حدیث نمبر: 1751
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ جَلِيسًا لِأَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو قَتَادَةَ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ ،

ہشیم نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عمر بن کثیر بن افلح سے اور انہوں نے ابومحمد انصاری سے روایت کی اور وہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے ہم نشیں تھے، انہوں نے کہا: حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔۔ اور انہوں (ابومحمد) نے حدیث بیان کی۔

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ : أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ ، قَالَ : وَسَاقَ الْحَدِيثَ ،

لیث نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عمر بن کثیر بن افلح سے، انہوں نے ابومحمد (المعروف بہ) مولیٰ ابوقتادہ سے روایت کی کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔۔ اور حدیث بیان کی۔

وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَاسْتَدَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ وَأَقْبَلَ عَلَيَّ ، فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ ، فَأَرْسَلَنِي ، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : مَا لِلنَّاسِ ؟ ، فَقُلْتُ : أَمْرُ اللَّهِ ، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ ، قَالَ : فَقُمْتُ ، فَقُلْتُ : مَنْ يَشْهَدُ لِي ، ثُمَّ جَلَسْتُ ، ثُمَّ قَالَ : مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : فَقُمْتُ ، فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ، ثُمَّ جَلَسْتُ ، ثُمَّ قَالَ : ذَلِكَ الثَّالِثَةَ ، فَقُمْتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ ؟ ، فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنْ حَقِّهِ ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : لَا هَا اللَّهِ إِذًا لَا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسُدِ اللَّهِ ، يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِهِ ، فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَدَقَ فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ " ، فَأَعْطَانِي ، قَالَ : فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : كَلَّا لَا يُعْطِيهِ أُضَيْبِعَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَدَعُ أَسَدًا مِنْ أُسُدِ اللَّهِ ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ .

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم جنگ حنین کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو جب دشمن کے ساتھ ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے (پھر حملہ کیا) تو میں نے ایک مشرک آدمی کو دیکھا، وہ ایک مسلمان پر غلبہ پا رہا ہے تو میں اس کی طرف گھوم گیا حتی کہ اس کے پیچھے سے آ گیا اور اس کے شانہ کے پٹھے پر تلوار ماری اور وہ میری طرف بڑھا اور مجھے اس قدر زور سے بھینچا کہ مجھے موت نظر آنے لگی، پھر اسے موت نے آ لیا اور اس نے مجھے چھوڑ دیا، میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے پوچھا، لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ میں نے عرض کیا، اللہ کو یہی منظور ہے، پھر لوگ واپس پلٹے، (دشمن کے مقابلہ میں آئے اور جنگ کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور آپﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی کو قتل کیا ہے اور اس پر شہادت موجود ہے تو مقتول سے چھینا ہوا مال اس (قاتل) کو ملے گا۔‘‘ تو میں کھڑا ہو گیا، پھر میں نے سوچا، میرے حق میں گواہی کون دے گا؟ اس لیے میں بیٹھ گیا، پھر آپﷺ نے اپنی بات دہرائی تو میں کھڑا ہو گیا، پھر میں نے اپنے آپ سے پوچھا، میرے حق میں گواہی کون دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بات فرمائی، تیسری مرتبہ تو میں کھڑا ہوا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا معاملہ ہے؟ اے ابو قتادہ‘‘ تو میں نے آپﷺ کو مکمل واقعہ سنا دیا تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا، اے اللہ کے رسولﷺ! اس نے سچ کہا ہے، اس مقتول سے چھینا ہوا مال میرے پاس ہے تو اس کو اس کے حق کے سلسلہ میں راضی کر دیں کہ یہ مجھے بخوشی دے دے۔ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، نہیں، اللہ کی قسم! ایسی صورت میں، آپ اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کی طرف اس لیے رخ نہ فرمائیں گے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑے اور آپﷺ اس کی سلب تجھے دے دیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر نے سچ کہا، سلب اسے دے دو۔‘‘ تو اس نے سلب مجھے دے دی تو میں نے وہ زرہ فروخت کر کے اس کے عوض بنو سلمہ میں ایک باغ خرید لیا اور وہ سب سے پہلا مال تھا، جو میں نے اسلام کے دور میں حاصل کیا اور لیث کی حدیث میں یہ ہے کہ ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، ہرگز نہیں، آپ وہ مال قریش کی ایک لومڑی کو نہیں دیں گے کہ اس کی خاطر اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو نظرانداز کر دیں اور لیث کی حدیث میں ہے، وہ پہلا مال تھا جو میں نے سمیٹا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 1751
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»