حدیث نمبر: 1692
وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ حِينَ جِيءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ قَصِيرٌ أَعْضَلُ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ ، فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ أَنَّهُ زَنَى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلَعَلَّكَ ؟ ، قَالَ : لَا ، وَاللَّهِ إِنَّهُ قَدْ زَنَى الْأَخِرُ ، قَالَ : فَرَجَمَهُ ، ثُمَّ خَطَبَ ، فَقَالَ : أَلَا كُلَّمَا نَفَرْنَا غَازِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، خَلَفَ أَحَدُهُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ يَمْنَحُ أَحَدُهُمُ الْكُثْبَةَ ، أَمَا وَاللَّهِ إِنْ يُمْكِنِّي مِنْ أَحَدِهِمْ لَأُنَكِّلَنَّهُ عَنْهُ " .

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ماعز بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھا، جب اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، چھوٹا قد، مضبوط جسم، جس پر چادر نہیں ہے، اس نے اپنے بارے میں چار دفعہ زنا کرنے کی شہادت دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تو نے۔۔؟‘‘ (بوس و کنار کیا ہو یا چٹکی لی ہو) اس نے کہا، نہیں، اللہ کی قسم! ذلیل اور کمینے آدمی نے زنا کیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، پھر خطبہ دیا اور فرمایا: ”خبردار، جب بھی ہم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے ہیں تو کوئی فرد پیچھے رہتا ہے اور بکرے کی طرح جنسی آوازیں نکالتا ہے، کسی کو معمولی اور حقیر چیز پیش کرتا ہے، ہاں اللہ کی قسم! اگر ان میں سے کوئی میرے قابو میں آ گیا تو میں اس کو سامان عبرت بنا دوں گا۔‘‘

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَصِيرٍ أَشْعَثَ ذِي عَضَلَاتٍ عَلَيْهِ إِزَارٌ وَقَدْ زَنَى ، فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ ، فَرُجِمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلَّمَا نَفَرْنَا غَازِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، تَخَلَّفَ أَحَدُكُمْ يَنِبُّ نَبِيبَ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ ، إِنَّ اللَّهَ لَا يُمْكِنِّي مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ إِلَّا جَعَلْتُهُ نَكَالًا أَوْ نَكَّلْتُهُ " ، قَالَ : فَحَدَّثْتُهُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، فَقَالَ : إِنَّهُ رَدَّهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ،

محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھوٹے قد، پراگندہ بالوں اور مضبوط پٹھوں والا ایک شخص لایا گیا، اس (کے جسم) پر ایک تہبند تھا اور اس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، آپ نے اسے دوبارہ لوٹایا، پھر اسے (رجم کرنے کا) حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (خطبہ دیتے ہوئے) فرمایا: ”ہم جب بھی اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے ہیں تو تم لوگوں میں سے کوئی شخص پیچھے رہ جاتا ہے، وہ نسل کشی کے بکرے کی طرح جوش سے آوازیں نکالتا ہے اور عورتوں میں سے کسی کو (آمادہ کرنے کے لیے) معمولی سی چیز پیش کرتا ہے۔ بلاشبہ اللہ جب بھی مجھے ان میں سے کسی ایک پر قابودے گا تو میں لازماً اسے (لوگوں کے لیے) عبرت بنا دوں گا، یا عبرتناک سزا دوں گا۔“ کہا: میں نے یہ حدیث سعید بن جبیر کو بیان کی تو انہوں نے کہا: آپ نے اسے چار بار واپس کیا تھا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ وَوَافَقَهُ شَبَابَةُ عَلَى قَوْلِهِ فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَامِرٍ فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا .

