حدیث نمبر: 1694
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ " أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهُ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي أَصَبْتُ فَاحِشَةً فَأَقِمْهُ عَلَيَّ ، فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا ، قَالَ : ثُمَّ سَأَلَ قَوْمَهُ ، فَقَالُوا : مَا نَعْلَمُ بِهِ بَأْسًا إِلَّا أَنَّهُ أَصَابَ شَيْئًا يَرَى أَنَّهُ لَا يُخْرِجُهُ مِنْهُ إِلَّا أَنْ يُقَامَ فِيهِ الْحَدُّ ، قَالَ : فَرَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا أَنْ نَرْجُمَهُ ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ، قَالَ : فَمَا أَوْثَقْنَاهُ وَلَا حَفَرْنَا لَهُ ، قَالَ : فَرَمَيْنَاهُ بِالْعَظْمِ وَالْمَدَرِ وَالْخَزَفِ ، قَالَ : فَاشْتَدَّ فَاشْتَددْنَا خَلْفَهُ حَتَّى أَتَى عُرْضَ الْحَرَّةِ ، فَانْتَصَبَ لَنَا ، فَرَمَيْنَاهُ بِجَلَامِيدِ الْحَرَّةِ يَعْنِي الْحِجَارَةَ حَتَّى سَكَتَ ، قَالَ : ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا مِنَ الْعَشِيِّ ، فَقَالَ : أَوَ كُلَّمَا انْطَلَقْنَا غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، تَخَلَّفَ رَجُلٌ فِي عِيَالِنَا لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ عَلَيَّ أَنْ لَا أُوتَى بِرَجُلٍ فَعَلَ ذَلِكَ ، إِلَّا نَكَّلْتُ بِهِ " ، قَالَ : فَمَا اسْتَغْفَرَ لَهُ وَلَا سَبَّهُ ،

عبدالاعلیٰ نے کہا: ہمیں داود نے ابونضرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اسلم قبیلے کا ایک آدمی، جسے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: مجھ سے بدکاری ہو گئی ہے، مجھ پر اس کی حد نافذ کیجیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کئی بار واپس کیا۔ کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قوم سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم ان کی کسی برائی کو نہیں جانتے، مگر ان سے کوئی بات سرزد ضرور ہوئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انہیں اس کیفیت سے، اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں نکال سکتی کہ ان پر حد قائم کر دی جائے۔ کہا: اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پھر واپس آئے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ انہیں رجم کر دیں۔ کہا: ہم انہیں بقیع الغرقد کی طرف لے کر گئے۔ کہا: نہ ہم نے انہیں باندھا، نہ ان کے لیے گڑھا کھودا۔ کہا: ہم نے انہیں ہڈیوں، مٹی کے ڈھیلوں اور ٹھیکروں سے مارا۔ کہا: وہ بھاگ نکلے تو ہم بھی ان کے پیچھے بھاگے حتی کہ وہ حرہ (سیاہ پتھروں والی زمین) کے ایک کنارے پر آئے اور ہمارے سامنے جم کر کھڑے ہو گئے، پھر ہم نے انہیں حرہ کی چٹانوں کے ٹکڑوں، یعنی (بڑے بڑے) پتھروں سے مارا حتی کہ وہ بے جان ہو گئے، کہا: پھر شام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”جب بھی ہم اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے نکلتے ہیں کوئی آدمی پیچھے ہمارے اہل و عیال کے درمیان رہ جاتا ہے اور بکرے کی طرح جوش میں آوازیں نکالتا ہے، مجھ پر لازم ہے کہ میرے پاس کوئی ایسا آدمی نہیں لایا جائے گا جس نے ایسا کیا ہو گا مگر میں اسے عبرتناک سزا دوں گا۔“ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (خطبے کے دوران میں) نہ ان کے لیے استغفار کیا، نہ انہیں برا بھلا کہا۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَاهُ ، وَقَالَ : فِي الْحَدِيثِ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَشِيِّ : فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَال : " أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ إِذَا غَزَوْنَا يَتَخَلَّفُ أَحَدُهُمْ عَنَّا ، لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ " وَلَمْ يَقُلْ فِي عِيَالِنَا ،

