حدیث نمبر: 1753
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ حِمْيَرَ رَجُلًا مِنَ الْعَدُوِّ ، فَأَرَادَ سَلَبَهُ ، فَمَنَعَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَكَانَ وَالِيًا عَلَيْهِمْ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ لِخَالِدٍ : مَا مَنَعَكَ أَنْ تُعْطِيَهُ سَلَبَهُ ؟ ، قَالَ : اسْتَكْثَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : ادْفَعْهُ إِلَيْهِ ، فَمَرَّ خَالِدٌ ، بِعَوْفٍ فَجَرَّ بِرِدَائِهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَلْ أَنْجَزْتُ لَكَ مَا ذَكَرْتُ لَكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتُغْضِبَ ، فَقَالَ : لَا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ لَا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ ، هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُونَ لِي أُمَرَائِي ؟ إِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُهُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتُرْعِيَ إِبِلًا أَوْ غَنَمًا ، فَرَعَاهَا ثُمَّ تَحَيَّنَ سَقْيَهَا فَأَوْرَدَهَا حَوْضًا ، فَشَرَعَتْ فِيهِ ، فَشَرِبَتْ صَفْوَهُ وَتَرَكَتْ كَدْرَهُ فَصَفْوُهُ لَكُمْ وَكَدْرُهُ عَلَيْهِمْ " ،

معاویہ بن صالح نے عبدالرحمان بن جبیر سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حمیر کے ایک آدمی نے دشمن کے ایک آدمی کو قتل کر دیا اور اس کا سلب (مقتول کا سازوسامان) لینا چاہا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انہیں منع کر دیا اور وہ ان پر امیر تھے، چنانچہ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ (اپنے حمیری ساتھی کی حمایت کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو بتایا تو آپ نے خالد رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تمہیں اس کے مقتول کا سامان اسے دینے سے کیا امر مانع ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں نے اسے زیادہ سمجھا۔ آپ نے فرمایا: ”وہ (سامان) ان کے حوالے کر دو۔“ اس کے بعد حضرت خالد رضی اللہ عنہ حضرت عوف رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے ان کی چادر کھینچی اور کہا: کیا میں نے پورا کر دیا جو میں نے آپ کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کہا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات سن لی تو آپ کو غصہ آ گیا اور فرمایا: ”خالد! اسے مت دو، خالد! اسے مت دو۔ کیا تم میرے (مقرر کیے ہوئے) امیروں کو میرے لیے چھوڑ سکتے ہو (کہ میں اصلاح کروں، تم طعن و تشنیع نہ کرو!) تمہاری اور ان کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جسے اونٹوں یا بکریوں کا چرواہا بنایا گیا، اس نے انہیں چرایا، پھر ان کو پانی پلانے کے وقت کا انتظار کیا اور انہیں حوض پر لے گیا، انہوں نے اس میں سے پینا شروع کیا تو انہوں نے اس کا صاف پانی پی لیا اور گدلا چھوڑ دیا تو صاف پانی تمہارے لیے ہے اور گدلا ان کا۔“

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ مَنْ خَرَجَ مَعَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ ، وَرَافَقَنِي مَدَدِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ غَيْرَ ، أَنَّهُ قَالَ : فِي الْحَدِيثِ ، قَالَ عَوْفٌ : فَقُلْتُ يَا خَالِدُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ ، قَالَ : بَلَى وَلَكِنِّي اسْتَكْثَرْتُهُ .

صفوان بن عمرو نے عبدالرحمان بن جبیر بن نفیر سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں غزوہ موتہ میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جانے والوں کے ساتھ روانہ ہوا، یمن سے مدد کے لیے آنے والا ایک آدمی بھی میرا رفیق سفر ہوا۔۔، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی طرح حدیث بیان کی، البتہ انہوں نے حدیث میں کہا: عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا: خالد! کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلب (مقتول کے سازوسامان) کا فیصلہ قاتل کے حق میں کیا تھا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! لیکن میں نے اسے زیادہ خیال کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1753
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک حمیری آدمی نے دشمن کے ایک آدمی کو قتل کر دیا اور اس کی سلب لینی چاہی تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ جو ان کے امیر تھے، نے اسے روک دیا، حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد سے پوچھا، ’’تو نے اسے سلب دینے سے کیوں انکار کیا؟‘‘ اس نے کہا، میں نے اسے زیادہ محسوس کیا، اے اللہ کے رسولﷺ! آپ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4570]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: یہ واقعہ جنگ موتہ کا ہے کہ حمیری آدمی نے ایک رومی شاہسوار کو قتل کر ڈالا اور اس کی سلب لے لی اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس کو زیادہ خیال کرتے ہوئے، سلب واپس لے لی تو حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد کو کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ یہی ہے کہ سلب قاتل کو ملے گی، اس لیے آپ سلب واپس کر دیں وگرنہ میں یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کروں گا۔
لیکن حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے سلب زیادہ خیال کرتے ہوئے واپس کرنے سے انکار کر دیا تو واپسی پر حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد کو سلب دے دینے کا حکم دیا تو حضرت عوف نے خالد پر طنز کی کہ کیوں میں نے جو کچھ کہا تھا، اس کو پورا کر دکھایا یا نہ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے، کیونکہ امراء پر طنز و طعن کرنا، ان کی اطاعت اور توقیر و تکریم کے منافی ہے، اس سے ان کی بے وقعتی اور بے وقاری لازم آتی ہے۔
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد کو سلب روک دینے کا حکم دے دیا، حالانکہ آپ دینے کا فیصلہ دے چکے تھے تاکہ امیر کا وقار بحال ہو اور اس پر طعن و تشنیع کا دروازہ بند ہو سکے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تم میرے امراء پر طعن سے باز نہیں رہو گے‘‘، پھر ایک تمثیل کے ذریعے یہ بات سمجھائی کہ تمہارے لیے تو غنیمت میں خالص حصہ ہے، جس کے لیے تمہیں کوئی تکلیف نہیں اٹھانی پڑتی، لیکن تمام غنیمت کو جمع کرنا اور لشکر کی حفاظت کرنا، ان کا دفاع کرنا، ان کے اختلافات کو دور کرنا اور غنیمت کو لشکر میں تقسیم کرنا یہ تمام امور، امیر کے ذمہ ہیں، اس کی خاطر اسے محنت و مشقت برداشت کرنا پڑتی ہے تو کیا تم ان کی کسی لغزش پر طعن و تشنیع کرنے سے باز نہیں رہ سکتے اور اگر کسی مصلحت کے تحت، سلب قاتل کو نہ ملے تو اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ سلب قاتل کا حق نہیں ہے، اگر یہ امام کی مرضی پر موقوف ہوتا ہو آپ پہلے خالد کو سلب دینے کا حکم کیوں دیتے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1753 سے ماخوذ ہے۔