فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ ؟ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَكَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : تَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالًا يُصِيبُ مِنَّا وَنُصِيبُ مِنْهُ ، قَالَ : فَهَلْ يَغْدِرُ ؟ ، قُلْتُ : لَا وَنَحْنُ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ صَانِعٌ فِيهَا ؟ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا أَمْكَنَنِي مِنْ كَلِمَةٍ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرَ هَذِهِ ، قَالَ : فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : لَا ، قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ : قُلْ لَهُ إِنِّي سَأَلْتُكَ عَنْ حَسَبِهِ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو حَسَبٍ ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي أَحْسَابِ قَوْمِهَا ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ كَانَ فِي آبَائِهِ مَلِكٌ ، فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقُلْتُ لَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ قُلْتُ رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهِ ، وَسَأَلْتُكَ عَنْ أَتْبَاعِهِ أَضُعَفَاؤُهُمْ أَمْ أَشْرَافُهُمْ ، فَقُلْتَ : بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ ، فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَدَعَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ يَذْهَبَ فَيَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَهُ سَخْطَةً لَهُ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ إِذَا خَالَطَ بَشَاشَةَ الْقُلُوبِ ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَزِيدُونَ أَوْ يَنْقُصُونَ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حَتَّى يَتِمَّ ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ فَزَعَمْتَ أَنَّكُمْ قَدْ قَاتَلْتُمُوهُ فَتَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سِجَالًا يَنَالُ مِنْكُمْ وَتَنَالُونَ مِنْهُ وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى ثُمَّ تَكُونُ لَهُمُ الْعَاقِبَةُ ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَغْدِرُ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ لَا يَغْدِرُ وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ لَا تَغْدِرُ ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقُلْتُ لَوَ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ قُلْتُ رَجُلٌ ائْتَمَّ بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : بِمَ يَأْمُرُكُمْ ؟ قُلْتُ : يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَالصِّلَةِ وَالْعَفَافِ ، قَالَ : إِنْ يَكُنْ مَا تَقُولُ فِيهِ حَقًّا فَإِنَّهُ نَبِيٌّ وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ وَلَمْ أَكُنْ أَظُنُّهُ مِنْكُمْ ، وَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ لَأَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ ، وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ وَلَيَبْلُغَنَّ مُلْكُهُ مَا تَحْتَ قَدَمَيَّ ، قَالَ : ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَأَهُ ، فَإِذَا فِيهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى ، أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ ، وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ ، وَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ وَيَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لَا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ ارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ عِنْدَهُ وَكَثُرَ اللَّغْطُ ، وَأَمَرَ بِنَا فَأُخْرِجْنَا ، قَالَ : فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي حِينَ خَرَجْنَا : لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ إِنَّهُ لَيَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ ، قَالَ : فَمَا زِلْتُ مُوقِنًا بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ "
معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں روبرو بتایا، کہا: (معاہدہ صلح کی) اس مدت کے دوران میں جو میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان تھی، میں سفر پر گیا۔ کہا: اس اثنا میں، جب میں شام میں تھا، ہرقل، یعنی شامِ روم کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک خط لایا گیا۔ کہا: اسے دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ لے کر آئے اور حاکم بُصریٰ کے حوالے کیا، بصریٰ کے حاکم نے وہ ہرقل تک پہنچا دیا تو ہرقل نے کہا: کیا اس شخص کی قوم میں سے، جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے، کوئی شخص یہاں موجود ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ کہا: تو قریش کے کچھ افراد سمیت مجھے بلایا گیا، ہم ہرقل کے پاس آئے تو اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا اور پوچھا: تم میں سے نسب میں اس آدمی کے سب سے زیادہ قریب کون ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے؟ ابوسفیان نے کہا: میں نے جواب دیا: میں ہوں۔ تو ان لوگوں نے مجھے ان کے سامنے بٹھا دیا اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھا دیا، پھر اس نے اپنے ترجمان کو بلایا اور اس سے کہا: ان سے کہہ دو: میں اس آدمی سے اس شخص کے بارے میں پوچھنے لگا ہوں جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے، اگر یہ میرے سامنے جھوٹ بولے تو تم لوگ اس کی تکذیب کر دینا۔ کہا: ابوسفیان نے کہا: اللہ کی قسم! اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ میری طرف جھوٹ کی نسبت کی جائے گی تو میں جھوٹ بولتا۔ پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا: اس سے پوچھو: تم میں اس کا حسب (خاندان) کیسا ہے؟ کہا: میں نے جواب دیا: وہ ہم میں حسب والا ہے۔ اس نے پوچھا: کیا اس کے آباء و اجداد میں سے کوئی بادشاہ بھی تھا؟ میں نے جواب دیا: نہیں۔ اس نے پوچھا: کیا اس نے (نبوت کے حوالے سے) کچھ کہا، اس کے کہنے سے پہلے تم اس پر جھوٹ بولنے کا الزام لگاتے تھے؟ میں نے جواب دیا: نہیں۔ اس نے پوچھا: اس کے پیروکار کون لوگ ہیں؟ بڑے لوگ ہیں یا کمزور لوگ ہیں؟ میں نے جواب دیا: بلکہ کمزور لوگ ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا وہ بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟ کہا: میں نے جواب دیا: نہیں، بلکہ وہ بڑھ رہے ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا ان میں سے کوئی اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد اسے ناپسند کرتے ہوئے مرتد بھی ہوتا ہے؟ میں نے جواب دیا: نہیں۔ اس نے پوچھا: کیا تم نے اس سے جنگ بھی کی ہے؟ میں نے جواب دیا: ہاں۔ اس نے پوچھا: تو تمہاری اس سے جنگ کیسی رہی؟ میں نے جواب دیا: ہمارے اور اس کے درمیان جنگ کنویں کے ڈول کی طرح ہے، وہ ہمیں نقصان پہنچاتا ہے اور ہم اسے نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا وہ بدعہدی کرتا ہے؟ میں نے جواب دیا: نہیں، ہم اس کی جانب سے (کی گئی) صلح کے زمانے میں ہیں، ہمیں معلوم نہیں، وہ اس میں کیا کرے گا۔ کہا: اللہ کی قسم! اس ایک کلمے کے سوا اس میں کوئی اور بات ملانا میرے لیے ممکن نہ ہوا۔ اس نے پوچھا: کیا اس سے پہلے کسی نے وہ بات کہی ہے؟ میں نے جواب دیا: نہیں۔ اس نے اپنے ترجمان سے کہا: ان سے کہو: میں نے تم سے اس کے حسب کے بارے میں پوچھا تو تم نے کہا کہ وہ تم میں (اونچے) حسب والا ہے۔ رسول اسی طرح ہوتے ہیں، اپنی قوم کے اعلیٰ خاندانوں میں بھیجے جاتے ہیں۔ اور میں نے پوچھا: کیا اس کے آباء و اجداد میں کوئی بادشاہ تھا؟ تو تم نے دعویٰ کیا: نہیں، میں نے (دل میں) کہا: اگر اس کے آباء و اجداد میں کوئی بادشاہ ہوتا تو میں کہتا: وہ آدمی اپنے آباء کی بادشاہت حاصل کرنا چاہتا ہے اور میں نے تم سے اس کے پیروکاروں کے بارے میں پوچھا: وہ کمزور لوگ ہیں یا اشراف ہیں؟ تو تم نے کہا: بلکہ وہ کمزور لوگ ہیں، رسولوں کے پیروکار وہی لوگ ہوتے ہیں۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ جو وہ کہتا ہے اس سے پہلے تم اس پر جھوٹ کا الزام لگاتے تھے تو تم نے کہا: نہیں، اس طرح میں جان گیا کہ یہ ممکن نہیں کہ وہ لوگوں پر تو جھوٹ نہ بولے مگر اللہ پر جھوٹ باندھنے لگے۔ اور میں نے تم سے پوچھا: کیا اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی اس سے ناراض ہو کر اس کے دین سے نکلا ہے؟ تو تم نے کہا: نہیں، ایمان جب دلوں میں رچ بس جاتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے۔ اور میں نے تم سے پوچھا: کیا وہ بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟ تو تم نے کہا کہ وہ بڑھ رہے ہیں، ایمان ایسا ہی ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ مکمل ہو جاتا ہے۔ اور میں نے تم سے پوچھا: کیا تم نے اس سے لڑائی کی؟ تو تم نے کہا کہ (ہاں) تم نے اس سے لڑائی کی ہے اور تمہارے اور اس کے درمیان جنگ ڈول کی طرح ہے، وہ تم میں سے لوگوں کو قتل کرتا ہے اور تم اس کے لوگوں میں سے قتل کرتے ہو، رسول اسی طرح ہوتے ہیں، انہیں آزمایا جاتا ہے، پھر انجام انہی کے حق میں ہوتا ہے۔ اور میں نے تم سے پوچھا: کیا وہ عہد شکنی کرتا ہے؟ تو تم نے کہا کہ وہ عہد شکنی نہیں کرتا اور رسول اسی طرح ہوتے ہیں، وہ بدعہدی نہیں کرتے۔ اور میں نے تم سے پوچھا: کیا اس سے پہلے کسی نے یہ بات کہی (کہ وہ اللہ کا رسول ہے؟) تو تم نے کہا: نہیں، میں نے (دل میں) کہا: اگر کسی نے اس سے پہلے یہ بات کہی ہوتی تو میں کہتا: یہ آدمی وہی بات کہنا چاہتا ہے جو اس سے پہلے کہی جا چکی ہے۔ کہا: پھر اس نے پوچھا: وہ تمہیں کس چیز کا حکم دیتا ہے؟ میں نے جواب دیا: وہ ہمیں نماز، زکاۃ، صلہ رحمی اور پاکبازی کا حکم دیتا ہے۔ اس نے کہا: اگر تم جو اس کے بارے میں کہتے ہو، سچ ہے، تو بلاشبہ وہ نبی ہے اور میں جانتا تھا کہ اس کا ظہور ہونے والا ہے لیکن میں یہ نہیں سمجھتا تھا کہ وہ تم میں سے ہو گا، اور اگر مجھے علم ہو جائے کہ میں ان تک پہنچ سکتا ہوں تو میں ان سے ملنے کو محبوب رکھوں۔ اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو میں ان کے پاؤں دھوتا اور ان کی حکومت اس زمین تک پہنچ کر رہے گی جو میرے قدموں کے نیچے ہے۔ کہا: پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا اور اسے پڑھا تو اس میں (لکھا) تھا: اللہ کے نام سے جو بہت زیادہ رحم کرنے والا، ہمیشہ مہربانی کرنے والا ہے، اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شاہ، روم ہرقل کے نام، اس پر سلامتی ہو جس نے ہدایت کا اتباع کیا، اس کے بعد، میں تمہیں اسلام کے بلاوے کے ساتھ دعوت دیتا ہوں، اسلام قبول کر لو، سلامتی پا لو گے، اسلام قبول کر لو، اللہ تمہیں دو بار اجر دے گا اور اگر تم نے منہ موڑ لیا تو کسانوں (عام لوگوں) کا گناہ (جو تمہارے پیچھے چلتے ہیں) تم پر ہو گا۔ اور ”اے اہل کتاب! اس بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان ایک جیسی ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں، ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے، پھر اگر وہ منہ موڑ لیں تو کہہ دیں، (تم) گواہ رہو کہ ہم فرماں بردار (اسلام قبول کرنے والے) ہیں۔“ جب وہ خط پڑھنے سے فارغ ہوا تو اس کے پاس آوازیں بلند ہونے لگیں اور شور بڑھ گیا، اس نے ہمارے بارے میں حکم دیا تو ہمیں باہر بھیج دیا گیا۔ کہا: جب ہم باہر نکلے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ابوکبشہ کے بیٹے کا معاملہ تو بہت بڑا ہو گیا ہے، اس سے تو بنو اصفر (اہل روم) کا بادشاہ بھی خوف کھاتا ہے۔ کہا: اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں مجھے ہمیشہ یقین رہا کہ وہ غالب آئیں گے، یہاں تک کہ اللہ نے مجھ میں اوپر سے (غالب کر کے) اسلام داخل کر دیا۔
وحَدَّثَنَاه حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ ، وَكَانَ قَيْصَرُ لَمَّا كَشَفَ اللَّهُ عَنْهُ جُنُودَ فَارِسَ مَشَى مِنْ حِمْصَ إِلَى إِيلِيَاءَ شُكْرًا لِمَا أَبْلَاهُ اللَّهُ ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَقَالَ : إِثْمَ الْيَرِيسِيِّينَ ، وَقَالَ : بِدَاعِيَةِ الْإِسْلَامِ .صالح نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور حدیث میں یہ اضافہ کیا: جب اللہ نے قیصر (کے سر پر سے) فارس کے لشکروں کو ہٹا دیا تو وہ اس نعمت کا شکر ادا کرنے کے لیے، جو اللہ نے اس پر کی تھی، پیدل چل کر حمص سے ایلیاء گیا، اور انہوں نے حدیث میں (یوں) کہا: ”اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے۔“ اور انہوں نے (اریسین کے بجائے یاء کے ساتھ) یریسین اور ”اسلام کی طرف بلانے والے کلمے کے ساتھ (دعوت دیتا ہوں)“ کے الفاظ کہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اس سے مراد وہ عرصہ ہے، جس میں قریش مکہ نے حدیبیہ کے مقام پر 6ھ میں دس سال تک لڑائی نہ کرنے کی صلح کی تھی۔
(2)
هِرَقل: مشہور قول کے مطابق، ھاء پر زیر ہے اور را پر زبر، قاف ساکن ہے، اگرچہ ایک قول کے مطابق را ساکن ہے اور قاف پر زیر ہے، یعنی هرقل اور یہ روم کے بادشاہ کا نام ہے۔
(3)
ترجمان: امام نووی کے نزدیک تاء پر زبر اور جیم پر پیش پڑھنا بہتر ہے، اگرچہ دونوں پر زیر اور دونوں پر پیش پڑھنا بھی درست ہے، ترجمہ کرنے والا، مترجم، ’’ایک زبان کو دوسری زبان میں منتقل کرنے والا۔
‘‘ (4)
لَوْلَا مَخَافَةُ أَنْ يُؤْثَرَ عَلَيَّ الْكَذِبُ: اگر اندیشہ نہ ہوتا کہ میری طرف سے جھوٹ نقل کیا جائے گا، جس سے معلوم ہوتا ہے، اسے یہ اندیشہ نہیں تھا کہ وہ اسے وہاں جھوٹا قرار دیں، لیکن وہ یہ سمجھتا تھا کہ میں جو یہاں جھوٹی بات کہوں گا مکہ جا کر وہ اسے نقل کریں گے تو لوگ مجھے جھوٹا قرار دیں گے، اس طرح وہ جھوٹ بولنا اپنے مقام و مرتبہ کے مناسب نہیں سمجھتا تھا، جب اب صورت حال یہ ہے کہ مسلمان لیڈروں کا اوڑھنا بچھونا ہی جھوٹ ہے اور اس کے بغیر ان کا کام ہی نہیں چل سکتا۔
(5)
أشراف: شريف کی جمع ہے، مراد عمومی اور غالب صورت ہے، کہ عام طور پر اہل نخوت اور چوہدری لوگ ابتداً انبیاء کی مخالفت کرتے ہیں، اگرچہ کچھ ان کا ساتھ بھی دیتے ہیں۔
(6)
سخطة له: دین کے کسی عیب یا نقص سے ناراض ہو کر مرتد ہونا، کیونکہ کسی اور سبب سے الگ ہونا ناممکن ہے۔
(7)
تَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَنا وَبَيْنَهُ سِجَالً: ا کہ ہمارے اور اس کے درمیان لڑائی کا اسلوب ڈول کھینچنے کا ہے، کبھی وہ غالب آتا ہے، کبھی ہم، کیونکہ اس وقت تین عظیم جنگیں ہو چکی تھیں، بدر، اُحد اور خندق، بدر میں مسلمان غالب، اُحد میں بظاہر وہ غالب، اگرچہ انجام کے اعتبار سے مسلمان فاتح تھے اور خندق میں کافر حملہ آور ہوئے تھے، لیکن ناکام لوٹے تھے۔
(8)
مَا أَمْكَنَنِي مِنْ كَلِمَةٍ: کہ مجھے کہیں ایسا موقعہ نہیں ملا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی عیب اور کمزوری منسوب کر سکوں، لیکن یہاں چونکہ معاہدہ کا تعلق آئندہ زمانہ سے تھا، اس لیے میں نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ عہد شکنی نہیں کرے گا، اپنی لاعلمی کا اظہار کیا اور ان کے مکان رفیع کو گرانے کی کوشش کی، لیکن ہرقل نے اس کی اس بات کی کوئی اہمیت نہیں دی، اس لیے اپنے تبصرہ میں کہا، تیرا خیال اور قول یہ ہے کہ وہ عہد شکنی نہیں کرتا۔
(9)
إِذاخَالَطَ بشَاشَة القُلَوب: جب وہ دل کے انشراح اور فردت میں اتر جاتا ہے، اس میں گھر بنا لیتا ہے تو وہ نکلتا نہیں ہے اور کوئی انسان ایمان سے پھر کر ارتداد اختیار نہیں کرتا۔
(10)
إِنْ يَكُنْ مَا تَقُولُ فِيهِ حَقًّا: اگر تمہاری یہ باتیں سچی ہیں تو پھر یہ زمین جہاں میں کھڑا ہوں، وہ بھی ان کے اقتدار اور حکومت میں آ جائے گی۔
