صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب مَعْنَى قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى} وَهَلْ رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ لَيْلَةَ الإِسْرَاءِ: باب: اس باب میں یہ بیان ہے کہ «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى» سے کیا مراد ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق تعالیٰ جل جلالہ کو معراج کی رات میں دیکھا تھا یا نہیں۔
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ وَهُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : سَأَلْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى سورة النجم آية 9 ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَأَى جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ " .عباد بن عوام نے کہا: ہمیں شیبانی نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے زر بن حبیش سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا: «فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ» ’’وہ دو کمان کے برابر فاصلے پر تھے یا اس سے بھی زیادہ قریب تھے۔‘‘ زر نے کہا: مجھے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کو دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى سورة النجم آية 11 ، قَالَ : " رَأَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ " .حفص بن غیاث نے شیبانی سے حدیث سنائی، انہوں نے زر سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے آیت: «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ» ’’جھوٹ نہ دیکھا دل نے، جو دیکھا‘‘ پڑھی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کو دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، سَمِعَ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى سورة النجم آية 18 ، قَالَ : " رَأَى جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ " .عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں «لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ ٱلْكُبْرَىٰ» ”آپ نے یقیناً اپنے رب کی بعض بہت بڑی نشانیاں دیکھیں“ منقول ہے: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو اس کی اصل صورت میں دیکھا، اس کے چھ سو پر تھے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
یہ وحی غالباً وہی تھی جو سورہ مدثر کی ابتدائی آیات پر مشتمل ہے۔
یہ وحی حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کی تھی۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا موقف ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو دیکھا تھا جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مسلک ہے لہٰذا ان کے مذہب کے مطابق آیت کریمہ کے یہ معنی ہیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے کی طرف وحی کی۔
2۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ اکثر مفسرین کے ہاں اس آیت کے یہ معنی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف وحی کی۔
(فتح الباري: 777/8)
اس صورت میں (أَوْحَىٰ اور عَبْدِهِ)
دونوں کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹے گی۔
واللہ اعلم۔
شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے زر بن حبیش سے آیت: «فكان قاب قوسين أو أدنى» ” دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کچھ کم فرق رہ گیا “ (النجم: ۹)، کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے کہا: مجھے ابن مسعود رضی الله عنہ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کو دیکھا اور ان کے چھ سو پر تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3277]
وضاحت:
1؎:
دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کچھ کم فرق رہ گیا (النجم: 9)