صحيح مسلم
كتاب اللقطة— کسی کو ملنے والی چیز جس کے مالک کا پتہ نہ ہو
باب فِي لُقَطَةِ الْحَاجِّ: باب: حاجیوں کی پڑی چیز کا بیان۔
حدیث نمبر: 1725
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ آوَى ضَالَّةً فَهُوَ ضَالٌّ مَا لَمْ يُعَرِّفْهَا " .حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”جس نے (کسی کے) بھٹکتے ہوئے جانور (اونٹنی) کو اپنے پاس رکھ لیا ہے تو وہ (خود) بھٹکا ہوا ہے جب تک اس کی تشہیر نہیں کرتا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب اللقطة / حدیث: 1725
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے گمشدہ حیوان کو رکھ لیا، وہ گم کردہ راہ ہے، جب تک اس کی تشہیر نہیں کرتا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4510]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، گمشدہ چیز کو ملکیت بنانے کے لیے اٹھانا جائز نہیں ہے اور اگر یہاں ضالہ سے مراد گمشدہ اونٹ ہے، تو چونکہ اس کی ملکیت کسی صورت میں جائز نہیں ہے، اگر خطرہ نہیں تو اس کو پکڑا ہی نہیں جا سکتا اور اگر خطرہ ہو تو صرف حفاظت اور تشہیر کے لیے پکڑا جا سکتا ہے، اس لیے اس کی ہمیشہ تشہیر نہ کرنا، راہ راست سے ہٹنا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1725 سے ماخوذ ہے۔