صحيح مسلم
كتاب الجهاد والسير— جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے
باب اسْتِحْقَاقِ الْقَاتِلِ سَلَبَ الْقَتِيلِ: باب: قاتلوں کو مقتول کا سامان دلانا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ نَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَشِمَالِي ، فَإِذَا أَنَا بَيْنَ غُلَامَيْنِ مِنْ الْأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا تَمَنَّيْتُ لَوْ كُنْتُ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا ، فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا ، فَقَالَ : يَا عَمِّ هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، وَمَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي ؟ ، قَالَ : أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ رَأَيْتُهُ لَا يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا ، قَالَ : فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ ، فَغَمَزَنِي الْآخَرُ ، فَقَالَ : مِثْلَهَا قَالَ : فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَزُولُ فِي النَّاسِ ، فَقُلْتُ : أَلَا تَرَيَانِ هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي تَسْأَلَانِ عَنْهُ ؟ ، قَالَ : فَابْتَدَرَاهُ فَضَرَبَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا حَتَّى قَتَلَاهُ ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَاهُ ، فَقَالَ : أَيُّكُمَا قَتَلَهُ ، فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا : أَنَا قَتَلْتُ ، فَقَالَ : هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا ؟ ، قَالَا : لَا ، فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ ، فَقَالَ : كِلَاكُمَا قَتَلَهُ " ، وَقَضَى بِسَلَبِهِ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ ، وَالرَّجُلَانِ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ ، وَمُعَاذُ بْنُ عَفْرَاءَ .حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں غزوہ بدر کے موقع پر صف میں کھڑا ہوا تھا، اس اثناء میں میں نے اپنے دائیں اور بائیں دیکھا تو میں دو نو عمر انصاری لڑکوں کے درمیان تھا، میں نے آرزو کی، اے کاش، میں ان سے زور آور، طاقتور آدمیوں کے درمیان ہوتا تو ان میں سے ایک نے مجھے دبایا، (کچوکا لگایا) اور پوچھا، اے چچا جان! کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا، ہاں اور تجھے اس سے کیا کام ہے؟ اے میرے بھتیجے، اس نے جواب دیا، مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتا ہے اور اس ذات کی قسم، جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر میں نے اسے دیکھ لیا، تو میں اس سے اس وقت تک جدا نہیں ہوں گا، جب تک ہم میں سے وہ مر نہ جائے، جس کی موت پہلے آنی ہے تو مجھے اس کی اس بات سے حیرت ہوئی، اتنے میں مجھے دوسرے نے دبایا اور پہلے والی بات کہی، تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ میں نے ابوجہل کو لوگوں میں گھومتے پھرتے دیکھا تو میں نے کہا، کیا دیکھ رہے ہو؟ یہی وہ شخص ہے جس کے بارے میں تم دونوں پوچھ رہے تھے تو وہ دونوں اس پر جھپٹے اور اپنی اپنی تلوار سے اسے نشانہ بنایا حتی کہ اسے قتل کر دیا، (قریب الموت کر دیا) پھر دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پلٹے اور آپﷺ کو اطلاع دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے؟‘‘ تو ان میں سے ہر ایک نے کہا، میں نے قتل کیا ہے تو آپ نے پوچھا: ”کیا تم نے اپنی تلواریں صاف کر لی ہیں؟‘‘ ان دونوں نے کہا، جی نہیں، تو آپﷺ نے دونوں کی تلواروں کو دیکھا اور فرمایا: ”دونوں نے قتل کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘ اور آپﷺ نے اس کی سلب کا فیصلہ معاذ بن عمرو بن جموح کے حق میں دیا، (اور وہ دونوں معاذ بن عمرو بن جموح اور معاذ بن عفراء تھے)
تشریح، فوائد و مسائل
عبدالرحمن بن عوف ؓنے خیال کیا کہ یہ بچے ناتجربہ کار ہیں، معلوم نہیں جنگ کے وقت ٹھہرسکتے ہیں یا نہیں، اگر یہ بھاگے تو معلوم نہیں میرے دل کی بھی کیا حالت ہو، ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ دونوں پیشہ شجاعت کے شیر اور بوڑھوں سے بھی زیادہ دلیر ہیں، ان انصاری بچوں نے لوگوں سے ابوجہل مردود کا حال سنا تھا کہ اس نے آنحضرت ﷺ کو کیسی کیسی اےذائیں دی تھیں۔
چونکہ یہ مدینہ والے تھے لہٰذا ابوجہل کی صورت نہیں پہچانتے تھے۔
ایمان کا جوش ان کے دلوں میں تھا، انہوں نے یہ چاہا کہ ماریں تو بڑے موذی کو ماریں، اسی مردود کا کام تمام کریں۔