شبابہ اور ابوعامر عقدی دونوں نے شعبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے سماک سے، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن جعفر کی حدیث کی طرح روایت کی اور شبابہ نے اس بات میں ان کی موافقت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبار لوٹایا۔ اور ابوعامر کی حدیث میں ہے: آپ نے اسے دو یا تین بار واپس کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحدود / حدیث: 1692
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1692 | سنن ابي داود: 4422

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ماعز بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھا، جب اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، چھوٹا قد، مضبوط جسم، جس پر چادر نہیں ہے، اس نے اپنے بارے میں چار دفعہ زنا کرنے کی شہادت دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’شاید تو نے۔۔؟‘‘ (بوس و کنار کیا ہو یا چٹکی لی ہو) اس نے کہا، نہیں، اللہ کی قسم! ذلیل اور کمینے آدمی نے زنا کیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4424]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
اعضل: مضبوط تن و توش کا مالک یعنی مستحکم جسم والا۔
(2)
آخر: حقیر، کمینہ۔
(3)
نبيب: وہ آواز جو نر بکرا، بکری سے جفتی کرتے وقت نکالتا ہے۔
(4)
الكثبة: تھوڑا سا دودھ یا کوئی معمولی اور حقیر چیز۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، مجرم کو اپنے اقرار اور اعتراف سے نکلنے کی راہ سمجھانا جائز ہے، بشرطیکہ وہ عادی مجرم نہ ہو اور اگر حقوق اللہ سے تعلق رکھنے والی حدود کے اقرار سے پھر جاتا ہے اور اس کے خلاف بینہ موجود نہیں ہے تو اس کے رجوع کو بھی مان لیا جائے گا۔
(شرح نووي، مسلم، ج 2 ص 77)
لیکن عادی مجرم کو عبرتناک سزا دینی چاہیے، جیسا کہ آپ کے خطبہ سے ثابت ہو رہا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ سے معلوم ہوتا ہے، حضرت ماعز ان میں داخل نہیں تھے، کیونکہ ان کے بارے میں فرما رہے ہیں، میں ان کو اگر قابو میں آ گئے، عبرت بنا ڈالوں گا اور حضرت ماعز کو نکلنے کی تلقین فرما رہے ہیں اور آگے صریح روایت آ رہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: واپس چلے جاؤ، اللہ سے بخشش طلب کرو، توبہ کر لو، بار بار یہ کہا، چوتھی بار پوچھا، دیوانے تو نہیں ہو، شراب تو نہیں پی ہے اور پھر اس کی توبہ کی تعریف فرمائی، جو انہوں نے حد کا تقاضا کر کے عملی صورت میں دیکھی تھی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1692 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1692 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پستہ قد پراگندہ بال، مضبوط بدن آدمی لایا گیا، جو تہبند باندھے ہوئے تھا اور زنا کر چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو مرتبہ لوٹایا، پھر اس کو رجم کرنے کا حکم دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب بھی ہم اللہ کی راہ میں جہاد کرنے نکلتے ہیں، تم میں سے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے اور بکرے کی طرح آوازیں نکالتا ہے اور ان میں سے کسی کو تھوڑا... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4425]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ حضرت ہذال رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک نوکر کی حیثیت سے رہتے تھے اور حضرت ہذال رضی اللہ عنہ کی مطلقہ لونڈی تھی، جو ان کی بکریاں چراتی تھی، حضرت ماعز رضی اللہ عنہ نے اس سے زنا کر لیا، پھر پشیمان ہو کر حضرت ہذال رضی اللہ عنہ کو بتایا تو انہوں نے ان کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کا مشورہ دیا اور ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور وہ دور غربت کا تھا، بعض عورتیں جاہلیت کے دور میں یہ حرکت کرتی تھیں، بعد میں بھی بعض میں یہ عادت قائم رہی، وہ اپنی عادت کی بنا پر معمولی چیز کے عوض اپنی عزت نیلام کر دیتی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر حاضری میں، چونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ساتھ غزوہ میں سب شریک ہونے کی کوشش کرتے تھے، اس لیے بدکار مرد اور عورتوں کو اس کا موقع مل جاتا تھا، اس لیے آپﷺ نے جب ایک تقریب پیدا ہو گئی تو موقعہ کی مناسبت سے ان لوگوں کو متنبہ فرمایا تاکہ وہ اس حرکت سے باز رہیں، وگرنہ عبرتناک سزا کے لیے تیار رہیں، اس سے مراد وہ صحابی نہ تھا جس نے خود کو پیش کیا تھا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1692 سے ماخوذ ہے۔