صحيح مسلم
كتاب الجهاد والسير— جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے
باب الأَنْفَالِ: باب: لوٹ کا بیان۔
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " أَخَذَ أَبِي مِنَ الْخُمْسِ سَيْفًا ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَبْ لِي هَذَا " ، فَأَبَى فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ سورة الأنفال آية 1 .حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے، مصعب بیان کرتے ہیں کہ میرے باپ نے خمس میں سے ایک تلوار اٹھا لی اور اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے اور عرض کیا، یہ مجھے ہبہ فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا تو یہ آیت اتری: ”آپ سے لوگ انفال کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ فرما دیں، انفال اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔‘‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " نَزَلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ أَصَبْتُ سَيْفًا ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَفِّلْنِيهِ ؟ ، فَقَالَ : ضَعْهُ ، ثُمَّ قَامَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ ، ثُمَّ قَامَ ، فَقَالَ : نَفِّلْنِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، فَقَالَ : ضَعْهُ ، فَقَامَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَفِّلْنِيهِ أَأُجْعَلُ كَمَنْ لَا غَنَاءَ لَهُ ؟ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ " ، قَالَ : فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ سورة الأنفال آية 1 .شعبہ نے ہمیں سماک بن حرب سے حدیث بیان کی، انہوں نے مصعب بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے بارے میں چار آیتیں نازل ہوئیں: مجھے ایک تلوار ملی، (پھر کہا:) وہ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! (اپنے حصے کے علاوہ) یہ تلوار مجھے مزید عطا فرما دیں۔ تو آپ نے فرمایا: ”اسے رکھ دو۔“ وہ پھر اٹھے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! (یہ تلوار) مجھے مزید دے دیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جہاں سے لی ہے وہیں رکھ دو۔“ وہ پھر اٹھے اور عرض کی: اللہ کے رسول! (اپنے حصے کے علاوہ) یہ بھی مجھے عنایت فرما دیں۔ تو آپ نے فرمایا: ”اسے رکھ دو۔“ وہ پھر اٹھے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! (اپنے حصے کے علاوہ) یہ مجھے عنایت فرما دیں۔ کیا میں اس شخص جیسا قرار دیا جاؤں گا جس کے لیے (جنگ میں) کوئی فائدہ نہیں ہوا؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم نے اسے جہاں سے لیا ہے وہیں رکھ دو۔“ کہا: اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ”وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجئے! غنیمتیں اللہ کے لیے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ نَزَلَتْ فِيهِ آيَاتٌ مِنَ الْقُرْآنِ ، قَالَ : " حَلَفَتْ أُمُّ سَعْدٍ أَنْ لَا تُكَلِّمَهُ أَبَدًا حَتَّى يَكْفُرَ بِدِينِهِ ، وَلَا تَأْكُلَ وَلَا تَشْرَبَ ، قَالَتْ : زَعَمْتَ أَنَّ اللَّهَ وَصَّاكَ بِوَالِدَيْكَ ، وَأَنَا أُمُّكَ وَأَنَا آمُرُكَ بِهَذَا ، قَالَ : مَكَثَتْ ثَلَاثًا حَتَّى غُشِيَ عَلَيْهَا مِنَ الْجَهْدِ ، فَقَامَ ابْنٌ لَهَا ، يُقَالُ لَهُ عُمَارَةُ ، فَسَقَاهَا فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَى سَعْدٍ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ هَذِهِ الْآيَةَ : وَوَصَّيْنَا الإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا سورة العنكبوت آية 8 وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي سورة لقمان آية 15 وَفِيهَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا سورة لقمان آية 15 ، قَالَ : وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنِيمَةً عَظِيمَةً ، فَإِذَا فِيهَا سَيْفٌ ، فَأَخَذْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ الرَّسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : نَفِّلْنِي هَذَا السَّيْفَ ، فَأَنَا مَنْ قَدْ عَلِمْتَ حَالَهُ ، فَقَالَ : رُدُّهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أُلْقِيَهُ فِي الْقَبَضِ لَامَتْنِي نَفْسِي ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : أَعْطِنِيهِ ، قَالَ فَشَدَّ لِي صَوْتَهُ : رُدُّهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ ، قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ سورة الأنفال آية 1 ، قَالَ : وَمَرِضْتُ فَأَرْسَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَانِي ، فَقُلْتُ : دَعْنِي أَقْسِمْ مَالِي حَيْثُ شِئْتُ ، قَالَ : فَأَبَى ، قُلْتُ : فَالنِّصْفَ ، قَالَ : فَأَبَى ، قُلْتُ : فَالثُّلُثَ ، قَالَ : فَسَكَتَ ، فَكَانَ بَعْدُ الثُّلُثُ جَائِزًا ، قَالَ : وَأَتَيْتُ عَلَى نَفَرٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ، وَالْمُهَاجِرِينَ ، فَقَالُوا : تَعَالَ نُطْعِمْكَ وَنَسْقِكَ خَمْرًا ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُمْ فِي حَشٍّ ، وَالْحَشُّ الْبُسْتَانُ ، فَإِذَا رَأْسُ جَزُورٍ مَشْوِيٌّ عِنْدَهُمْ وَزِقٌّ مِنْ خَمْرٍ ، قَالَ : فَأَكَلْتُ وَشَرِبْتُ مَعَهُمْ ، قَالَ : فَذَكَرْتُ الْأَنْصَارَ ، وَالْمُهَاجِرِينَ عِنْدَهُمْ ، فَقُلْتُ : الْمُهَاجِرُونَ خَيْرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : فَأَخَذَ رَجُلٌ أَحَدَ لَحْيَيِ الرَّأْسِ ، فَضَرَبَنِي بِهِ فَجَرَحَ بِأَنْفِي ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيَّ يَعْنِي نَفْسَهُ شَأْنَ الْخَمْرِ : إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ سورة المائدة آية 90 .حضرت مصعب اپنے باپ سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ صورت حال یہ ہے کہ قرآن مجید میں ان کے حوالے سے کئی آیات نازل ہوئیں کہا: ان کی والدہ نے قسم کھائی کہ وہ اس وقت تک ان سے بات نہیں کریں گی یہاں تک کہ وہ اپنے دین (اسلام) سے کفر کریں اور نہ ہی کچھ کھا ئیں گی اور نہ پئیں گی ان کا خیال یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے کہ اپنے والدین کی بات مانو اور میں تمھا ری ماں ہوں لہٰذا میں تمھیں اس دین کو چھوڑ دینے کا حکم دیتی ہوں۔کہا: وہ تین دن اسی حالت میں رہیں یہاں تک کہ کمزوری سے بے ہوش ہو گئیں تو ان کا بیٹا جو عمارہ کہلا تا تھا کھڑا ہوا اور انھیں پانی پلا یا۔(ہوش میں آکر) انھوں نے سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بددعائیں دینی شروع کر دیں تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ آیت نازل فر ئی:" ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے(عنکبوت،آیت 8) اور اگر وہ دونوں یہ کو شش کریں کہ تم میرے ساتھ شریک ٹھہراؤ جس بات کو تم (درست ہی) نہیں جانتے تو تم ان کی اطاعت نہ کرواور دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو۔(سورہ لقمان آیت نمبر 14۔15)حضرت سعد بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ غنیمت حاصل ہوئی۔ اس میں ایک تلوار بھی تھی۔میں نے وہ اٹھا لی اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور عرض کی: (میرےحصے کے علاوہ) یہ تلوارمزید مجھے دے دیں،میری حالت کا تو آپ کو علم ہے ہی آپ نے فر یا:" اسے وہیں رکھ دو جہاں سے تم نے اٹھائی ہے۔"میں چلا گیا جب میں نے اسے مقبوضہ غنائم میں واپس پھینکنا چا ہا تو میرے دل نے مجھے ملا مت کی(کہ واپس کیوں کر رہے ہو؟)