صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب مَعْنَى قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} وَهَلْ رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ لَيْلَةَ الإِسْرَاءِ: باب: اس باب میں یہ بیان ہے کہ «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى» سے کیا مراد ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق تعالیٰ جل جلالہ کو معراج کی رات میں دیکھا تھا یا نہیں۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " رَآهُ بِقَلْبِهِ " .عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (رب تعالیٰ کو) دل سے دیکھا۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ جَمِيعًا ، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ أَبِي جَهْمَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى سورة النجم آية 11 ، وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى سورة النجم آية 13 ، قَالَ : " رَآهُ بِفُؤَادِهِ مَرَّتَيْنِ " ،وکیع نے کہا: ہمیں اعمش نے زیاد بن حصین ابوجہمہ سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوعالیہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے آیت: «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ» ’’جھوٹ نہ دیکھا دل نے جو دیکھا‘‘ اور «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ» ’’اور آپ نے اسے ایک بار اترتے ہوئے دیکھا‘‘ (کے بارے میں) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (رب تعالیٰ کو) اپنے دل سے دو بار دیکھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَهْمَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ .امام صاحب رحمہ اللہ نے ایک دوسری سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول بیان کیا ہے۔