صحيح مسلم
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب قَطْعِ السَّارِقِ الشَّرِيفِ وَغَيْرِهِ وَالنَّهْيِ عَنِ الشَّفَاعَةِ فِي الْحُدُودِ: باب: چور اگرچہ شریف ہو اس کا ہاتھ کاٹنا اور حدود میں سفارش نہ کرنا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ ، فَقَالُوا : مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالُوا : وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ؟ ، ثُمَّ قَامَ ، فَاخْتَطَبَ فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ ، تَرَكُوهُ ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ ، أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ ، لَقَطَعْتُ يَدَهَا " ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ رُمْحٍ إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ .قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے کہا: ہمیں لیث نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ قریش کو ایک مخزومی عورت، جس نے چوری کی تھی، کے معاملے نے فکر مند کر دیا، انہوں نے کہا: اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون بات کرے گا؟ کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ ہی اس کی جرأت کر سکتے ہیں؟ چنانچہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے گفتگو کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم حدود اللہ میں سے ایک حد (کو ساقط کرنے) کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، خطبہ دیا اور فرمایا: ”اے لوگو! تم سے پہلے لوگوں کو اسی چیز نے تباہ کر ڈالا کہ جب ان کا کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ان میں سے کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے۔ اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔“ ابن رمح کی حدیث میں: ”تم سے پہلے لوگ تباہ ہو گئے“ کے الفاظ ہیں۔
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الَّتِي سَرَقَتْ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ ، فَقَالُوا : مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالُوا : وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ فِيهَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ؟ ، فَقَالَ لَهُ أُسَامَةُ : اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَلَمَّا كَانَ الْعَشِيُّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَطَبَ ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ ، تَرَكُوهُ ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ ، أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ ، وَإِنِّي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ ، لَقَطَعْتُ يَدَهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقُطِعَتْ يَدُهَا " ، قَالَ يُونُسُ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : قَالَ عُرْوَةُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : فَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا بَعْدُ وَتَزَوَّجَتْ وَكَانَتْ تَأتِينِي بَعْدَ ذَلِكَ ، فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ قریش کو اس عورت کے معاملے نے فکر مند کیا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں، غزوہ فتح مکہ (کے دنوں) میں چوری کی تھی۔ انہوں نے کہا: اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون بات کرے گا؟ (کچھ) لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ہی اس کی جرأت کر سکتے ہیں۔ وہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کی گئی تو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں بات کی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور فرمایا: ”کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟“ تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! میرے لئے مغفرت طلب کیجیے۔ جب شام کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، خطبہ دیا، اللہ کے شایانِ شان اس کی ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”امام بعد! تم سے پہلے لوگوں کو اسی چیز نے ہلاک کر ڈالا کہ جب ان میں سے کوئی معزز انسان چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کر دیتے اور میں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو اس کا (بھی) ہاتھ کاٹ دیتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں حکم دیا جس نے چوری کی تھی تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ یونس نے کہا: ابن شہاب نے کہا: عروہ نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس کے بعد اس کی توبہ (اللہ کی طرف توجہ بہت) اچھی (ہو گئی) اور اس نے شادی کر لی اور اس کے بعد وہ میرے پاس آتی تھی تو میں اس کی ضرورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کرتی تھی۔
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَتِ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ تُقْطَعَ يَدُهَا " ، فَأَتَى أَهْلُهَا أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، فَكَلَّمُوهُ فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ ، وَيُونُسَ .معمر نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: بنو مخزوم کی ایک عورت عاریتا سامان لیتی تھی اور پھر اس کا انکار کر دیا کرتی تھی، (پھر اس نے چوری کر ڈالی) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ اس پر اس کے گھر والے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے بات کی تو انہوں نے اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی، پھر لیث اور یونس کی حدیث کی طرح بیان کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
چوری کرنے والی عورت بنو مخزوم کی عورت فاطمہ بنت اسود تھی، جو ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے فوت ہونے والے شہید خاوند ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی بھتیجی تھی۔
(طبقات ابن سعد ج 8 ص 263)
اور جاہلیت کے دور میں بھی چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا تھا۔
اس لیے بنو مخزوم جو قریش کا ایک معزز خاندان تھا، بہت پریشان ہوا، کیونکہ وہ جانتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حد قائم کرنے میں کوئی رو رعایت نہیں فرمائیں گے، اس لیے انہوں نے سفارش کی تلاش کے لیے غوروفکر کیا تو ان کا خیال ہوا کہ آپ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے بہت محبت کرتے ہیں، شاید اس کی بات قبول کر لیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سفارش کو قبول نہ کیا اور پھر سب کے سامنے اس کا سبب بھی بیان فرمایا کہ بنو اسرائیل کی ہلاکت و تباہی کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی تھا کہ وہ حدود کے قیام میں معزز اور غیر معزز میں فرق کرتے تھے، حالانکہ قانون کی نظر میں سب یکساں ہیں اور مزید زور اور تاکید کے لیے فرمایا دنیا میں محبوب شخصیت اور میری لخت جگر، فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی بالفرض حال یہ حرکت کر بیٹھتی تو میں قانون میں لچک اس کی خاطر بھی پیدا نہ کرتا، یہ واقعہ فتح مکہ کے وقت پیش آیا تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی لخت جگر فاطمہ کے زندہ نہیں تھی، چوری کا واقعہ بنو مخزوم کی ایک اور عورت ام عمرو بنت سفیان کا بھی ہے جو حجۃ الوداع کے موقعہ پر پیش آیا، اس کا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کاٹ دیا تھا، اس لیے وہ واقعہ الگ ہے۔
