صحيح مسلم
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب حَدِّ السَّرِقَةِ وَنِصَابِهَا: باب: چوری کی حد اور اس کے نصاب کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْطَعُ السَّارِقَ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا " ،سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے عمرہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سونے کے) دینار کے چوتھے حصے یا اس سے زیادہ (کی مالیت) میں چور کا ہاتھ کاٹتے تھے۔
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ كلهم ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِمِثْلِهِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ .سلیمان بن کثیر اور ابراہیم بن سعد سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَحَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ وَاللَّفْظُ لِلْوَلِيدِ ، وَحَرْمَلَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، وَعَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ إِلَّا فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا " .حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری کے سوا نہیں کاٹا جائے گا۔‘‘
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ ، وَأَحْمَدَ ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَمْرَةَ أَنَّهَا ، سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تُحَدِّثُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَمَا فَوْقَهُ " .سلیمان بن یسار نے عمرہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ بیان کر رہی تھیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کے سوا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ إِلَّا فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا " ،عبدالعزیز بن محمد نے یزید بن عبداللہ بن ہاد سے، انہوں نے ابوبکر بن محمد سے، انہوں نے عمرہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کے سوا چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْعَقَدِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ مِنْ وَلَدِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے عبداللہ بن جعفر نے یزید بن عبداللہ بن ہاد سے (باقی ماندہ) اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
ان احادیث میں چوری کا نصاب بیان ہوا ہے کہ کتنی مالیت چوری کرنے پر ہاتھ کاٹا جائے! ان احادیث کی رو سے کم از کم 1/4 دینار مالیت چوری کرنے پر ہاتھ کاٹا جائے گا، اب ہم دینار کی وضاحت کرتے ہیں کہ وہ کتنی مقدار اور مالیت کا ہوتا ہے؟ واضح رہے کہ دینار کا ایک قدیم سکہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدومبارک میں دینار، مثقال کے برابر ہوتا تھا۔
سونے کی زکاۃ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس مثقال (دینار)
مقرر فرمائے ہیں اور ہمارے ہاں برصغیر میں بیس مثقال (دینار)
کا وزن تقریباً ساڑھے سات تولے ہے۔
جب ساڑھے سات تولے کو بیس مثقال پر تقسیم کیا جائے تو حاصل تقسیم چار ماشے اور چار رتی آتا ہے، گویا یہ دینار کا وزن ہے۔
اعشاری نظام کے مطابق 4 ماشے 4 رتی 4.374 گرام کے برابر ہے اور ربع دینار ایک ماشہ ایک رتی، یعنی1.0935 گرام کے مساوی سونا ہوگا، جس کی مالیت رائج الوقت سونے کے بازاری بھاؤ سے بنالی جائے۔
ہمارے ہاں آج کل (اپریل 2017 ء)
میں سونے کا بھاؤ پچاس ہزار سات سو پچاس روپے فی تولہ ہے۔
اس حساب سے ربع دینار سونے کی قیمت چار ہزار سات سو اٹھاون روپے بنتی ہے۔
اتنی مالیت کی کوئی چیز چوری کرنے پر چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔
واللہ أعلم
(1)
مجن، حجفہ اور ترس ایک ہی چیز ہیں۔
حدیث کے مطابق مجن اور حجفہ دونوں پر تنوین ہے اور حجفہ، مجن کا بیان ہے۔
انھیں میدان جنگ میں دشمن کے وار سے بچاؤ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
(عمدة القاري: 173/16)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ڈھال کی قیمت کے متعلق سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا: اس کی قیمت ربع دینار تھی۔
(السنن الکبریٰ للبیھقي: 256/8) (2)
مذکورہ روایات پیش کرنے سے امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹنے کا نصاب ربع دینار ہے، اس سے کم مالیت کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
واللہ أعلم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چوتھائی دینار ۱؎ اور اس سے زیادہ کی چوری پر ہاتھ کاٹتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود/حدیث: 1445]
وضاحت: 1؎: موجودہ وزن کے اعتبار سے ایک دینار کا وزن تقریبا سوا چار گرام سونا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چوتھائی دینار یا اس سے زائد میں (چور کا ہاتھ) کاٹتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4383]
قابل حد چوری کا نصاب چوتھائی دینار ہے۔