یزید بن زریع نے کہا: ہمیں داود نے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی اور انہوں نے حدیث میں کہا: شام کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد اور ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”اما بعد! لوگوں کا کیا حال ہے؟ جب ہم جہاد کے لیے جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی شخص پیچھے رہ جاتا ہے، وہ نسل کشی کے بکرے کی طرح آوازیں نکالتا ہے۔۔“ انہوں (یزید بن زریع) نے ”ہمارے اہل و عیال میں“ کے الفاظ نہیں کہے۔

وحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا ، عَنْ دَاوُدَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ ، فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .

یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ اور سفیان دونوں نے داود سے اسی سند کے ساتھ اس حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا، البتہ سفیان کی حدیث میں ہے: اس نے تین بار زنا کا اعتراف کیا۔ (چوتھی بار کے اعتراف پر اسے سزا سنائی گئی۔)

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحدود / حدیث: 1694
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4431

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اسلم خاندان کا ایک آدمی جسے ماعز بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کہتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا، میں نے بدکاری کا ارتکاب کیا ہے، اس کی حد مجھ پر لگائیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کئی دفعہ واپس کیا، پھر آپﷺ نے اس کی قوم سے پوچھا تو انہوں نے کہا، ہمیں اس کے اندر کسی بیماری (دماغی خلل) کا علم نہیں ہے، مگر یہ بات ہے، اس نے کسی گناہ کا ارتکاب کیا ہے، جس... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4428]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، رجم کے لیے پتھر مارنا ضروری نہیں ہے، پتھر، ڈھیلے، ٹھیکرے، ہڈیاں اور ڈنڈے وغیرہ، جن سے انسان قتل کیا جا سکے، اس پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے، کیونکہ اس کو عبرتناک سزا دینی ہوتی ہے، فوری طور پر مارنا درست نہیں ہے، ہاں اگر مار مار کر اس کو ادھ موا کر دیا جائے، لیکن اس کی جان نہ نکل رہی ہو تو پھر کوئی بڑا وزنی پتھر مار کر اسے ختم کیا جا سکتا ہے، کیونکہ جلود، بڑے پتھر کو کہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1694 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4431 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا حکم دیا تو ہم انہیں لے کر بقیع کی طرف چلے، قسم اللہ کی! نہ ہم نے انہیں باندھا، نہ ہم نے ان کے لیے گڑھا کھودا، لیکن وہ خود کھڑے ہو گئے، ہم نے انہیں ہڈیوں، ڈھیلوں اور مٹی کے برتن کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں سے مار ا، تو وہ ادھر ادھر دوڑنے لگے، ہم بھی ان کے پیچھے دوڑے یہاں تک کہ وہ حرہ پتھریلی جگہ کی طرف آئے تو وہ کھڑے ہو گئے ہم نے انہیں حرہ کے بڑے بڑے پتھروں سے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈے ہو گئے، تو نہ تو آپ نے ان کی مغفرت کے لیے دعا کی، اور نہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4431]
فوائد ومسائل:
حجتہ الاسلام حافظ ابن حجررحمتہ اللہ نے نماز جنازہ پڑھنے والی روایت کو ترجیح دی ہے۔
حافظ ابن حجر نے اس مضمون کی روایات میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ جب ان کو رجم کیا گیا تھا اس وقت نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی۔
واللہ اعلم۔
تفصیل کے لئے ملاخط فرمائیں: (فتح الباري، کتاب الحدود، باب الرجم بالمصلی، 159/12، شرح حدیث:6820) امام بخاری رحمتہ اللہ سے بھی یہ سوال کیا گیا تھا کہ رسول اللہﷺ نے حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھی تھی کیا یہ بات درست ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں جناب معمر نے بیان کیا ہے کہ ان کے سوا کسی اور نے اسے بیان نہیں کیا دیکھیئے: (صحیح البخاري، الحدود، حدیث:6820)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4431 سے ماخوذ ہے۔