(2)
جمہور امت کے نزدیک واقعہ جب عدالت میں پیش ہو جائے تو پھر حد کو روکنے کے لیے سفارش کرنا جائز نہیں ہے، ہاں اگر کوئی ایسا آدمی ہو جو عادی مجرم نہ ہو یا لوگوں کو تنگ کرنا اس کی عادت نہ ہو تو اس کے حق میں عدالت میں مقدمہ جانے سے پہلے پہلے سفارش کی جا سکتی ہے۔
چور کاہاتھ کاٹ ڈالنا شریعت موسوی میں بھی تھا۔
جوکوئی اس سزا کووحشیانہ بتائے وہ خود وحشی ہے اورجوکوئی مسلمان ہوکر اس سزا کوخلاف تہذیب کہےوہ کافراور دائرہ اسلام سےخارج ہے۔
(وحیدی)
حضرت اسامہ رسو ل اللہ ﷺ کےبڑے ہی چہیتے بچے تھے کیونکہ ان کےوالد حضرت زید بن حارثہ کی پرورش رسول اللہ ﷺ نےکی تھی۔
یہاں تک کہ بعض لوگ ان کو رسول کریم ﷺ کا بیٹا سمجھتے اوراسی طرح پکارتے مگر آیت کریمہ ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ﴾ (الأحزاب: 5)
نے ان کواس طرح پکارنے سےمنع کردیا۔
1۔
اس حدیث میں ’’تم سے پہلے لوگوں‘‘ سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔
2۔
چور کا ہاتھ کاٹنا شریعت موسوی میں بھی تھا۔
اب اگر کوئی اسے وحشیانہ سزا کہتا ہےتو وہ خود وحشی ہے اور جو کوئی مسلمان ہو کر اس سزا کو خلاف تہذیب کہے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
اس حدیث کی مکمل تشریح کتاب الحدود میں آئے گی۔
3۔
جس مخزومیہ عورت نے چوری کی تھی اس کا نام فاطمہ بنت اسود تھا۔
اس نے فتح مکہ کے وقت کسی کا زیور چرا لیا تھا رسول اللہ ﷺ نے بطور سزا اس کا ہاتھ کاٹ دیا تھا۔
4۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب معاملہ حاکم وقت کے پاس پہنچ جائے تو حدود کے متعلق سفارش کرنا یا سفارش کرانا دونوں حرام ہیں۔
اگر ملزم عادی مجرم نہ ہواور نہ کبھی فساد انگیزی ہی میں ملوث ہوا ہو تو حاکم وقت کے پاس جانے سے پہلے معاملہ نمٹا یا جاسکتا ہے۔
واللہ أعلم۔
حدود اسلامی کا پس منظر ہی یہ ہے ان کے قائم ہونے کے بعد مجرم گناہ سے بالکل پاک صاف ہو کر مقبول الہی ہو جاتا ہے اور حدود کے قائم ہونے سے جرائم کا سد باب بھی ہو جاتا ہے۔
جیسا کہ مملکت سعودیہ أیدھا اللہ بنصرہ میں موجود ہے، جہاں حدود شرعی قائم ہوتے ہیں۔
اس لیے جرائم بہت کم پائے جاتے ہیں۔
آیت شریفہ ﴿وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ﴾ (البقرة: 179)
میں اسی طرف اشارہ ہے۔
روایت میں جس عورت کا مقدمہ مذکور ہے اس کا نام فاطمہ مخزومیہ تھا، بعد میں بنو سلیم کے ایک شخص سے اس نے شادی بھی کر لی تھی۔
حدیث نمبر4304۔
فوائد ومسائل: :۔
1۔
روایت میں جس عورت کامقدمہ پیش ہوا اس کا نام فاطمہ مخزومیہ ہے۔
اس نے بعد میں بنو سلیم کے ایک شخص سے شادی کر لی تھی۔
2۔
بنو مخزوم کو اس کے چوری کرنے کے سلسلے میں پریشانی ہوئی تو انھوں نے حضرت اسامہ ؓ کو سفارش کرنے کے لیے تیار کیا لیکن رسول اللہ ﷺ نے شریعت کی پاسداری کرتے ہوئے اس عورت پر حد جاری کردی۔
ایک روایت میں ہے۔
(مسند أحمد: 409/5)
کہ بنو مخزوم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ پیش کش کی کہ ہم چالیس اوقیے چاندی بطور فدیہ دیتے ہیں آپ اس کا ہاتھ نہ کاٹیں تو آپ نے فرمایا: "اس پر حد جاری کر کے اسے پاک کردینا ہی اس کے لیےبہترہے۔
'' (مسند أحمد: 409/5)
ایک روایت میں ہے کہ اس عورت کی قوم نے پانچ سو دینار بطور فدیہ پیش کیے لیکن رسول اللہ ﷺ نےاس کا ہاتھ کاٹ دیا تو اس عورت نے کہا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ!کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: "کیوں نہیں توبہ کرنے کے بعد توایسی ہے جیسے اس دن تھی جس دن اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئی تھی۔
'' (مسند أحمد: 177/2)
