صحيح مسلم
كتاب الجهاد والسير— جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے
باب اسْتِحْقَاقِ الْقَاتِلِ سَلَبَ الْقَتِيلِ: باب: قاتلوں کو مقتول کا سامان دلانا۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ ، فَبَيْنَا نَحْنُ نَتَضَحَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ ، فَأَنَاخَهُ ثُمَّ انْتَزَعَ طَلَقًا مِنْ حَقَبِهِ ، فَقَيَّدَ بِهِ الْجَمَلَ ثُمَّ تَقَدَّمَ يَتَغَدَّى مَعَ الْقَوْمِ وَجَعَلَ يَنْظُرُ وَفِينَا ضَعْفَةٌ وَرِقَّةٌ فِي الظَّهْرِ وَبَعْضُنَا مُشَاةٌ ، إِذْ خَرَجَ يَشْتَدُّ ، فَأَتَى جَمَلَهُ ، فَأَطْلَقَ قَيْدَهُ ثُمَّ أَنَاخَهُ وَقَعَدَ عَلَيْهِ ، فَأَثَارَهُ فَاشْتَدَّ بِهِ الْجَمَلُ فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ عَلَى نَاقَةٍ وَرْقَاءَ ، قَالَ سَلَمَةُ : وَخَرَجْتُ أَشْتَدُّ ، فَكُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ النَّاقَةِ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ ، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ ، فَأَنَخْتُهُ فَلَمَّا وَضَعَ رُكْبَتَهُ فِي الْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي ، فَضَرَبْتُ رَأْسَ الرَّجُلِ فَنَدَرَ ثُمَّ جِئْتُ بِالْجَمَلِ أَقُودُهُ عَلَيْهِ رَحْلُهُ وَسِلَاحُهُ ، فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ ، فَقَالَ : مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ ؟ ، قَالُوا : ابْنُ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : لَهُ سَلَبُهُ أَجْمَعُ " .حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ہوازن سے جنگ لڑی اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کا کھانا کھا رہے تھے کہ اس دوران ایک آدمی سرخ اونٹ پر آیا اور اس نے اسے بٹھا دیا اور اپنی کمر سے اس کے لیے تسمہ نکال کر اس کے ساتھ اونٹ کو باندھ دیا، پھر لوگوں کے ساتھ صبح کا کھانا کھانے کے لیے آگے بڑھا اور جائزہ لینے لگا، ہم میں کمزور لوگ تھے یا کمزوری تھی اور سواریوں کی کمی تھی اور ہم میں سے بعض لوگ پیدل تھے، پھر اپنے اونٹ کے پاس آیا، اس کا تسمہ کھولا، پھر اسے بٹھایا اور اس پر سوار ہو گیا اور اسے اٹھایا اور اونٹ اسے لے کر دوڑ پڑا، ایک آدمی نے خاکستری اونٹنی پر اس کا تعاقب کیا اور میں اونٹنی کی سرین تک پہنچا، پھر آگے بڑھ گیا حتی کہ اونٹ کی سرین تک جا پہنچا، پھر آگے بڑھا حتی کہ میں نے اونٹ کی نکیل پکڑ کر اس کو بٹھا لیا تو جب اس نے اپنا گھٹنا زمین پر رکھا میں نے اپنی تلوار سونت لی اور اس آدمی کی گردن (سر) اڑا دی تو وہ گر پڑا، پھر میں اونٹ کو کھینچ لایا، اس کا پالان اور اسلحہ اس پر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ میرا استقبال کیا اور پوچھا، ”اس آدمی کو کس نے قتل کیا ہے۔‘‘ لوگوں نے کہا، ابن اکوع رضی اللہ تعالی عنہ نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی تمام سلب اس کی ہے۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
حضرت سلمہ بن اکوع ؓنے جس شخص کو قتل کیا تھا وہ جنگجو تھا اور امان لیے بغیر ہی چلا آیا تھا۔
اگرچہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وہ امان لے کر آیا تھا لیکن جب اس نے اپنا کام کر لیا اور جاسوسی پوری کرلی تو جلدی سے اٹھااور تیزی سے دوڑنے لگا۔
اس سے معلوم ہوا کہ وہ امان لیے بغیر دارالاسلام میں داخل ہوا تھا اس لیے اسے قتل کردیا گیا۔
2۔
اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ جنگ کی جاسوسی کرنے والے کو قتل کردیا جائے۔
یہ جنگ ہوازن کا واقعہ ہے قبل ازیں مال غنیمت کے احکام نازل ہو چکے تھے کہ وہ صرف اللہ کے لیے ہے لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس عام قرآنی حکم کو خاص فرمایا کہ کافر کا ساز و سامان اسے قتل کرنے والے کو ملتا ہے۔
(فتح الباري: 204/6)
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوازن کا غزوہ کیا، وہ کہتے ہیں: ہم چاشت کے وقت کھانا کھا رہے تھے، اور اکثر لوگ ہم میں سے پیدل تھے، ہمارے ساتھ کچھ ناتواں اور ضعیف بھی تھے کہ اسی دوران ایک شخص سرخ اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اور اونٹ کی کمر سے ایک رسی نکال کر اس سے اپنے اونٹ کو باندھا، اور لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے لگا، جب اس نے ہمارے کمزوروں اور سواریوں کی کمی کو دیکھا تو اپنے اونٹ کی طرف دوڑتا ہوا نکلا، اس کی رسی کھولی پھر اسے بٹھایا اور اس پر بیٹھا اور اسے ایڑ لگاتے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2654]
1۔
کافر جاسوس خواہ مستامن ہی ہو۔
(اجازت لے کر مسلمانوں کے پاس لے کر آیا ہو) قتل کیا جا سکتا ہے۔
کیونکہ وہ حربی کافروں میں شامل ہے۔
2۔
کافر مقتول کا خاص سامان اس کے قاتل مجاہد کو دیا جاتا ہے۔
اسے سلب کہتے ہیں۔
3۔
جہاد میں کامیابی کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تقویٰ ہے۔
دیگر وسائل محض ظاہری اسباب ہوتے ہیں۔
لیکن ان سے صرف نظر کرنا جائز نہیں۔
4۔
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نوعمر جوان تھے۔
اور تیز دوڑنے میں نہایت ممتاز تھے۔
اس لئے اونٹ سوار کو جا پکڑا۔
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو مقابلہ کے لیے للکارا، اور اسے قتل کر ڈالا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے چھینا ہوا سامان بطور انعام مجھے ہی دے دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2836]
فوائد و مسائل:
(1)
سلب سے مراد مقتول کا ذاتی سامان ہے مثلاً: لباس، تلوار وغیرہ۔
یہ چیزیں اسی مجاہد کا حق ہیں جو اس کافر کو قتل کرے۔
(2)
سلب کے علاوہ باقی مال غنیمت مجاہدین کی اجتماعی ملکیت ہے۔
اس میں سے ہر مجاہد وہی کچھ لے سکتا ہے۔
جو مال غنیمت کی تقسیم کے وقت اس کے حصے میں آئے۔