تو میں آپ کے پاس واپس آگیا۔میں نے کہا: یہ مجھے عطا کر دیجئے،آپ نے میرے لیے اپنی آواز کو سخت کیا اور فر یا:" جہاں سے اٹھا ئی ہے وہیں واپس رکھ دو۔"کہا: اس پر اللہ عزوجل نے یہ نازل فر یا:" یہ لو گ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔(سورۃ انفال آیت نمبر1)حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،میں بیمار ہو گیا۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا۔ آپ میرے پاس تشریف لے آئے۔میں نے کہا: مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنا (سارا) مال جہاں چاہوں تقسیم کر دوں۔کہا:آپ نے انکا ر فر مادیا۔میں نے کہا:تو آدھا؟ آپ اس پر بھی نہ مانے،میں نے کہا: تو پھر تیسرا حصہ؟اس پر آپ خاموش ہوگئے۔اس کے بعد تیسرے حصے کی وصیت جائز ہو گئی۔ کہا: اور (ایک اور موقع بھی آیا) میں انصار اور مہاجرین کے کچھ لوگوں کے پاس آیا انھوں نے کہا:آؤ ہم تمھیں کھانا کھلا ئیں اور شراب پلا ئیں اور یہ شراب حرام کیے جا نے سے پہلے کی بات ہے۔کہا: میں کھجوروں کے ایک جھنڈکے درمیان خالی جگہ میں ان کے پاس پہنچا دیکھا تو اونٹ کا ایک بھنا ہوا سران کے پاس تھا اور شراب کی ایک مشک تھی۔میں نے ان کے ساتھ کھا یا،شراب پی، پھر ان کے ہاں انصار اور مہاجرین کا ذکر آگیا۔میں نے(شراب کی مستی میں)کہہ دیا: مہاجرین انصار سے بہتر ہیں تو ایک آدمی نے(اونٹ کا) ایک جبڑا پکڑا،اس سے مجھے ضرب لگا ئی اور میری ناک زخمی کردی،میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو یہ (ساری)بات بتا ئی تو اللہ تعالیٰ نے میرے بارے میں۔۔۔ان کی مراد اپنے آپ سے تھی۔۔۔شراب کے متعلق (یہ آیت) نازل فر ئی:"بے شک شراب،جوا بت اور پانسے شیطان کے گندے کام ہیں۔"(مائدہ:آیت نمبر90)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : أُنْزِلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ زُهَيْرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ ، قَالَ : فَكَانُوا إِذَا أَرَادُوا أَنْ يُطْعِمُوهَا شَجَرُوا فَاهَا بِعَصًا ثُمَّ أَوْجَرُوهَا ، وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا ، فَضَرَبَ بِهِ أَنْفَ سَعْدٍ فَفَزَرَهُ ، وَكَانَ أَنْفُ سَعْدٍ مَفْزُورًا .محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی، انہوں نے مصعب بن سعد سے، انہوں نے اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے بارے میں چار آیات نازل ہوئیں پھر زہیر سے سماک کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور شعبہ کی حدیث میں (محمد بن جعفر نے) مزید یہ بیان کیا کہ لوگ جب میری ماں کو کھانا کھلانا چاہتے تو لکڑی سے اس کا منہ کھولتے، پھر اس میں کھانا ڈالتے، اور انہی کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ناک پر ہڈی ماری اور ان کی ناک پھاڑ دی، حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ناک پھٹی ہوئی تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
انفال: یہ نفل کی جمع ہے، جس کا معنی ہے، زائد یا اضافہ، لیکن یہاں کیا مراد ہے، اس میں علماء کا مندرجہ ذیل اختلاف ہے۔
(1)
انفال سے مراد، غنیمتیں ہیں کہ اس میں تصرف کا حق اللہ نے رسول کو دیا ہے، اس مفہوم کی صورت میں یہ آیت منسوخ ہو گی کیونکہ بعد میں غنیمت کے چار حصے مجاہدین کے لیے مقرر کر دئیے گئے اور پانچواں حصہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے پر چھوڑ دیا گیا۔
حدیث نمبر (4556)
(2)
انفال سے مراد، خمس پانچواں حصہ ہے، پورا مال غنیمت مراد نہیں ہے، اس صورت میں یہ آیت منسوخ نہیں ہو گی۔
(3)
انفال سے مراد فے ہے، یعنی وہ مال جو مسلمان کو کافروں سے بلا جنگ و جدال ملتا ہے، اس میں نبی جیسے چاہے تصرف کر سکتا ہے۔
(4)
انفال سے مراد وہ عطیہ اور انعام ہے، جو امام کسی کو حسن کارکردگی پر عنایت فرماتا ہے۔