3۔
حد قائم کرنے کا دروازہ بند ہوتا ہے جیسا کہ سعودی عرب میں اس منظر کو دیکھا جا سکتا ہے۔
جہاں بھی اللہ کی حدود قائم ہوں گی جرائم بہت کم ہوں گے۔
4۔
چونکہ یہ واقعہ فتح مکہ کے دن پیش آیا تھا اس لیے امام بخاری ؒ نے اسے بیان کیا ہے۔
واللہ اعلم۔
1۔
حضرت اسامہ بن زید ؓ کو لوگ حب بن حب یعنی محبوب بن محبوب کہا کرتے تھے کیونکہ ان دونوں سے رسول اللہ ﷺ کو خاص محبت تھی۔
ان کی والدہ ماجدہ اُم ایمن ؓ رسول اللہ ﷺ کی آزاد کردہ ہیں اور ان کی گودمیں رسول اللہ ﷺ نے پرورش پائی تھی۔
2۔
اس حدیث میں حضرت اسامہ ؓ کی عظیم فضیلت اور قدر و منزلت ہے کہ قریش نے دربار نبوی میں آپ کو سفارش کا اہل پایا چنانچہ انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے ہاں آپ کے محبوب حضرت اسامہ بن زید ؓ کے علاوہ کوئی دوسرا شخص سفارش کی جرات نہیں کرے گا۔
3۔
جس عورت نے چوری کی اس کا نام فاطمہ بنت اسود تھا جو مخزوم قبیلے سے تعلق رکھتی تھی رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا وہ ہاتھ کٹنے کے بعد حضرت عائشہ ؓ کے پاس آتی اور آپ اس کا تعاون کرتی تھیں۔
4۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی حدود قائم کرنے میں کسی قسم کی مداہنت نہیں کرتے تھے۔
اور نہ کسی کا لحاظ ہی رکھتے تھے۔
(1)
اس عورت کا نام فاطمہ بنت اسود تھا۔
اس کا باپ اسود بن اسد غزوۂ بدر میں قتل ہوا تھا۔
یہ عورت حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پہلے شوہر حضرت ابو سلمہ کی بھتیجی تھی۔
جب اس کی چوری ثابت ہو گئی تو پہلے اس کے خاندان نے چالیس اوقیے چاندی بطور فدیہ دینے کی پیش کش کی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے فرمایا: ’’اس پر حد کا قائم ہونا بہتر ہے۔
‘‘ پھر اس نے حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کی پناہ لی اور ان سے سفارش کی اپیل کی، چنانچہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اللہ کے رسول! اسے معاف کر دیں۔
یہ میری پھوپھی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی سفارش کو بھی مسترد کر دیا آخرکار انھوں نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کا انتخاب کیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں کسی کی سفارش قبول نہ کی بلکہ آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اٹھو اور اس کا ہاتھ کاٹ دو، چنانچہ انھوں نے اس کا ہاتھ کات دیا، اس نے عرض کی: اللہ کے رسول! میرے لیے توبہ کا دروازہ بند تو نہیں ہوا؟ تو آپ نے فرمایا: ’’آج تو اس غلطی سے یوں پاک ہو چکی ہے گویا آج ہی تجھے تیری ماں نے جنم دیا ہے۔
‘‘ چنانچہ اس نے توبہ کی اور بنو سلیم کے ایک آدمی سے نکاح کر لیا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد وہ میرے پاس آئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی حاجت پیش کرتی۔
(2)
بہرحال اس امر پر امت کا اجماع ہے کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہوتو کسی کو اس کے متعلق سفارش نہیں کرنی چاہیے۔
اگر کوئی سفارش کرتا ہے تو حاکم وقت کو چاہیے کہ وہ سختی سے اسے رد کر دے اور اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم کرے۔
(فتح الباري: 113/12، 116)
چور جب چوری سے توبہ کرے تو کیا توبہ قبول ہوگی؟ کیا اس سے فسق کا نام دور ہو جائے گا؟ پھر کیا اس کی گواہی قبول ہوگی؟ ان تمام سوالات کا جواب اس حدیث سے ملتا ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ چور کی توبہ قبول ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کی توبہ کو اچھا ہونے سے متصف کیا ہے، اس کا مطلب ہے کہ اس سے فسق کا نام دور ہو جائے گا، گویا وہ توبہ کرنے سے اپنی پہلی حالت پر لوٹ آتا ہے، پھر توبہ کے بعد اس کی گواہی بھی قبول کی جائے گی۔
