وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَيْرُوزَ مَوْلَى ابْنِ عَامِرٍ الدَّانَاجِ ، حَدَّثَنَا حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ أَبُو سَاسَانَ قَالَ : " شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَأُتِيَ بِالْوَلِيدِ قَدْ صَلَّى الصُّبْحَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : أَزِيدُكُمْ فَشَهِدَ عَلَيْهِ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا حُمْرَانُ أَنَّهُ شَرِبَ الْخَمْرَ وَشَهِدَ آخَرُ أَنَّهُ رَآهُ يَتَقَيَّأُ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : إِنَّهُ لَمْ يَتَقَيَّأْ حَتَّى شَرِبَهَا ، فَقَالَ : يَا عَلِيُّ قُمْ فَاجْلِدْهُ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : قُمْ يَا حَسَنُ فَاجْلِدْهُ ، فَقَالَ الْحَسَنُ : وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّى قَارَّهَا فَكَأَنَّهُ وَجَدَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ : قُمْ فَاجْلِدْهُ ، فَجَلَدَهُ وَعَلِيٌّ يَعُدُّ حَتَّى بَلَغَ أَرْبَعِينَ ، فَقَالَ : أَمْسِكْ ثُمَّ ، قَالَ : جَلَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ ، وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ ، وَعُمَرُ ثَمَانِينَ وَكُلٌّ سُنَّةٌ وَهَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ " زَادَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ فِي رِوَايَتِهِ ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ : وَقَدْ سَمِعْتُ حَدِيثَ الدَّانَاجِ مِنْهُ فَلَمْ أَحْفَظْهُ .امام صاحب چار اساتذہ کی دو سندوں سے ابو ساسان حضین بن منذر سے بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عثمان بن عفان ؓ کے پاس حاضر تھا کہ ان کے سامنے ولید ؓ کو لایا گیا، اس نے صبح کی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد پوچھا، کیا تمہیں اور نماز پڑھا دوں؟ تو اس کے بارے میں دو آدمیوں نے گواہی دی، ان میں ایک حمران ؓ تھے، اس نے کہا، اس نے شراب پی ہے۔ اور دوسرے نے گواہی دی، میں نے اسے قے کرتے دیکھا ہے تو حضرت عثمان ؓ نے کہا، شراب پی ہے تو قے کی ہے اور کہا، اے علی ؓ! اٹھئے اور اس کو کوڑے لگائیے اور حضرت علی ؓ نے کہا، اے حسن! اٹھ اور اسے کوڑے مار تو حضرت حسن ؓ نے کہا، حکومت کی گری اس کے حوالہ کیجئے، جو اس کی ٹھنڈک سے فائدہ اٹھاتا ہے تو حضرت علی ؓ ان سے ناراض ہو کر کہنے لگے، اے عبداللہ بن جعفر ؓ! اٹھ اور اس کو کوڑے مار، اس نے کوڑے مارنے شروع کر دئیے اور حضرت علی ؓ گن رہے تھے حتی کہ اس نے چالیس کوڑے پورے کر لیے تو کہنے لگے، رک جا، پھر فرمایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے مارے اور ابوبکر ؓ نے چالیس کوڑے مارے اور عمر ؓ نے اَسی کوڑے مارے، ہر طریقہ، رویہ درست ہے، اور یہ طریقہ مجھے زیادہ پسند ہے، علی بن حجر کی روایت میں یہ اضافہ ہے، اسماعیل کہتے ہیں، میں نے داناج سے یہ روایت سنی ہے، لیکن یاد نہیں کر سکا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : مَا كُنْتُ أُقِيمُ عَلَى أَحَدٍ حَدًّا فَيَمُوتَ فِيهِ ، فَأَجِدَ مِنْهُ فِي نَفْسِي إِلَّا صَاحِبَ الْخَمْرِ لِأَنَّهُ إِنْ مَاتَ وَدَيْتُهُ ، لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّهُ " ،یزید بن زریع نے کہا: ہمیں سفیان ثوری نے ابوحصین سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمیر بن سعد سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں کسی شخص پر حد نہیں لگاتا کہ وہ اس میں مر جائے تو میں اس سے اپنے دل میں کوئی ملال محسوس کروں، سوائے شراب پینے والے کے، وہ اگر مر جائے تو میں اس کی دیت ادا کروں گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریقے (اسی کوڑوں کی سزا) کو جاری نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .عبدالرحمان نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
ولي حارها من تولي قارها: ایک ضرب المثل ہے، جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو کسی چیز کے فائدہ اور منافع سے متمتع ہوتا ہے، اس کا اگر کوئی نقصان ہو تو وہ بھی اسے ہی برداشت کرنا چاہیے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جب خلافت کی سہولتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں تو یہ سختی اور شدت کا کام جس سے محدود اور اس کے اقارب کے دل میں نفرت پیدا ہو گی، بھی خود ہی سرانجام دیں، حالانکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تکریم و توقیر کرتے ہوئے، انہیں یہ ذمہ داری سونپی تھی، صحیح بخاری میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مناقب میں آیا ہے کہ حضرت علی نے اَسی کوڑے لگوائے تھے اور تطبیق کی صورت یہ ہے، جیسا کہ بعض روایات میں موجود ہے کہ چالیس کوڑے لگوائے تھے، لیکن اس کے سرے دو تھے، اس لیے جس نے کوڑے کا لحاظ رکھا چالیس کہا اور جس نے کوڑے کے دو سرے سامنے رکھے، اس نے (80)
کہا، اس طرح گویا، چالیس کوڑے دہرے مارنا پسندیدہ عمل قرار دیا، اس لیے كل سنة کا معنی یہ ہو سکتا ہے، اَسی (80)
کوڑے اور چالیس دہرے کوڑے، دونوں سنت ہیں اور اَسی (80)
کوڑے لگانے کا مشورہ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہی دیا تھا۔
(فتح الباری، ج 12، ص 85)
جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔
حضین بن منذر رقاشی کہتے ہیں کہ جب ولید بن عقبہ کو عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اور لوگوں نے ان کے خلاف گواہی دی، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اٹھئیے اور اپنے چچا زاد بھائی پر حد جاری کیجئے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے ان کو کوڑے مارے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے لگائے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگائے، اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے لگائے، اور ان میں سے ہر ایک سنت ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2571]
فوائد و مسائل:
خلفائے راشدین کا عمل سنت ہےاور اسے دلیل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
نبی اکرمﷺ نےفرمایا: ’’میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت اختیار کرو۔‘‘ (جامع الترمذی، العلم، باب ماجاء فی أخذ بالسنة واجتناب البدعة‘ حدیث: 2672)