صحيح مسلم
كتاب الجهاد والسير— جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے
باب كَرَاهَةِ تَمَنِّي لِقَاءِ الْعَدُوِّ وَالأَمْرِ بِالصَّبْرِ عِنْدَ اللِّقَاءِ: باب: جنگ کی آرزو کرنا منع ہے اور جنگ کے وقت صبر کرنا لازم ہے۔
حدیث نمبر: 1741
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دشمن سے مقابلے کی تمنا مت کرو، لیکن جب تمہارا ان سے مقابلہ ہو تو صبر کرو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دشمن سے ٹکراؤ یا مقابلہ کی تمنا نہ کرو اور جب اس سے مقابلہ ہو جائے تو ثابت قدم رہو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4541]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دشمن کو حقیر نہ سمجھنا چاہیے، بلکہ اہمیت اور وزن دینا چاہیے، تاکہ صحیح تیاری ہو سکے اور جب جنگ کے بغیر کام چل سکتا ہو تو محض اپنی طاقت کے بھروسہ پر، اپنی قوت بازو پر اعتماد کرتے ہوئے، اپنے آپ کو بہت کچھ خیال کرتے ہوئے، دشمن سے ٹکراؤ کی خواہش اور آرزو نہیں کرنی چاہیے، ہاں اگر لڑائی کے سوا کوئی چارہ نہ ہو تو ظاہری اسباب اور وسائل سے کام لیتے ہوئے، اللہ کی نصرت و حمایت کے حصول کی دعا کرتے ہوئے مقابلہ میں جم جانا چاہیے اور مقابلہ سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1741 سے ماخوذ ہے۔