جس میں وہ کامیاب ہوئے۔
رضي اللہ عنهم أجمعین بعض روایتوں میں ابوجہل کے قاتل معاذ اور معوذ عفرا کے بیٹے بتلائے گئے ہیں۔
اور ابن مسعود ؓ کو بھی شامل کیاگیا ہے۔
احتمال ہے کہ یہ لوگ بھی بعد میں شریک قتل ہوگئے ہوں۔
1۔
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کے دل میں خیال آیا کہ یہ دونوں بچے ناتجربہ کارہیں۔
معلوم نہیں کہ جنگ کے وقت ٹھہرسکیں یا نہیں۔
اگر بھاگ کھڑے ہوئے تو نہ معلوم اس وقت میرے دل کی کیا کیفیت ہو۔
لیکن ان کے دلوں میں ایمان کا جوش تھا کہ تو کسی بڑے موذی کو ماریں۔
بہر حال وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہوئے۔
۔
رضی اللہ عنه۔
2۔
کافر مقتول کا زیر استعمال سازو سامان سلب کہلاتا ہے جس کے بارے میں اختلاف ہے کہ اس سے خمس نکالا جائے گایا نہیں؟ امام بخاری ؒ کا رجحان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو جہل کے سازوسامان سے کوئی خمس وغیرہ نہیں لیا بلکہ پورے کا پورا قاتل کے حوالے کر دیا اس لیے اس میں خمس نہیں ہو گا۔
دوسرا مختلف فیہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی کافر کے قتل میں ایک سے زیادہ افراد شریک ہوں تو اس کا کیا کیا جائے؟ نیز خلیفہ یا کمانڈر کو اس بارے میں تصرف کا حق حاصل ہے کہ نہیں؟ اگر کسی کافر کے قتل میں دو مسلمان برابر کے شریک ہوں تو بالا تفاق سلب ان دونوں میں برابر تقسیم ہوگا۔
اور اگر قرآئن سے یہ ثابت ہو جائے کہ اصل قاتل فلاں ہے باقی معاون ہیں تو پھر اصل قاتل کو سلب دیا جائے گا اور دوسروں کو محروم کردیا جائے گا۔
مثلاً: ایک شخص نے مقتول کو اس حال میں کردیا کہ وہ دفاع کے قابل نہیں رہا اور کسی دوسرے نے آکر اس کی گردن کاٹ دی تو سلب پہلے شخص کو ملے گا۔
3۔
سلب ازخود قاتل کو مل جائے گا یا یہ معاملہ امام کی صوابدید پر موقوف ہے؟ امام بخاری ؒ نے اس بارے میں کسی حتمی رائے کا اظہار نہیں کیا شاید اس کی وجہ اہل علم کا اختلاف ہے اور اس کی بنیاد زیر بحث حدیث ہے۔
اس میں ہے کہ ابو جہل کو قتل کرنے والے دو بلکہ ابن مسعود ؓ کو ملا کر تین افراد تھے جبکہ آپ نے سلب صرف معاذ بن عمر ؓ کو دیا امام مالک اور احناف کہتے ہیں کہ آپ کا دو کو چھوڑ کر ایک كو دینا اس امرکی دلیل ہے کہ امام کو سلب میں تصرف کا اختیار ہے جبکہ جمہور اہل علم کہتے ہیں کہ اس کا مستحق قاتل ہی ہے امام کی صوابدید پر یہ موقوف نہیں۔
مذکورہ حدیث میں آ پ کا یہ فرمانا۔
’’تم دونوں ہی نے اسے قتل کیا ہے۔
‘‘ دوسرے کی دلداری کےطور پر ارشاد فرمایا کیونکہ وہ دونوں شریک تو تھے تاہم آپ نے دونوں کی تلواروں سے انداز لگالیا کہ اصل گھائل کرنے والے معاذ ہی ہیں اس لیے ابن مسعود ؓ کو بھی اس میں شریک نہیں کیا۔
سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے ابوجہل کے قتل کے قصہ میں مروی ہے کہ دونوں اپنی اپنی تلوار لے کر ابوجہل کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھے اور انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوجہل کے قتل کی خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ’’ تم دونوں میں سے کس نے اسے قتل کیا؟ ‘‘ نیز دریافت فرمایا کہ ’’ کیا تم نے تلواریں صاف کر لی ہیں؟ ‘‘ دونوں بولے نہیں۔ عبدالرحمٰن نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی تلواروں کو ملاحظہ کیا اور فرمایا ’’ تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے۔ ‘‘ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل کا ساز و سامان معاذ بن عمرو بن جموح کو دینے کا فیصلہ فرمایا۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1101»
«أخرجه البخاري، فرض الخمس، باب من لم يخمس الأسلاب، حديث:3141، ومسلم، الجهاد والسير، باب استحقاق القاتل سلب القتيل، حديث:1752.»
تشریح:
راویٔ حدیث:
«حضرت معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ» یہ انصار کے قبیلۂ خزرج کے فرد تھے۔
بیعت عقبہ اور غزوۂ بدر میں شریک ہوئے۔
انھوں نے ابوجہل کا پاؤں کاٹ کر اسے پچھاڑ دیا تھا۔
عکرمہ بن ابی جہل نے ان کو زخم لگایا کہ ان کا ہاتھ کٹ کر لٹک گیا تو انھوں نے پاؤں تلے دبا کر کھینچ کر اسے جدا کر دیا اور پھینک دیا اور باقی سارا وقت اکیلے ہاتھ سے لڑتے اور داد شجاعت دیتے رہے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں وفات پائی۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے موقف سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صاحب‘ ابن عفراء کے علاوہ اور کوئی تھے کیونکہ ابن عفراء کا نسب اس طرح ہے۔
معاذ بن حارث بن رفاعہ نجاری۔