صحيح مسلم
كتاب الأقضية— جھگڑوں میں فیصلے کرنے کے طریقے اور آداب
باب النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ الْمَسَائِلِ مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ وَالنَّهْيِ عَنْ مَنْعٍ وَهَاتٍ وَهُوَ الاِمْتِنَاعُ مِنْ أَدَاءِ حَقٍّ لَزِمَهُ أَوْ طَلَبُ مَا لاَ يَسْتَحِقُّهُ: باب: بہت پوچھنے سے اور مال کو تباہ کرنے سے ممانعت۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يَرْضَى لَكُمْ ثَلَاثًا وَيَكْرَهُ لَكُمْ ثَلَاثًا ، فَيَرْضَى لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا ، وَلَا تَفَرَّقُوا ، وَيَكْرَهُ لَكُمْ قِيلَ ، وَقَالَ ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ " ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین باتوں کو پسند کرتا ہے اور تمہاری تین باتوں کو ناپسند فرماتا ہے، وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے کہ تم اس کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور تم سب مل کر اللہ کی رسی (قرآن، دین) کو مضبوطی سے پکڑو اور گروہ گروہ نہ بنو اور تمہارے لیے ناپسند کرتا ہے، بلامقصد، قیل و قال (بحث و تمحیص) کرو، بکثرت سوال کرو اور مال ضائع کرو۔‘‘
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : وَيَسْخَطُ لَكُمْ ثَلَاثًا وَلَمْ يَذْكُرْ وَلَا تَفَرَّقُوا .امام صاحب ایک اور استاد سے سھیل کی مذکورہ بالا سند سے یہی حدیث بیان کرتے ہیں، صرف اتنا فرق ہے کہ اس میں استاد نے يكره کی جگہ يَسْخطُ
تشریح، فوائد و مسائل
قِيْلَ وَ قَالَ: دونوں فعل ماضی کے صیغے بھی بن سکتے ہیں اور مصدر بھی، مقصد یہ ہے کہ بلا مقصد، فضول بحث و مباحثہ کرنا یا بلا ضرورت دینی مسائل میں بلا تحقیق و احتیاط مختلف اقوال نقل کرنا یا محض اپنی دھونس اور علمی رعب جمانے کے لیے بلا تحقیق، بحث و مناظرہ کرنا درست نہیں ہے۔
كَثرَة السَّوَال: بلا حاجت و ضرورت، محض مال میں اضافہ کرنے کے لیے لوگوں سے مانگنا یا ایسے مسائل پوچھنا جو ابھی پیش نہیں آئے اور نہ آنے کا فی الوقت امکان ہے یا ان میں کسی قسم کا اشکال اور پیچیدگی ہے، مسائل برزخ اور آخرت کے امور کی حقیقت و کیفیت کے بارے میں سوال کرنا یا ایسے سوال کرنا جو انسان کو شک اور حیرت میں ڈالنے والے ہیں، مثلا اللہ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے۔
إِضَاعة الماَل: یعنی اسراف و تبذیر کرنا یا غیر شرعی کاموں پر مال خرچ کرنا۔