ہرقل نے انتہائی بصیرت اور زیرکی سے ابو سفیان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں انتہائی جچے تلے اور بنیادی سوالات کیے اور اس کے جوابات کی روشنی میں، صحیح صحیح نتائج اخذ کیے اور اسے یقین ہو گیا کہ آپ واقعی نبی ہیں اور چونکہ وہ تورات اور انجیل کا ماہر تھا اور علم نجوم سے آگاہ تھا، اس لیے اس کو پتہ چل چکا تھا کہ آخری نبی پیدا ہونے والا ہے اور آپ کی علامات سے اس کو آپ کے نبی ہونے کا یقین ہو گیا، اس لیے اس نے آپ سے انتہائی عقیدت اور محبت کا اظہار کیا، لیکن اقتدار کی ہوس اور خواہش نے اسے اندھا کر دیا اور آپ کے اس جملہ اسلم تسلم سے وہ یہ صحیح نتیجہ نہ نکال سکا کہ مسلمان ہونے کے بعد میری حکومت برقرار رہے گی، اس لیے مسلمان نہ ہوا بلکہ جنگ موتہ 8ھ میں مسلمانوں کے خلاف میدان مقابلہ میں آیا اور آپ نے یہاں سے اسے دوبارہ خط لکھا، لیکن اس نے پھر بھی اپنے اسلام کا اظہار کیا، آپ کے جواب میں، اپنے مسلمان ہونے کا اظہار کیا، لیکن مسلمانوں کے مقابلہ سے پیچھے نہ ہٹا اور اپنی قوم کے سامنے اسلام کا اظہار نہ کیا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس نے جھوٹ لکھا ہے، وہ عیسائیت پر قائم ہے۔
‘‘ فوائد ومسائل: آپﷺ نے ہرقل کے نام کو خط لکھا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر کافر کو بھی خط لکھا جائے تو اس کا آغاز بسم اللہ سے کیا جائے گا، پھر لکھنے والا اپنا نام شروع میں لکھ دے گا تاکہ مکتوب الیہ کو پتہ چل جائے لکھنے والا کون ہے اور اس کے مطابق خط کو اہمیت دے، نیز مکتوب الیہ کے لیے، اس کے مقام و مرتبہ کے مطابق مناسب تعظیمی القاب لکھے جائیں گے، تاکہ وہ شروع ہی سے نفرت و غضب کا شکار نہ ہو جائے، اس لیے آپ نے ہرقل کے لیے عظیم الروم کے الفاظ استعمال کیے اور اس خط سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کافر کو سلام کہنے میں پہل نہیں کی جائے گی، اکثر علماء کا یہی قول ہے اور صحیح احادیث سے اس کا تائید ہوتی ہے، بلکہ بعض علماء کا خیال تو یہ ہے کہ بدعتی اور فاسق و فاجر کو بھی سلام نہیں کہا جائے گا اور آپﷺ نے اَسلِم تَسلَم کے الفاظ کے ذریعہ انتہائی بلیغ اور مؤثر انداز میں انتہائی جامعیت اور اختصار کے ساتھ ہر قسم کی دنیوی اور اخروی سلامتی کی ضمانت دے دی تھی اور پوری قوم کے اجروثواب کے سمیٹنے کا شوق اور ترغیب دلائی تھی، اگر تم مسلمان ہو گئے تو تمہاری رعایا بھی تمہارے سبب مسلمان ہو جائے گی اور تمہیں اس کا اجروثواب ملے گا، اگر تم مسلمان نہ ہوئے تو تمہارے ڈر اور خوف کی وجہ سے تمہاری کمزور رعایا جن کی اکثریت کاشتکاروں اور کسانوں پر مشتمل ہے، وہ مسلمان نہیں ہو گی اور ان کا وبال بھی تم پر پڑے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خط میں اس کی طرف ایک آیت لکھی جس کے بارے میں دو نظریات ہیں۔
(1)
آپﷺ نے یہ عبارت اپنے کلام کے طور پر لکھی، کیونکہ یہ خط آپ نے 7ھ میں لکھا جبکہ یہ آیت وفد نجران کی آمد پر 9ھ میں اتری، گویا آپﷺ کے الفاظ آنے والی آیت کے موافق نکلے۔
(2)
یہ آیت وفد نجران کی آمد سے پہلے اتر چکی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد کی آمد پر ان کو پڑھ کر سنائی، اس صورت میں اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کافر کو بھی دعوت و تبلیغ کے لیے خط میں آیات قرآن لکھی جا سکتی ہیں۔
ابن ابی کبشہ سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپﷺ کو اس نام سے تعبیر کرنے کی مختلف وجوہ بیان کی جاتی ہیں، (1)
ابو کبشہ آپ کے نانا یا دادا کا نام تھا اور عربوں کا یہ دستور تھا کہ جب وہ کسی کی تحقیر کرنا چاہتے تو اسے اس کے کسی غیر معروف دادے یا نانے کی طرف منسوب کرتے۔
(2)
آپﷺ کے رضاعی باپ حارث کی بیٹی کبشہ تھی، اس لیے اسے ابو کبشہ کہا جاتا تھا۔
(3)
ابو کبشہ آپﷺﷺ کی رضاعی ماں حلیمہ کے باپ کی کنیت تھی۔
(4)
ابو کبشہ نامی ایک بت پرست شخص تھا، جس نے اپنی قوم کے دین بت پرستی کو چھوڑ کر شعریٰ ستارہ کی پرستش شروع کر دی تھی تو گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرح اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا، بہرحال ابو سفیان جو اس وقت کافر تھا، اس نے آپﷺ کی نسبت آپ کے معروف اور مشہور دادے عبدالمطلب کی بجائے کسی ایسی شخصیت کی طرف کی جو گمنام اور غیر معروف تھا، آخر کار اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق سے ابو سفیان کو نوازا، اس کے دل میں اسلام داخل کر دیا اور اسے مسلمان ہو جانے کی توفیق عنایت فرمائی اور وہ فتح مکہ کے موقعہ پر مسلمان ہو گیا۔
1۔
مذکورہ حدیث "حدیث ہرقل" کے نام سے مشہور ہے۔
امام بخاری ؒنے اس سے متعدد مسائل کا استنباط کیا ہے اور اسے متعدد مقامات پر مختصر اور تفصیل سے بیان کیا ہے اس مقام پر اسے پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ غیر مسلم حضرات کو دعوت اسلام کس طرح دینی چاہیے اس کی وضاحت کی ہے۔
اس میں شاہ روم ہرقل کو دعوت اسلام دینے کا اسلوب بیان ہوا ہےکہ جہاد وقتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینا ضروری ہے۔
2۔
اس میں ابو سفیان ؓ اور اس طرح دیگر سرداران قریش کو جو آپ نے دعوت دی تھی اس کا حاصل بیان ہوا ہے۔
چنانچہ حضرت ابو سفیان ؓ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہو گئے اور انھیں مؤلفہ القلوب میں شمار کیا گیا۔
