صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب مَعْنَى قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} وَهَلْ رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ لَيْلَةَ الإِسْرَاءِ: باب: اس باب میں یہ بیان ہے کہ «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى» سے کیا مراد ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق تعالیٰ جل جلالہ کو معراج کی رات میں دیکھا تھا یا نہیں۔
حدیث نمبر: 175
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى سورة النجم آية 13 ، قَالَ : " رَأَى جِبْرِيلَ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (اللہ کے فرمان) «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ» ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک اور بار اترتے ہوئے دیکھا‘‘ (کے بارے میں کہا): ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کو دیکھا۔“