(5)
انفال سے مراد وہ عطیہ اور انعام ہے، جو امام کسی دستہ کو بڑے لشکر سے جب الگ کسی مہم پر بھیجتا ہے تو اسے عام لشکر سے اضافی طور پر دیتا ہے۔
(2)
حضرت سعد نے غنیمت میں سے ایک تلوار لی، اس کو خمس سے تعبیر اس لیے کیا کہ جنگ بدر کے بعد، جب غنیمت کی تقسیم کے سلسلہ میں اختلاف پیدا ہوا اور قرآن مجید میں اس کے بارے میں احکام نازل کیے گئے تو مجاہد کو عطیہ اور انعام میں دی گئی چیز کو خمس میں سے شمار کیا گیا تو چونکہ ابھی احکام نازل نہیں ہوئے، اس لیے آیت انفال کے ذریعہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دے دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تلوار حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو عنایت فرما دی۔
وہ چار آیات جو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے سلسلہ میں اتری ہیں، وہ امام صاحب آگے کتاب الفضائل میں بیان کر دیں گے، یعنی بر الوالدين ماں باپ کے ساتھ ایفاء اور حسن سلوک، حرمت شراب، ﴿وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم﴾ جو لوگ اپنے رب کو پکارتے ہیں، انہیں مت دھتکاریے اور آیت انفال۔
(2)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جنگ بدر میں قابل قدر حصہ لیا تھا، کفار قریش کے بڑے جنگ جو سعید بن العاص کو قتل کیا تھا، اس لیے وہ سمجھتے تھے اس کی تلوار پر میرا حق ہے، مزید برآں ان کے بھائی عمیر بھی قتل ہو گئے تھے، اس لیے بڑے پریشان تھے اور اس کے ایمان لانے کے خواہش مند تھے، اس لیے تلوار لینے پر بہت اصرار کیا۔
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنگ بدر کے دن میں ایک تلوار لے کر (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) پہنچا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ نے میرا سینہ مشرکین سے ٹھنڈا کر دیا (یعنی انہیں خوب مارا) یہ کہا یا ایسا ہی کوئی اور جملہ کہا (راوی کو شک ہو گیا) آپ یہ تلوار مجھے عنایت فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ نہ میری ہے اور نہ تیری ۱؎، میں نے (جی میں) کہا ہو سکتا ہے یہ ایسے شخص کو مل جائے جس نے میرے جیسا کارنامہ جنگ میں نہ انجام دیا ہو، (میں حسرت و یاس میں ڈوبا ہوا آپ کے پاس سے اٹھ کر چلا آیا) تو (میرے پیچھے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3079]
وضاحت:
1؎:
کیونکہ یہ ابھی ایسے مال غنیمت میں سے ہے جس کی تقسیم ابھی نہیں ہوئی ہے، تو کیسے تم کو دے دوں۔
2؎:
کیونکہ اب تقسیم میں (بطورخمس کے) وہ میرے حصے میں آ گئی ہے۔
3؎:
یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کا حکم پوچھتے ہیں (الأنفال: 1)
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوہ بدر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تلوار لے کر آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آج اللہ نے میرے سینے کو دشمنوں سے شفاء دی، لہٰذا آپ مجھے یہ تلوار دے دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ تلوار نہ تو میری ہے نہ تمہاری “ یہ سن کر میں چلا اور کہتا جاتا تھا: یہ تلوار آج ایسے شخص کو ملے گی جس نے مجھ جیسا کارنامہ انجام نہیں دیا ہے، اسی دوران مجھے قاصد بلانے کے لیے آیا، اور کہا چلو، میں نے سوچا شاید میرے اس بات کے کہنے کی وجہ سے میرے سلسلے میں کچھ وحی نازل ہوئی ہے، چنانچہ میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مج۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2740]
معروف قراءت میں (يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنفَالِ) کے معنی ہیں۔
لوگ آپ سے غنیمتوں کا حکم پوچھتے ہیں۔
اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قراءت (يسالونك النفل) کا ترجمہ ہے۔
لوگ آپ ﷺ سے نفل کا سوال کرتے ہیں۔
(مزید اضافی انعام کا)