قبل ازیں وہ مشرکین کے کمانڈر کی حیثیت سے غزوہ بدر اور غزوہ اُحد میں شریک رہے۔
آخرکار اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کی حقانیت ان کے دل میں پیوست کردی اور وہ مسلمان ہو گئے۔
اس وقت جو دل میں کراہت تھی وہ بھی اللہ تعالیٰ نے دل سے نکال دی۔
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے پہلے وحی نزول وحی، اقسام وحی اور زمانہ وحی سے متعلقہ احادیث بیان کی ہیں۔
اب ضرورت تھی کہ جس شخصیت پر وحی کا نزول ہوا ہے اس مبارک ہستی کا بھی تعارف کرایا جائے، چنانچہ اس حدیث میں موحیٰ الیہ، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال واعمال اورآپ کی تعلیمات کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے، نیز اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر دو زبردست اور ناقابل تردید شہادتیں موجود ہیں: ایک ابوسفیان کا بیان، جو اس وقت آپ کا سخت دشمن تھا۔
دوسرے ہرقل کی تصدیق، جو اس وقت ایک عظیم سلطنت کا فرمانروا اور مستند عالم اہل کتاب تھا۔
اس کے علاوہ باب کی غرض عظمت وحی کو بیان کرنا بھی ہے۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اوصاف عالیہ کو بیان کیا گیا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہی کی ذات ستودہ صفات وحی الٰہی کی حق دار تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عظمت سے وحی الٰہی کی عظمت خود ظاہر ہے۔
2۔
ہرقل روم کے بادشاہ کانام تھا اور اس ملک کے بادشاہ کو قیصر کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔
یہ حدیث اس مناسبت سے حدیث ہرقل کہلاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کفار کی طرف سے بیرونی خلفشار اور اندرونی محاذ آرائی سے فارغ ہوئے توآپ نے مختلف ملوک وسلاطین کو دعوتی خطوط ارسال کیے، چنانچہ آپ نے حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ ایک خط قیصر روم کو بھی روانہ کیا جو ان دنوں ایفائے نذر کے لیے بیت المقدس آیا ہوا تھا۔
ہوا یوں کہ اس وقت دنیا کی دو بری حکومتیں فارس اور روم مدت دراز سے آپس میں ٹکراتی چلی آرہی تھیں۔
بالآخر فارس نے روم کو ایک فیصلہ کن شکست سے دوچار کردیا اور شام، مصر اور ایشیائے کو چک کے تمام ملک رومیوں کے ہاتھ سے نکل گئے۔
ایسے حالات میں قرآن نے پیشین گوئی فرمائی کہ بلاشبہ رومی اہل فارس سے مغلوب ہوچکے ہیں لیکن چند سالوں کے اندر اندر وہ فاتح بن کر ابھریں گے، چنانچہ ہرقل ایسے مایوس کن اور حوصلہ شکن حالات میں اپنا زائل شدہ اقتدار واپس لینے کے لیے سرگرم ہوگیا اور اس وقت نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے مجھے فتح وکامرانی دی تو حمص سے پیدل چل کر بیت المقدس پہنچوں گا اور اللہ کا شکر ادا کروں گا۔
آخر کار اللہ تعالیٰ نے رومی اہل کتاب کو ایرانی مجوسیوں پر غالب کردیا، چنانچہ ان دنوں ایفائے نذر کے لیے ہرقل بیت المقدس آیا ہوا تھا۔
3۔
ہرقل کے حوالے سے اس حدیث کا تعلق گویا کتاب بدء الوحی اور کتاب الایمان دونوں سے ہے۔
وحی کے ساتھ تعلق بایں طور ہے کہ ہرقل جو عیسائی مذہب کاحامل تھا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار کیا جو وحی کا نتیجہ ہے۔
اور اس حدیث کا مابعد کتاب، کتاب الایمان سے تعلق اس طرح ہے کہ ایمان کی امتیازی علامت عمل ومتابعت ہے جو ہرقل میں نہ تھی، تصدیق جلی اور اقرار موجود ہے لیکن اس کے مطابق عمل نہ کرنے سے کافر ہی رہا۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کتاب کو حدیث نیت سے شروع کیا تھا، گویا آپ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اگر ہرقل کی نیت درست تھی تو اسے کچھ فائدہ پہنچنے کی امید ہے، بصورت دیگر اس کے مقدر میں ہلاکت اور تباہی کےسوا کچھ نہیں۔
(فتح الباري: 1؍61)
4۔
ابوسفیان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوکبشہ کی طرف منسوب کیا کہ ابن ابی کبشہ کا معاملہ تو بہت بڑھ گیا ہے۔
دراصل عرب کا یہ طریقہ ہے کہ کسی کو تحقیر واستہزا کے پیش نظر اسے ایسے شخص کی طرف منسوب کردیتے ہیں جو گمنام ہو لیکن اس مقام پر اصل بات یہ ہے کہ عرب میں ابوکبشہ نامی ایک شخص بھی گزرا تھا جس نے اپنا آبائی دین چھوڑ کر شعریٰ ستارے کی پرستش شروع کردی تھی۔
چونکہ ابو کبشہ نے ایک نیا دین اختیار کیاتھا۔
اس لیے ہر وہ شخص جو عرب کے آبائی دین سے ہٹ کر نیا دین اختیار کرتا، اسے ابن ابی کبشہ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔
(فتح الباري: 1؍57)
اس سلسلے میں کچھ اور تاویلات بھی کی گئی ہیں، ان تمام میں قدرمشترک یہی ہے کہ ابوسفیان نے مذاق اور حقارت سے یہ اسلوب اختیار کیا۔
5۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگرکافر کسی لقب سے معروف ومشہور ہوتو مسلمانوں کے لیے اسے اس کے لقب سے پکارنا جائز ہے۔
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقل کو عظیم الروم کے لقب سے یاد کیا۔
اسلام دشمنوں کےساتھ نرمی اور ملاطفت کاطریقہ سکھاتا ہے، اس لیے کسی قوم کے معززو مکرم شخص کے لیے اونچے القاب استعمال کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف نہیں۔
اس کا کم از کم فائدہ یہ ہوتا ہے کہ دشمن اگردوستی پر آمادہ نہ ہوتو دشمنی میں کمی ضرور آجاتی ہے ہرقل چونکہ رومیوں کی نظر میں باعظمت تھا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسےمروجہ لقب ہی سے یاد کیا ہے۔
6۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اختتام پر ایسے الفاظ لاتے ہیں جن سے پڑھنے والے کے لیے اپنی آخرت کے متعلق غوروفکر کرنے کی راہیں کھلتی ہیں وقت گزرجاتا ہے عمرختم ہوجاتی ہے لیکن انسان کے اچھے یا بُرے اعمال کے اثرات ختم نہیں ہوتے۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں اچھائی یا بُرائی کامعاملہ اس کے خاتمے سے ہوتا ہے۔
ہرقل کا معاملہ بھی ایسا ہی رہا، وہ ایمان نہ لاسکا حالانکہ اسے بہترین مواقع میسر آئے تھے۔
بہرحال امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ لوگوں کو انجام اور خاتمے کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ ہرقل کا انجام جنت ہوگا یا دوزخ؟ اس سے قطع نظر، تم اپنے خاتمے پر غوروفکر کرو اورآخری حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی تیاری میں اپنے آپ کو مصروف کرو۔
7۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس باب کی چھ احادیث سے یہ سمجھایا ہے کہ آگے کتاب میں جس قدر احکام ومسائل آئیں گے وہ سب وحی الٰہی سے ماخوذ ہیں جو محفوظ عن الخطا اور نہایت ہی عظیم الشان ہیں۔
اور وحی کی عظمت بیان کرنے کے بعد سب سے پہلے کتاب الایمان لائے ہیں جو دین اسلام کی خشت اول ہے اور اسی ایمان پر آخرت میں نجات کامدار ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقل کے نام خط لکھا: ” اللہ کے رسول محمد کی طرف سے روم کے بادشاہ ہرقل کے نام، سلام ہو اس شخص پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔“ محمد بن یحییٰ کی روایت میں ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ ابوسفیان نے ان سے کہا کہ ہم ہرقل کے پاس گئے، اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا تو اس میں لکھا تھا: «بسم الله الرحمن الرحيم، من محمد رسول الله إلى هرقل عظيم الروم سلام على من اتبع الهدى أما بعد» ۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5136]
1۔
خط ہو یا کوئی اوراہم تحریریں اس کی ابتداء میں بسم الله الرحمٰن الرحيم ’’لکھنا سنت ہے۔
اس کی بجائے عدد لکھنا خلاف سنت اور بدعت سیئہ ہے۔
2۔
خط میں پہلے کاتب اپنا نام لکھے اس کے بعد مکتوب الیہ کا
3۔
کافر کے نام خط میں مسنون سلام کی بجائے یوں لکھا جائے۔
(وَالسَّلَامُ عَلَىٰ مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَىٰ) سلامتی ہو اس پر جو ہدایت کا پیروکار ہو۔
4۔
اسلام کی دعوت یا کسی اور شرعی غرض سے قرآن مجید کی آیات لکھ دینا بھی جائز ہے۔
اس وجہ سے کے یہ کافر کے ہاتھ میں جایئں گی۔
آیات تحریر کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
الا یہ کہ خوب واضح ہو کہ وہ آیات قرآنیہ کی ہتک کریں گے۔
اس صورت میں یقیناً نہ لکھی جایئں۔
اور یہی مسئلہ قرآن مجید کا ہے۔
دعوت اسلام کی غرض سے کافر کو قرآن مجید دیا جا سکتا ہے۔
5۔
دعوت کے میدان کو حتیٰ الامکان پھیلانا چاہیے۔
اور تحریری میدان میں بھی یہ کارخیر سرانجام دیا جانا چاہیے۔
(۱)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام بادشاہوں کو خطوط لکھے تو روم کے بادشاہ ہرقل کو بھی خط لکھا۔ اس نے ابو سفیان رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھا جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے اور تجارت کی غرض سے شام گئے ہوئے تھے۔
(۲) اس میں خط لکھنے کا ادب بھی ذکر ہوا ہے کہ پہلے بسم اللہ لکھی جائے اور خط لکھنے والا اپنا نام اور عہدہ لکھے اور اس کے بعد جس کی طرف خط لکھا جارہا ہے اس کا نام لکھا جائے نیز خط اگر کافر کے نام ہو تو سلام میں یہ انداز اختیار کیا جائے کہ سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔
(۳) مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کافر سے محبت کے خطوط لکھے بلکہ مبنی بر دعوت خطوط ہونے چاہئیں۔
کے ذریعہ دعوت اسلام پیش کی تھی۔
مگر افسوس کہ ہرقل حقیقت جان کر بھی اسلام نہ لا سکا اور قومی عار پر اس نے نارِدوزخ کو اختیار کیا۔
بیشتر دنیا داروں کا یہی حال رہا ہے کہ وہ دنیاوی عار کی وجہ سے حق سے دور رہے ہیں یا باوجودیکہ دل سے حق کو حق جانتے ہیں۔
اس طویل حدیث سے بہت سے مسائل کا استخراج ہوتا ہے، جس کے لیے فتح الباری کا مطالعہ ضروری ہے۔
ابوکبشہ آپ ﷺ کی انا حلیمہ دائی کے شوہرکا نام تھا۔
اس لیے قریش آپ ﷺ کو ابوکبشہ سے نسبت دینے لگے تھے کہ وہ آپ ﷺ کا رضاعی باپ تھا۔
اس سے یہ ثابت ہوا کہ ہرقل مسلمان نہیں ہوا تھا۔
گو دل سے تصدیق کرتا تھا مگر آنحضرتﷺ نے خود فرمایا کہ وہ نصرانی ہے، اسلام قبول کرنے کے لیے ظاہر وباطن ہر دو طرح سے مسلمان ہونا ضروری ہے كَلِمَةٍ سوآء کے بارے میں حضرت حافظ صاحب فرماتے ہیں۔
أَنَّ الْمُرَادَ بِالْكَلِمَةِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَعَلَى ذَلِكَ يدل سِيَاق الْآيَة الَّذِي تضمنه قَوْله أَن لانعبد إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنَّ جَمِيعَ ذَلِكَ دَاخِلٌ تَحْتَ كَلِمَةِ الْحَقِّ وَهِيَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَالْكَلِمَةُ عَلَى هَذَا بِمَعْنَى الْكَلَامِ وَذَلِكَ سَائِغٌ فِي اللُّغَةِ فَتُطْلَقُ الْكَلِمَةُ عَلَى الْكَلِمَاتِ لِأَنَّ بَعْضَهَا ارْتَبَطَ بِبَعْضٍ فَصَارَتْ فِي قُوَّةِ الْكَلِمَةِ الْوَاحِدَةِ بِخِلَافِ اصْطِلَاحِ النُّحَاةِ فِي تَفْرِيقِهِمْ بَيْنَ الْكَلِمَةِ وَالْكَلَامِ (فتح الباری)
