صحيح مسلم
كتاب الجهاد والسير— جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے
باب فِي الأَمْرِ بِالتَّيْسِيرِ وَتَرْكِ التَّنْفِيرِ: باب: معاملہ میں آسانی پیدا کرنے اور نفرت کو ترک کرنے کے بارے میں۔
حدیث نمبر: 1734
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا وَسَكِّنُوا وَلَا تُنَفِّرُوا " .حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسانی کرو، دشواری پیدا نہ کرو، اطمینان دلاؤ اور دور نہ بھگاؤ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 69 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
´روایت حدیث `
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا . . .»
”. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آسانی کرو اور سختی نہ کرو اور خوش کرو اور نفرت نہ دلاؤ . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ: 69]
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا . . .»
”. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آسانی کرو اور سختی نہ کرو اور خوش کرو اور نفرت نہ دلاؤ . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ: 69]
� تشریح:
معلّمین و اساتذہ و واعظین و خطباء اور مفتی حضرات سب ہی کے لیے یہ ارشاد واجب العمل ہے۔
معلّمین و اساتذہ و واعظین و خطباء اور مفتی حضرات سب ہی کے لیے یہ ارشاد واجب العمل ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 69 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 69 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
69. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ’’(دین میں) آسانی کرو، سختی نہ کرو اور لوگوں کو خوشخبری سناؤ، انہیں (ڈرا ڈرا کر) متنفر نہ کرو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:69]
حدیث حاشیہ:
1۔
اصول تعلیم یہ ہے کہ تعلیم کے لیے نشاط اور دلچسپی کا خیال رکھا جائے اس میں زیادہ شدت صحیح نہیں کہ طلباء کے دماغ تھک جائیں اور بالآخر وہ اپنے اندر بے دلی اور کم ہمتی محسوس کرنے لگیں۔
حدیث بالا میں اسی پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ابتدائی طور پر ڈرانے دھمکانے کا عمل نفرت کا باعث ہوتا ہے، اس لیے خوشخبری کے مقابلے میں نفرت کو بیان کیا گیا ہے حالانکہ خوشخبری کے مقابلے میں ڈرانا ہوتا ہے اس لیے ایک مبلغ اور معلم کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے ساتھ نرمی اور آسانی کا معاملہ کرے ڈرانے دھمکانے سے نفرت پیدا ہوگی نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ گھبرا کر ساتھ چھوڑنے پر مجبور ہوں گے۔
(فتح الباري: 215/1)
2۔
واعظین کو چاہیے کہ وہ وعظ کرتے وقت ایسا پرکشش اور جاذب نظر اسلوب اختیار کریں جس سے لوگوں کے دلوں میں رغبت و محبت پیدا ہو صرف قرآن و حدیث میں آمدہ وعیدوں ہی پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ قرآن کریم کے طرز پر بشارت و انذار کو ساتھ ساتھ رکھا جائے۔
اگر ہمیشہ بشارت ہی دی جائے گی تو لوگ رحمت پر بھروسہ کر کے بے خوف ہو جائیں گے اور اگر وعید ہی وعید پر زور ہوگا۔
تو لوگ رحمت سے مایوس ہو جائیں گے اور یہ دونوں چیزیں ایک متلاشی حق کے لیے بہت خطرناک ہیں مذکورہ حدیث میں تعلیم و تبلیغ کے لیے ایک درمیانی راہ کی نشاندہی کی گئی ہے۔
1۔
اصول تعلیم یہ ہے کہ تعلیم کے لیے نشاط اور دلچسپی کا خیال رکھا جائے اس میں زیادہ شدت صحیح نہیں کہ طلباء کے دماغ تھک جائیں اور بالآخر وہ اپنے اندر بے دلی اور کم ہمتی محسوس کرنے لگیں۔
حدیث بالا میں اسی پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ابتدائی طور پر ڈرانے دھمکانے کا عمل نفرت کا باعث ہوتا ہے، اس لیے خوشخبری کے مقابلے میں نفرت کو بیان کیا گیا ہے حالانکہ خوشخبری کے مقابلے میں ڈرانا ہوتا ہے اس لیے ایک مبلغ اور معلم کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے ساتھ نرمی اور آسانی کا معاملہ کرے ڈرانے دھمکانے سے نفرت پیدا ہوگی نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ گھبرا کر ساتھ چھوڑنے پر مجبور ہوں گے۔
(فتح الباري: 215/1)
2۔
واعظین کو چاہیے کہ وہ وعظ کرتے وقت ایسا پرکشش اور جاذب نظر اسلوب اختیار کریں جس سے لوگوں کے دلوں میں رغبت و محبت پیدا ہو صرف قرآن و حدیث میں آمدہ وعیدوں ہی پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ قرآن کریم کے طرز پر بشارت و انذار کو ساتھ ساتھ رکھا جائے۔
اگر ہمیشہ بشارت ہی دی جائے گی تو لوگ رحمت پر بھروسہ کر کے بے خوف ہو جائیں گے اور اگر وعید ہی وعید پر زور ہوگا۔
تو لوگ رحمت سے مایوس ہو جائیں گے اور یہ دونوں چیزیں ایک متلاشی حق کے لیے بہت خطرناک ہیں مذکورہ حدیث میں تعلیم و تبلیغ کے لیے ایک درمیانی راہ کی نشاندہی کی گئی ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 69 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6125 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6125. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”آسانی کرو تنگی میں نہ ڈالو۔ لوگوں کو تسلی دو۔ ان کے لیے نفرت کی فضا پیدا نہ کرو۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6125]
حدیث حاشیہ:
(1)
دین اسلام کی بنیاد آسانی پر رکھی گئی ہے جیسا کہ درج ذیل آیات سے معلوم ہوتا ہے: ٭ ’’اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے وہ تمہارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا۔
'' (البقرة: 2: 185)
٭ ’’اللہ چاہتا ہے کہ تم سے تخفیف کرے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔
‘‘ (النساء4: 28)
٭ ’’اس نے تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی۔
‘‘ (الحج22: 78)
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اسلام قبول کرے تو ابتدائے اسلام میں اس کی تالیف کرو اور اس قدر سختی نہ کرو کہ وہ اس سے نفرت کرتے ہوئے بھاگ جائے۔
(2)
ابتدا میں جس انسان کے لیے آسانی ہو وہ بعد کی سختی کو بخوشی قبول کر لیتا ہے اور شروع میں اس پر سختی کی جائے تو نتیجہ برعکس نکلتا ہے۔
(1)
دین اسلام کی بنیاد آسانی پر رکھی گئی ہے جیسا کہ درج ذیل آیات سے معلوم ہوتا ہے: ٭ ’’اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے وہ تمہارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا۔
'' (البقرة: 2: 185)
٭ ’’اللہ چاہتا ہے کہ تم سے تخفیف کرے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔
‘‘ (النساء4: 28)
٭ ’’اس نے تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی۔
‘‘ (الحج22: 78)
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اسلام قبول کرے تو ابتدائے اسلام میں اس کی تالیف کرو اور اس قدر سختی نہ کرو کہ وہ اس سے نفرت کرتے ہوئے بھاگ جائے۔
(2)
ابتدا میں جس انسان کے لیے آسانی ہو وہ بعد کی سختی کو بخوشی قبول کر لیتا ہے اور شروع میں اس پر سختی کی جائے تو نتیجہ برعکس نکلتا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6125 سے ماخوذ ہے۔