دینار کا وزن آج کل کے حساب سے (.254) گرام شمار کیا جاتا ہے، تو اس کا چوتھائی (1.06) گرام ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت میں کاٹا جائے گا اور ڈھال کی قیمت چوتھائی دینار ہے۔" [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4935]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چوتھائی دینار میں (چور کا) ہاتھ کاٹا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4918]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ڈھال کی قیمت میں ہاتھ کاٹا جائے " یعنی ایک تہائی دینار، یا آدھے دینار اور اس سے زیادہ میں۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4919]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ہاتھ صرف ڈھال یا اس کی قیمت میں کاٹا جائے گا۔" راوی عثمان بن ابی الولید بیان کرتے ہیں کہ عروہ نے کہا: ڈھال چار درہم کی ہوتی ہے۔ عثمان کہتے ہیں: میں نے سلیمان بن یسار کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ انہوں نے عمرہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عائشہ کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4942]
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ پانچ انگلیوں یعنی ہاتھ کو نہیں کاٹا جائے گا مگر پانچ درہم میں۔ ہمام کہتے ہیں: میں عبداللہ داناج سے ملا، انہوں نے سلیمان بن یسار سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ انہوں نے کہا: پانچ کو پانچ میں ہی کاٹا جائے گا۔ یعنی ہاتھ پانچ درہم میں کاٹا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4943]
(2) قَالَ هَمَّامٌ، ہمام بن یحییٰ یہ بات بتلانا چاہتے ہیں کہ جس طرح یہ روایت میں نے قتادہ کے واسطے سے عبداللہ داناج سے بیان کی ہے اسی طرح براہ راست عبداللہ داناج سے ملاقات کرکے یہ روایت ان سے بھی بیان کی ہے، یعنی اس طرح کی سند عالی (اونچے درجے کی) بن جاتی ہے۔ واللہ أعلم
1 ام المؤمینین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ہاتھ اسی وقت کاٹا جائے گا جب (چرائی گئی چیز کی قیمت) چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ ہو " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2585]
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہﷺکے زمانے میں درہم دینار چلتے تھے۔
درہم چاندی کا سکہ تھا دینار سونے کا۔
ایک دیناربارہ درہم کے برابر سمجھا جاتا تھا اس لیے یہ دونوں حدیث ایک ہی مقدار کوظاہر کرتی ہیں۔
(2)
اگر چرائی ہوئی چیز کی قیمت مذکورہ بالا مقدار سے کم ہوتو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائےگا تاہم دوسری سزا جرمانے یا پٹائی کی صورت میں دی جائے گئى۔
(3)
آج کل کاغذی سکوں کو سونے کا متبادل قرار دیا جاتا ہے اس لیے چوتھائی دینار (ایک ماشہ ایک رتی تقریباً ایک گرام سونا)
یا اتنی قیمت کی کوئی چیز چرائے جانے پر ہاتھ کاٹنے کی سزا دی جانی چاہیے۔
«. . . 499- وبه: عن عائشة زوج النبى صلى الله عليه وسلم أنها قالت: ما طال على وما نسيت: القطع فى ربع دينار فصاعدا. . . .»
". . . نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نہ تو لمبا وقت گزرا ہے اور نہ میں بھولی ہوں: چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ (کی چوری) میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 529]
تخریج:
[الموطا رواية يحييٰ2/ 832ح1619، ك41ب7ح24، التمهيد23/ 380، الاستذكار: 1547]
[وأخرجه النسائي 8/ 79 ح4931، من حديث مالك به وله حكم المرفوع وللحديث شواهد عند البخاري 6791، ومسلم 1684، وغيرهما]
تفقه:
➊ چوری کا نصاب چوتھائی دینار یعنی تین درہم ہے۔ اس سے کم کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
➋ نیز دیکھئے: [البخاري 6795، ومسلم 6/1686، الموطأ: 246]
[أخرجه النسائي 8/ 79ح4931، من حديث مالك به، و له حكم المرفوع و للحديث شواهدعند البخاري 6791، و مسلم 1684، و غيرهما]
تفقہ:
➊ چوری کا نصاب چوتھائی دینار یعنی تین درہم ہے۔ اس سے کم کی چوری پر پاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
➋ نیز دیکھئے: حدیث سابق: 246
اس حدیث میں چوری کی حد بیان ہوئی ہے کہ جب چور کم از کم ربع دینار کی چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اگر معمولی رقم کی چیز چوری کر لے جس کی قیمت ربع دینار سے کم ہو تو اتنی مقدار کی چوری کے عوض اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ربع دینار ایک ماشہ ایک رقی یعنی 1.0935 گرام کے مساوی سونا ہوگا۔ نیز یاد رہے کہ چور کو حاکم وقت کے پاس لے جانے سے پہلے معاف کیا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور کو لایا گیا جس نے ایک چادر چرائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، چادر کے مالک سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میرا ارادہ ہی نہیں تھا (کہ اس کا ہاتھ کٹوا دوں) میری چادر اس پر صدقہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے (صدقہ) کیوں نہ کیا؟ (اب تو عدالت میں لے آیا ہے اور اب اس کا ہاتھ کا ٹا جائے گا)۔ (سنن ابی داود: 4394 سنن ابن ماجہ: 2595، یہ حدیث صحيح ہے) بعض لوگوں نے چوری کی حد کوختم کرنے کے لیے مختلف حیلوں سے سہارا لیا ہے، جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ہمیں قرآن و حدیث کے خلاف کوئی حیلہ تلاش نہیں کرنا چاہیے، اور جو قرآن و حدیث کے خلاف حیلہ تلاش کرتا ہے، وہ صراط مستقیم سے ہٹا ہوا ہے۔