خلاصہ یہی ہے کہ کلمہ سواء سے مراد لااله الا اللہ ہے۔
1۔
اس حدیث کا عنوان سے یہ تعلق ہے کہ اس میں رسول اللہ ﷺ کے اس آیت پر عمل کرنے کا ذکر ہے جیسے امام بخاری ؒ نے عنوان میں ذکر کیا ہے مختلف بادشاہوں کو جو دعوتی خطوط لکھے گئے ان میں اسی آیت کو بنیاد بنا کر رسول ﷺ نے دعوت حق دی۔
2۔
اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہرقل بالکل صحیح نتیجے پر پہنچ گیا تھا مگر اس کے درباریوں کے سامنے اس کی کوئی پیش نہ چل سکی، اور اتنی جراءت ایمانی اس میں نہ تھی کہ وہ اپنی حکومت کوخیر آباد کہہ کرمسلمان ہوجاتا اور دنیا وآخرت کی سعادت حاصل کرلیتا۔
یہی وہ کلمہ سواء یا کلمہ توحید ہے جس کا ذکر ہرالہامی کتاب میں پایا جاتا ہے۔
بعد میں لوگوں نے اس میں کئی طرح کی ملاوٹ کردی جیسا کہ عیسائیوں نے بعد میں الوہیت مسیح اور عقیدہ تثلیث کا شاخسانہ کھڑاکردیا تھا۔
3۔
اس کلمہ سواء کی تین دفعات ہیں:۔
اللہ کے سوا کسی کو عبادت نہ کریں۔
کسی دوسرے کو اللہ کے اسماء صفات اور اختیارات میں شریک نہ کریں۔
۔
کوئی شخص اللہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو رب نہ بنائے۔
اس آخری دفعہ کا مطلب یہ ہےکہ اللہ کے مقابلے میں احبار ورہبان کی بات کو نہ مانا جائے۔
دورحاضر میں اتحاد بین المذاہب کا بہت چرچاہے۔
ہمارے رجحان کے مطابق اتحاد بین المذاہب کی بنیاد اگریہی کلمہ ہو، یعنی کلمہ توحید تو یہ تحریک بہت ہی بابرکت ہے، اگر اس کے علاوہ کسی اور بات کو اس کی بنیاد قراردیا گیا ہے تویہ اتحاد کی تحریک نہیں بلکہ اسلام کو نیچا دکھانے کی سازش ہے۔
واللہ المستعان۔
جامع الصحیح میں جگہ جگہ آپ نے اپنے خدا داد اجتہادی ملکہ سے کام لیا ہے۔
آپ کے سامنے یہ نہیں ہوتا کہ ان کو کس مسلک کی موافقت کرنی ہے اورکس کی تردید۔
ان کے سامنے صرف کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ہوتی ہے۔
ان ہی کے تحت وہ مسائل واحکام پیش کرتے ہیں۔
وہ کسی مجتہد و امام کے مسلک کے مخالف ہوں یا موافق حضرت امام کو قطعاً یہ پرواہ نہیں ہوتی۔
پھر موجودہ دیوبندی ناشران بخاری کا کئی جگہ یہ لکھنا کہ یہاں امام بخاری ؒنے فلاں امام کا مسلک اختیار کیا ہے بالکل غلط اور حضرت امام کی شان اجتہاد میں تنقیص ہے۔
اس جگہ بھی صاحب تفہیم البخاری نے ایسا ہی الزام دہرایا ہے۔
وہ صاحب لکھتے ہیں کہ امام مالک ؒ کہتے ہیں کہ وعدہ کرنے کا حکم بھی قضا کے تحت آسکتا ہے اور امام بخاری ؒ نے بھی غالباً اس باب میں امام مالک ؒ کا مسلک اختیار کیا ہے۔
(تفہیم البخاری، پ: 10....ص: 117)
سچ ہے المرأ یقیس علی نفسه مقلدین کا چونکہ یہی رویہ ہے وہ مجتہد مطلق امام بخاری ؒ کو بھی اسی نظر سے دیکھتے ہیں جوبالکل غلط ہے۔
حضرت امام خود مجتہد مطلق ہیں۔
رحمه اللہ تعالیٰ۔
اس میں یہ بیان ہے کہ ہرقل نے کہا کہ پیغمبر دغا یعنی عہد شکنی نہیں کرتے، اسی سے امام بخاری نے باب کا مطلب نکالا کہ عہد کا پورا کرنا انبیاءکی خصلت ہے جو بڑی فضیلت رکھتی ہے اور عہد توڑنا دغابازی کرنا ہر شریعت میں منع ہے۔
1۔
رسول اللہ ﷺ نے صلح حدیبیہ کے وقت کفار قریش سے دس سال تک جنگ بندی کا معاہدہ کیا تھا۔
اس دوران میں ابوسفیان قریشی قافلے کے ہمراہ شام کے علاقے میں گئے ہوئے تھے۔
2۔
تفصیلی روایت میں ہرقل کا یہ قول مذکور ہے۔
’’پیغمبر عہد شکنی نہیں کرتے۔
‘‘ امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے وعدہ پوراکرنے کی فضیلت ثابت کی ہے کہ عہد کا پوراکرنا حضرات انبیاء ؑ کی خصلت ہے اور عہد شکنی ہرامت میں قبیح اور مذموم رہی ہے اور انبیائے كرام ؑ سابقین نے اس سے منع کیا ہے۔
دغا بازی اور عہد شکنی رسولوں کی صفات سے نہیں کیونکہ وہ تو ہمیشہ عہد کی پاسداری کرتے اور اسے اچھی نظر سے دیکھتے تھے۔
ایمان لانے کے بعد مسلمانوں کے لئے دونوں انجام نیک اور اچھے ہیں۔
فتح کی صورت کو تو سب اچھی سمجھتے ہیں لیکن لڑائی میں موت اور شہادت ایک مومن کا آخری مقصود ہے‘ اللہ کے راستے میں لڑتا ہے اور اپنی جان دے دیتا ہے‘ جب اللہ کی بارگاہ میں پہنچتا ہے تو اس کی نوازشیں اور ضیافتیں اسے خوب حاصل ہوتی ہیں۔
1۔
مسلمان لڑتے لڑتے اپنی جان،جاں آفریں کے حوالے کردیتا ہے یا فتح سے ہمکنار ہوتا ہے،اس کے لیے دونوں انجام اچھے ہیں۔
فتح کی صورت میں تو تمام لوگ اسے اچھے انجام سے تعبیر کرتے ہیں لیکن جنگ میں موت اور شہادت بھی ایک گم گشتہ سرمایہ ہے۔
جب وہ اللہ کے حضور پہنچتاہے تو اللہ کی طرف سے بہت سی نوازشات اسے حاصل ہوتی ہیں۔
2۔
امام بخاری ؒنے آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے مذکورہ حدیث پیش کی ہے کہ (إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ ۖ)
سے مراد فتح یا شہادت ہے۔
«. . . أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ، أَخْبَرَهُ:" أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ وَهُمْ بِإِيلِيَاءَ، ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ كَثُرَ عِنْدَهُ الصَّخَبُ، فَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ وَأُخْرِجْنَا، فَقُلْتُ: لِأَصْحَابِي حِينَ أُخْرِجْنَا لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ إِنَّهُ يَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ . . .»
”. . . ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک جب شاہ روم ہرقل کو ملا تو) اس نے اپنا آدمی انہیں تلاش کرنے کے لیے بھیجا۔ یہ لوگ اس وقت ایلیاء میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ آخر (طویل گفتگو کے بعد) اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک منگوایا۔ جب وہ پڑھا جا چکا تو اس کے دربار میں ہنگامہ برپا ہو گیا (چاروں طرف سے) آواز بلند ہونے لگی۔ اور ہمیں باہر نکال دیا گیا۔ جب ہم باہر کر دئیے گئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابن ابی کبشہ (مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے) کا معاملہ تو اب بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ یہ ملک بنی اصفر (قیصر روم) بھی ان سے ڈرنے لگا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ: 2978]
باب اور حدیث میں مناسبت: ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت کچھ اس طرح سے ہوگی کہ لفظی مطابقت کے لحاظ سے ابوسفیان رحمہ اللہ کا فرمان: «إنه يخافه ملك بني الأصفر» کہ یہ ملک بنی اصفر (قیصر روم) بھی ان سے ڈرتے ہیں، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
ابن المنیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «موضع الترجمة من خبر أبى سفيان قوله: ”يخافه ملك بني الأصفر“.» [المستواري، ص: 167]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «والغرض منه هنا قوله: ”إنه يخاف ملك بني الأصفر“.» [فتح الباري، ج 6، ص: 159]
یعنی ان کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ڈرنا، یہ ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت کا پہلو ہے، مزید اگر غور کیا جائے تو یہ لوگ جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک دیا گیا تھا وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوسوں دور تھے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «لانه كان بين المدينة و بين المكان الذى كان قيصر ينزل فيه مدة شهر أو نحوه.» [فتح الباري، ج 6، ص: 159]
”یقینا مدینے اور وہ جگہ جہاں قیصر ہے دونوں میں ایک ماہ یا کچھ لگ بھگ کی مسافت ہے۔“
علامہ عینی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: شام اور حجاز کے درمیان ایک ماہ یا اس سے زائد مسافت ہے۔ [عمدة القاري، ج 14، ص: 236]
بدرالدین بن جماعۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «مطابقة حديث أبى سفيان للترجمة قوله انه ليخافه ملك بني الأصفر صفود كان بالشام، و بين الشام و الحجاز مسيرة شهر.» [مناسبات تراجم البخاري، ص: 88]
”ابوسفیان رحمہ اللہ کی حدیث میں ترجمۃ الباب سے مطابقت یہ ہے کہ ابوسفیان رحمہ اللہ نے فرمایا: «انه ليخافه ملك بني الأصفر» اور وہ شام میں تھے، شام اور حجاز کے درمیان ایک مہینے کی مسافت ہے۔“
فائدہ: ہم یہاں پر عرب کا نقشہ واضح کر رہے ہیں، نقشہ کو دیکھ کر آپ مسافت کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔
آپ کے بے شمار معجزات میں سے یہ بھی آپ کا اہم معجزہ تھا۔
آپ کے دشمن جو آپ سے صدہا میلوں کے فاصلے پر رہتے تھے وہ وہاں سے ہی بیٹھے ہوئے آپ کے رعب سے مرعوب رہا کرتے تھے۔
(ﷺ)
مدینہ طیبہ اور شام جہاں شاہ روم قیصر رہتا تھا کے درمیان ایک ماہ کی مسافت تھی۔
اسی طرح جب اس نے تبوک کے باڈر پر اپنی فوجیں جمع کیں اور رسول اللہ ﷺ کو علم ہوا تو آپ مدینہ طیبہ سے بھاری نفری لے کر اس کے مقابلے کے لیے نکلے۔
مدینہ طیبہ سے تبوک ایک ماہ کی مسافت پر تھا قیصر پر اس قدر رعب پڑا کہ اسے بھاگنے میں عافیت نظر آئی۔
چنانچہ وہ واپس لوٹ گیا۔
رسول اللہ ﷺ کا معجزہ تھا کہ سینکڑوں میل دور بھی دشمن آپ سے مرعوب رہتا تھا۔
وفقنا اللہ لما یحب و یرضی آمین۔
(1)
خط لکھنے کا یہ انداز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خط کا آغاز بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے ہونا چاہیے، نیز کاتب کا نام پہلے اور مکتوب الیہ کا نام بعد میں لکھا جائے۔
(2)
یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک خاص انداز سے اہل کتاب کو خط لکھتے وقت سلام لکھا جا سکتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا کہ سلام اس شخص پر ہو جو ہدایت کی پیروی کرے۔
مطلق طور پر اہل کتاب کو سلام میں پہل نہیں کرنی چاہیے بلکہ ہدایت کی اتباع اور حق سے تمسک کے ساتھ مشروط کرکے سلام لکھا جائے۔
(فتح الباري: 58/11)
اس حدیث میں رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے کا حکم عام ہے۔
اس میں مسلمان اور مشرک کا فرق نہیں کیا گیا۔
چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ تمھیں ماؤں کے متعلق حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے۔
‘‘ آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، پھر فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ تمھیں تمھارے آباؤ اجداد کے متعلق حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمھیں زیادہ قریبی رشتے دار، پھر ان کے بعد دوسرے تعلق داروں کے متعلق بھی وصیت کرتا ہے۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، الأدب، حدیث: 3661)
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’آپ کہہ دیں: میں اس کام پر تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا،البتہ قرابت کی محبت ضرور چاہتا ہوں۔
‘‘ (الشوری42: 23)
اس آیت کریمہ سے بھی صلہ رحمی کی اہمیت کا پتا چلتا ہے، خواہ وہ رشتے دار مشرک ہی کیوں نہ ہو۔