صحيح مسلم
كتاب الجهاد والسير— جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے
باب إِخْرَاجِ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ: باب: یہود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے نکالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1767
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ ، وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ حَتَّى لَا أَدَعَ إِلَّا مُسْلِمًا " ،حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرۃ العرب سے ضرور نکال دوں گا حتی کہ صرف مسلمانوں کو اس میں رہنے دوں گا۔‘‘
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ . ح وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .سفیان ثوری اور معقل بن عبیداللہ دونوں نے ابوزبیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1606 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´یہود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے باہر نکالنے کا بیان۔`
عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاللہ جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال باہر کر دوں گا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1606]
عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاللہ جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال باہر کر دوں گا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1606]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جزیرہ عرب وہ حصہ ہے جسے بحر ہند، بحر ِ احمر، بحرشام ودجلہ اور فرات نے احاطہ کررکھا ہے، یا طول کے لحاظ سے عدن ابین کے درمیان سے لے کر اطراف شام تک کا علاقہ اور عرض کے اعتبار سے جدہ سے لے کر آبادی عراق کے اطراف تک کا علاقہ، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرمﷺ کی خواہش تھی کہ جزیرہ ٔعرب سے کافروں اور یہودو نصاری کو باہر نکال دیں، آپﷺ کی زندگی میں اس پر پوری طرح عمل نہ کیاجا سکا، لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں آپ ﷺ کی اس خواہش کو کہ عرب میں دودین نہ رہیں یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے جلاوطن کردیا۔
وضاحت:
1؎:
جزیرہ عرب وہ حصہ ہے جسے بحر ہند، بحر ِ احمر، بحرشام ودجلہ اور فرات نے احاطہ کررکھا ہے، یا طول کے لحاظ سے عدن ابین کے درمیان سے لے کر اطراف شام تک کا علاقہ اور عرض کے اعتبار سے جدہ سے لے کر آبادی عراق کے اطراف تک کا علاقہ، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرمﷺ کی خواہش تھی کہ جزیرہ ٔعرب سے کافروں اور یہودو نصاری کو باہر نکال دیں، آپﷺ کی زندگی میں اس پر پوری طرح عمل نہ کیاجا سکا، لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں آپ ﷺ کی اس خواہش کو کہ عرب میں دودین نہ رہیں یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے جلاوطن کردیا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1606 سے ماخوذ ہے۔