صحيح مسلم
كتاب اللقطة— کسی کو ملنے والی چیز جس کے مالک کا پتہ نہ ہو
باب اسْتِحْبَابِ خَلْطِ الأَزْوَادِ إِذَا قَلَّتْ وَالْمُؤَاسَاةِ فِيهَا: باب: جب توشے کم ہوں تو سب توشے ملا دینا مستحب ہے۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيَّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ ، فَأَصَابَنَا جَهْدٌ حَتَّى هَمَمْنَا أَنْ نَنْحَرَ بَعْضَ ظَهْرِنَا ، فَأَمَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَمَعْنَا مَزَاوِدَنَا ، فَبَسَطْنَا لَهُ نِطَعًا فَاجْتَمَعَ زَادُ الْقَوْمِ عَلَى النِّطَعِ ، قَالَ : فَتَطَاوَلْتُ لِأَحْزِرَهُ كَمْ هُوَ فَحَزَرْتُهُ كَرَبْضَةِ الْعَنْزِ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً ، قَالَ : فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا جَمِيعًا ، ثُمَّ حَشَوْنَا جُرُبَنَا ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَهَلْ مِنْ وَضُوءٍ ؟ ، قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ بِإِدَاوَةٍ لَهُ فِيهَا نُطْفَةٌ ، فَأَفْرَغَهَا ، فِي قَدَحٍ فَتَوَضَّأْنَا كُلُّنَا نُدَغْفِقُهُ دَغْفَقَةً أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً ، قَالَ : ثُمَّ جَاءَ بَعْدَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةٌ ، فَقَالُوا : هَلْ مِنْ طَهُورٍ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَرِغَ الْوَضُوءُ " .ایاس بن سلمہ نے ہمیں اپنے والد حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلے، (راستے میں) تنگی (زاد راہ کی کمی) کا شکار ہو گئے حتی کہ ہم نے ارادہ کر لیا کہ اپنی بعض سواریاں ذبح کر لیں۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو ہم نے اپنا زادراہ اکٹھا کر لیا۔ ہم نے اس کے لیے چمڑے کا دسترخوان بچھایا تو سب لوگوں کا زادراہ اس دسترخوان پر اکٹھا ہو گیا۔ کہا: میں نے نگاہ اٹھائی کہ اندازہ کر سکوں کہ وہ کتنا ہے؟ تو میں نے اندازہ لگایا کہ وہ ایک بکری کے بیٹھنے کی جگہ کے بقدر تھا اور ہم چودہ سو آدمی تھے۔ کہا: تو ہم نے کھایا حتی کہ ہم سب سیر ہو گئے، پھر ہم نے اپنے (خوراک کے) تھیلے (بھی) بھر لیے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وضو کے لیے پانی ہے؟“ کہا: تو ایک آدمی اپنا ایک برتن لایا۔ اس میں تھوڑا سا پانی تھا، اس نے وہ ایک کھلے منہ والے پیالے میں انڈیلا تو ہم سب نے وضو کیا، ہم چودہ سو آدمی اسے کھلا استعمال کر رہے تھے۔ کہا: پھر اس کے بعد آٹھ افراد (اور) آئے، انہوں نے کہا: کیا وضو کے لیے پانی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کا پانی ختم ہو چکا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
جَهْدٌ: تنگی ومشقت، مراد بھوک ہے۔
(2)
مَزَاوِدَنَا: مزود کی جمع ہے، توشہ دان جس میں زادراہ رکھا جاتا ہے۔
(3)
النِّطَعِ: چمڑے کا دستر خوان۔
(4)
حزِرَ: اندازہ۔
(5)
تَطَاوَلْتُ: میں اوپر کو اٹھا، گردن اونچی کی۔
(6)
رَبْضَةِ: بیٹھنے کی جگہ۔
(7)
جُرُب: جراب کی جمع ہے، چمڑے کا توشہ دان یا تھیلی۔
(8)
نُطْفَةٌ: تھوڑا سا۔
(9)
نُدَغْفِقُهُ: ہم اسے بےتحاشا استعمال کررہے تھے۔
فوائد ومسائل: بعض حضرات کے نزدیک یہ واقعہ غزوہ تبوک میں پیش آیا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو معجزوں کا اظہار ہوا۔
(1)
تھوڑے سے طعام میں اتنی برکت پیدا ہوئی کہ چودہ سو (1400)
کے لشکر نے پیٹ بھر کر کھا لیا اور پھر اس سے اپنے توشہ دان بھر لیے۔
(2)
تھوڑا سا پانی چودہ سو کے پینے اور وضو کرنے کے لیے کافی ہو گیا اور اس سے یہ بھی ثابت ہوا، اگر کھانے پینے کی اشیاء کم ہیں تو ان سب کو جمع کر لینا چاہیے اور ہر شخص اپنے ساتھی کو اپنے کھانے میں شریک کر لے اور دل میں یہ خیال نہ لائے، میں کم کھاتا ہوں یہ زیادہ کھاتا ہے۔
اگر اس طرح ایثار و قربانی کا مظاہرہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ اپنی برکت نازل فرماتا ہے۔
لَقَط کی عام روایات کو کتاب کے تحت بیان کیا ہے اور لقطة الحاج سے باب کا آغاز کیا ہے۔