الغرض توبہ کرنے سے اس کے کردار کا سیاہ دھبا دور ہوجائے گا اگرچہ توبہ کرنے سے حد معاف نہیں ہوگی۔
مذکورہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ارشاد فرمائے جب فتح مکہ کہ موقع پر قبیلۂ مخزوم کی فاطمہ نامی ایک عورت نے چوری کی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ ہوچکا تھا۔
مقصد یہ ہے کہ حدود اللہ کے قیام ونفاذ کسی معزز اور معمولی وحقیر میں فرق نہ کیا جائے۔
ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ بلند مرتبہ لوگوں کو چھوڑ دیا جائے اور کمزوروناتواں پر حد جاری کر دی جائے۔
جو ان میں فرق کرے گا وہ اسلام کے طریقے کی مخالفت کرتا ہے اور ایسا کرنا معاشرے کی تباہی کا باعث ہے۔
اس نے آنحضرت ﷺ کے گھر سے ایک چادر چرالی تھی جیسے کہ ابن ماجہ کی روایت میں اس کی صراحت مذکور ہے اور ابن سعدکی روایت میں زیور چرانا مذکورہے۔
ممکن ہے کہ ہر دو چیزیں چرائی ہوں۔
باب کا مطلب حضرت عائشہ ؓ کے قول فحسنت توبتها سے نکلتا ہے۔
طحاوی ؒنے کہا چور کی شہادت بالاجماع مقبول ہے جب وہ توبہ کرلے۔
باب کا مطلب یہ تھا کہ قاذف کی توبہ کیوں کر مقبول ہوگی لیکن حدیث میں چور کی توبہ مذکور ہے تو امام بخاری ؒنے قاذف کو چور پر قیاس کیا۔
(1)
اس عورت کا نام فاطمہ بنت اسود تھا جو قریش کے ایک بااثر قبیلے بنو مخزوم سے تعلق رکھتی تھی۔
(2)
چوری کرنے سے انسان کی ظاہری حیثیت مجروح ہو جاتی ہے اور وہ گواہی دینے کے قابل نہیں رہتا، لیکن چور جب توبہ کر کے اپنی اصلاح کر لے تو اس سے چوری کا دھبہ دور ہو جاتا ہے، پھر اس کی گواہی مسترد نہیں کی جاتی۔
امام بخاری ؒ نے تہمت لگانے والے کو چور سے ملایا ہے کیونکہ ان کے نزدیک دونوں میں کوئی فرق نہیں۔
(3)
امام طحاوی ؒ نے لکھا ہے: چور جب چوری کے بعد توبہ کر لے تو اس کی گواہی قبول کرنے پر علماء کا اتفاق ہے، نیز چور کا ہاتھ کاٹ دینا ہی اس کی توبہ ہے۔
جب ہاتھ کٹ گیا تو معلوم ہوا کہ اس کی توبہ قبول ہوئی، لہذا گواہی بھی قبول ہو گی۔
واللہ أعلم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ قریش قبیلہ بنو مخزوم کی ایک عورت ۱؎ کے معاملے میں جس نے چوری کی تھی، کافی فکرمند ہوئے، وہ کہنے لگے: اس کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون گفتگو کرے گا؟ لوگوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے اسامہ بن زید کے علاوہ کون اس کی جرات کر سکتا ہے؟ چنانچہ اسامہ نے آپ سے گفتگو کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟ “ پھر آپ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے آپ نے فرمایا: ” لوگو! تم سے پہلے کے لوگ اپنی اس روش کی بنا پر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الحدود/حدیث: 1430]
وضاخت: 1؎:
قبیلہ بنو مخزوم کی اس عورت کا نام فاطمہ بنت اسود تھا، اس کی یہ عادت بھی تھی کہ جب کسی سے کوئی سامان ضرورت پڑنے پر لے لیتی توپھر اس سے مکر جاتی۔
2؎:
نبی اکرمﷺ کا ارشاد کہ ’’اگر محمد کی بیٹی فاطمہ چوری کرتی‘‘، یہ بالفرض والتقدیر ہے، ورنہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شان اس سے کہیں عظیم تر ہے کہ وہ ایسی کسی غلطی میں مبتلا ہوں، قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے سارے اہل بیت کی عفت وطہارت کی خبر دی ہے ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ (الأحزاب: 33) فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺکے نزدیک آپﷺ کے اہل خانہ میں سب سے زیادہ عزیز تھیں اسی لیے ان کے ذریعہ مثال بیان کی گئی۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قریش کو ایک مخزومی عورت جس نے چوری کی تھی کے معاملہ نے فکرمند کر دیا، وہ کہنے لگے: اس عورت کے سلسلہ میں کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرے گا؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے سوا اور کس کو اس کی جرات ہو سکتی ہے؟ چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے اس سلسلہ میں گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسامہ! کیا تم اللہ کے حدود میں سے ایک حد کے سلسلہ میں مجھ سے سفارش کرتے ہو! “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ د۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4373]
