صحيح مسلم
كتاب الجهاد والسير— جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے
باب تَحْرِيمِ الْغَدْرِ: باب: عہد شکنی حرام ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ " ،محمد بن ابراہیم ابن ابی عدی اور محمد بن جعفر دونوں نے شعبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے سلیمان (اعمش) سے، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا، کہا جائے گا: یہ فلاں کی عہد شکنی (کا نشان) ہے۔“
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ . ح وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ جَمِيعًا ، عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُقَالُ : هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ .نضر بن شمیل اور عبدالرحمان (بن مہدی) نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور عبدالرحمان کی حدیث میں یہ (الفاظ) نہیں ہیں: ”کہا جائے گا: یہ فلاں کی عہد شکنی (کا نشان) ہے۔“
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ " .یزید بن عبدالعزیز نے اعمش سے، انہوں نے شقیق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا، وہ اس کے ذریعے سے پہچانا جائے گا، کہا جائے گا: یہ فلاں کی بدعہدی (کا نشان) ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا، پھر کہا جائے گا کہ یہ فلاں شخص کی دغا بازی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2872]
فوائد ومسائل: (1)
شرعی حکمران اور خلیفہ کی بیعت کرنے کے بعد اسے توڑدینا بہت بڑا گناہ ہے۔
(2)
قیامت کے دن ایسے مجرم کی بہت زیادہ بدنامی اور رسوائی ہوگی۔
(3)
جھنڈ ا دور سے نظر آ جانے والی چیز ہے اس لیے شرعی خلیفہ کے باغی کی بہت زیادہ تشہیر ہوگی۔
دور سے دیکھ کر لوگ کہیں گے، یہ شخص غدار تھا۔
یہ جھنڈا اس کی غداری کا اعلان ہے۔
(4)
بعض گناہوں کی سزا جہنم میں جانے سے پہلے محشر کے میدان میں ہی مل جائے گی۔