1) مقدمہ عدالت میں پہنچ جانے کے بعد شرعی حدود کو ٹالنے کے لئے سفارش کرنا بہت بڑا گناہ اور جرم ہے۔
2) قانون معاشرے کے سب افراد کے لئے برابر ہونا چاہئے۔
3) گزشتہ قوموں کی ہلاکت کا ایک اہم سبب ان میں رائج طبقاتی امتیاز بھی تھا، اسلام نے سختی کے ساتھ اسے روکا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ ایک عورت نے چوری کی چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی، لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسامہ کے سوا کون (اس کی سفارش سے متعلق گفتگو کرنے کی) ہمت کر سکتا ہے؟ چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ سے لوگوں نے کہا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں بات چیت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسامہ! بنی اسرا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4899]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چوری کی، ان لوگوں نے کہا: اس سلسلے میں ہم آپ سے بات نہیں کر سکتے، آپ سے صرف آپ کے محبوب اسامہ ہی بات کر سکتے۔ چنانچہ انہوں نے آپ سے اس سلسلے میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا: ” اسامہ! ٹھہرو، بنی اسرائیل انہی جیسی چیزوں سے ہلاک ہوئے، جب ان میں کوئی اونچے طبقے کا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4901]
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت نے چوری کی (” فتح مکہ کے وقت “ کا لفظ مرسل ہے) تو اس کے خاندان کے لوگ گھبرا کر سفارش کا مطالبہ کرنے کے لیے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے پاس گئے۔ جب اسامہ نے آپ سے اس کے بارے میں بات چیت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ نے فرمایا: ” تم مجھ سے اللہ کی حدوں میں سے کسی ایک حد کے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4907]
(2) ان احادیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جس طرح چوری کرنے والے مرد کا ہاتھ کاٹا جاسکتا ہے اسی طرح چوری کرنے والی عورت کا ہاتھ بھی کاٹا جاسکتا ہے۔ قرآن کریم نے تو مکمل صراحت کے ساتھ چور مرد اور چور عورت کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے۔ دیکھیے (المائدة:5: 38)
(3) حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی عظیم قدرت و منزلت پر بھی یہ احادیث واضح دلالت کرتی ہیں کہ وہ نہ صرف رسول اللہ ﷺ کے محبوب تھے بلکہ لوگوں میں بھی محبوب سمجھے جاتے تھے۔
(4) مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے ہاں بہت زیادہ قدر و منزلت کی حامل تھیں، تاہم یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ حدود اللہ کے قائم کرنے میں نہ تو کسی کی محبت کو خاطر میں لایا جاسکتا ہے اور نہ کسی کی سفارش ہی قبول کی جاسکتی ہے۔ واللہ أعلم
(5) ”آیا کرتی تھی“ گویا وہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئی تھی۔ توبہ اور سزا کے بعد گناہ ختم ہو جاتا ہے۔
(6) کسی حدیث کی تمام اسانید کو تفصیلا بیان کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ واقعے کی تمام تفصیلات سامنے آجاتی ہیں، کوئی ابہام باقی نہیں رہتا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت کے معاملے میں جس نے چوری کی تھی، قریش کافی فکرمند ہوئے اور کہا: اس کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون گفتگو کرے گا؟ لوگوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے علاوہ کون اس کی جرات کر سکتا ہے؟ چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو “؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2547]
فوائد ومسائل: (1)
بنومخزوم کی اس خاتون کا نام فاطمہ بنت اسود بن عبدالاسد تھا جوابوسلمہ کی بھتیجی تھی۔
یہ ابوسلمہ ام المومنین ام سلمہ کے پہلے شوہر تھے۔ (فتح الباري، 108/12)
(2)
حضرت زید بن حارثہ رسول اللہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔
جنھیں رسول اللہﷺ نے منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا۔
بعد میں اللہ تعالیٰ نے منہ بولا بیٹا بنانے سے منع فرما دیا۔
حضرت اسامہ ان کے بیٹے تھے اور رسول اللہ ﷺان سے بہت محبت کرتے تھے۔
(3)
حضرت اسامہ کو رسول اللہﷺ کی خدمت عرض کرنے کے لیے اس لیے منتخب کیا گیا ہے کہ وہ کمسن بچے تھےاس لیے خیال تھا کہ رسول اللہ ﷺنے سفارش نہ بھی مانی تو اسامہ سے ناراض نہیں ہوں گئے کیونکہ وہ بچے تھے۔
(4)
حدود کے نفاذ میں کسی کی رعایت نہیں جائز نہیں۔
(5)
قانون کے نفاذ میں امیر غریب کا فرق کرنا اللہ کے غضب کا موجب ہے کیونکہ اس سے قانون کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔
(6)
جس غلطی میں متعدد افراد شریک ہوں اس کی شناعت سب کے سامنے ذکر کر دینی چاہیے تاکہ دوسرے لوگوں کو بھی تنبیہ ہو۔
(7)
اپنی بات میں قسم کھانا جائزہے اگرچہ کسی کو اس پر شک نہ ہو البتہ بلاضرورت قسم کھانا مکروہ ہے۔
اور جھوٹی قسم کھانا حرام اور بڑا گناہ ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ کیا تو اللہ کی مقرر کردہ حدود میں سے ایک حد میں سفارش کرتا ہے؟ ‘‘ یہ فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے پھر خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا ’’ لوگو! بیشک تم سے پہلے لوگ اس وجہ سے ہلاک و تباہ ہوئے کہ جب ان سے کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ان میں کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کر دیتے۔ ‘‘ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ اور مسلم میں ایک اور سند سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے منقول ہے کہ ایک عورت لوگوں سے ادھار مانگا کرتی تھی اور پھر انکار کر دیتی تھی۔ پس اس عورت کے ہاتھ کاٹنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم صادر فرمایا۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1056»
«أخرجه البخاري، الحدود، باب كراهية الشفاعة في الحد إذا رفع إلي السطان، حديث:6788، ومسلم، الحدود، باب قطع السارق الشريف وغيره...، حديث:1688.»
تشریح: 1. مذکورہ روایت سے امام احمد‘ امام اسحق رحمہما اللہ اور ظاہریہ نے استدلال کیا ہے کہ جو عاریتاً چیز لے کر انکار کرے اس کا ہاتھ کاٹنا واجب ہے مگر جمہور کی رائے ہے کہ انکار پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ مخزومیہ خاتون کا قصہ کئی سندوں سے مروی ہے۔
اکثر روایات میں ہے کہ وہ چوری کرتی تھی اور بعض میں یہاں تک صراحت ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے چادر چوری کی تھی‘ چنانچہ اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم چوری کی وجہ سے تھا۔
2.رہا اس کے عاریتاً لے کر انکار کرنے کا ذکر تو وہ اس کی عادت تھی اور اپنی اسی عادت کی بنا پر وہ اس طرح معروف و مشہور تھی‘ جیسے وہ قبیلۂمخزوم سے ہونے کی وجہ سے مخزومیہ مشہور تھی‘ اس لیے یہ مفہوم قطعاً نہیں کہ اس کے لیے قطع ید کی سزا کا حکم عاریتاً لی ہوئی چیز کے انکار کرنے کی وجہ سے تھا۔