صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب الإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَوَاتِ وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ: باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں پر تشریف لے جانا (یعنی معراج) اور نمازوں کا فرض ہونا۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد وتقاربا في اللفظ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا وَقَالَ عَبد ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حِينَ أُسْرِيَ بِي ، لَقِيتُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا رَجُلٌ حَسِبْتُهُ ، قَالَ : مُضْطَرِبٌ رَجِلُ الرَّأْسِ ، كَأَنَّهُ مِنَ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، قَالَ : وَلَقِيتُ عِيسَى ، فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا رَبْعَةٌ أَحْمَرُ ، كَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ يَعْنِي حَمَّامًا ، قَالَ : وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ ، قَالَ : فَأُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ ، وَفِي الآخَرِ خَمْرٌ ، فَقِيلَ لِي : خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ ، فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ ، فَقَالَ : هُدِيتَ الْفِطْرَةَ أَوْ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ ، أَمَّا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مجھے اسراء کروایا گیا تو میں موسیٰ علیہ السلام سے ملا (آپ نے ان کا حلیہ بیان کیا: میرا خیال ہے آپ نے فرمایا:) وہ ایک مضطرب (کچھ لمبے اور پھر پتلے) مرد ہیں، لٹکتے بالوں والے، جیسے وہ قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ہوں (اور آپ نے فرمایا:) میری ملاقات عیسیٰ علیہ السلام سے ہوئی (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حلیہ بیان فرمایا:) وہ میانہ قامت، سرخ رنگ کے تھے گویا ابھی دیماس (یعنی حمام) سے نکلے ہیں۔ اور فرمایا: میں ابراہیم علیہ السلام سے ملا، ان کی اولاد میں سے میں ان کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) میرے پاس دو برتن لائے گئے، ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی، مجھ سے کہا گیا: ان میں سے جو چاہیں لے لیں۔ میں نے دودھ لیا اور اسے پی لیا۔“ (جبریل نے کہا:) ”آپ کو فطرت کی راہ پر چلایا گیا ہے (یا آپ نے فطرت کو پا لیا ہے)، اگر آپ شراب پی لیتے تو آپ کی امت راستے سے ہٹ جاتی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّاد ٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِإِيلِيَاءَ بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا ، فَأَخَذَ اللَّبَنَ ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ " .یونس نے زہری سے روایت کی، کہا: ابن مسیب نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس رات بیت المقدس کی سیر کرائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو پیالے لائے گئے۔ ایک میں شراب تھی اور ایک میں دودھ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو دیکھا اور دودھ کا پیالہ لے لیا۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ شکر ہے اس اللہ کا جس نے آپ کو فطرت کی ہدایت کی (یعنی اسلام کی اور استقامت کی)۔ اگر آپ شراب کو لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ بِإِيلِيَاءَ .یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں ”ایلیاء‘‘ کا ذکر نہیں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
: (1)
مُضْطَرِبٌ: ضرب سے ماخوذ ہے، کم گوشت، دبلے پتلے۔
(2)
رَجِلُ الرَّأْسِ: بالوں کو کنگھی کی ہوئی۔
(3)
دِيمَاسٌ: دَمْسٌ سے مشتق ہے، جس کا معنی ہوتا ہے، خاک میں چھپانا، دیماس کا معنی ہے، حمام، ترخانہ، قبر، مراد چہرے کی تروتازگی اور شادابی ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں حضرت عیسیٰؑ کو احمر (سرخ)
کہا گیا ہے، اور ابن عباسؓ کی روایت میں "إلَیٰ الْحُمْرَةِ وَالْبَیَاضِ" (سرخ وسفید)
کہا گیا، گویا سفید سرخی مائل ہوگا، اس لیے بعض جگہ آدم گندمی رنگ قرار دیا گیا ہے۔
1۔
بخاری شریف کے بعض نسخوں میں یہ روایت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔
2۔
اس حدیث میں حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق بیان ہواکہ ان کا درمیانہ قد تھا اور وہ سرخ رنگ والے تھے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے آج رات سوتے میں کعبہ کے قریب دکھایا،میں نے ایک شخص کو دیکھا جو ایسے گندمی رنگ کا تھا کہ گندمی رنگ والوں میں اس سے بہتر کوئی اور شخص نہ تھا۔
اس کے سر کے بال کان کی لوسے نیچے لٹکے ہوئے دونوں شانوں کے درمیان پڑتے تھے۔
مگر وہ بال سیدھے تھے۔
اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔
وہ اپنے دونوں ہاتھ دوآدمیوں کے شانوں پر رکھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کررہاتھا۔
(صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، حدیث: 3440)
3۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت کی شراب طہور پیش کی گئی تھی لیکن دنیا کے اعتبار سے اس کی تاویل یہی تھی جو حضرت جبریل ؑ نے بیان فرمائی،بصورت دیگر یہ ناممکن ہے کہ آپ کوپلید اور نجس شراب پیش کی گئی ہو، لہذا پیش کی جانے والی شراب کو "شراب طہور" پر ہی محمول کرنا چاہیے جو آپ کے منصب رسالت کے عین مطابق ہے۔
واللہ أعلم۔
«. . . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي رَأَيْتُ مُوسَى وَإِذَا هُوَ رَجُلٌ ضَرْبٌ رَجِلٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات کی کیفیت بیان کی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوا کہ میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ ایک دبلے پتلے سیدھے بالوں والے آدمی ہیں . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ: 3394]
[106۔ البخاري فى: 60 كتاب الأنبياء: 24 باب قول الله وهل اتاك حديث موسيٰ 3394۔ مسلم 168] ط
لغوی توضیح:
«ضَرْبٌ» دبلے پتلے۔
«رَجِلٌ» سیدھے بالوں والے۔
«دِيْمَاس» غسل خانہ۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓسے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت موسیٰ ؑ گندمی رنگ کے دراز قد والے تھے، ان کے بال سیدھے گویا وہ زط قبیلے کے فرد ہیں۔
‘‘ (صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، حدیث: 3438)
حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت موسیٰ ؑ کوطویل ہونے کے اعتبار سے قبیلہ شنوءہ کے لوگوں سے تشبیہ دی ہے اور حضرت ابن عمر ؓؓ سے مروی حدیث میں بھی لمبا ہونے کے لحاظ سے قبیلہ زط کے لوگوں سے مشابہ قراردیا ہے کیونکہ حبشی لمبے ہوتے ہیں۔
ان دونوں احادیث میں کوئی مخالفت یاتضاد نہیں ہے۔
(فتح الباري: 521/6)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” (معراج کی رات) جب مجھے آسمان پر لے جایا گیا تو میری ملاقات موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوئی، آپ نے ان کا حلیہ بتایا “ اور میرا گمان یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: ” موسیٰ لمبے قد والے تھے: ہلکے پھلکے روغن آمیز سر کے بال تھے، شنوءۃ قوم کے لوگوں میں سے لگتے تھے “، آپ نے فرمایا: ” میری ملاقات عیسیٰ (علیہ السلام) سے بھی ہوئی “، آپ نے ان کا بھی وصف بیان کیا، فرمایا: ” عیسیٰ درمیانے قد کے سرخ (سفید) رنگ کے تھے، ایسا لگتا تھا گویا ابھی دیماس (غسل خانہ) سے نہا دھو کر نکل ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3130]
وضاحت:
1؎:
یعنی تباہی وبربادی کا شکار ہوتی اس لیے کہ شراب کا خاصہ ہی یہی ہے۔
(مؤلف نے ان احادیث کو ’’اسراء اورمعراج ‘‘ کی مناسبت کی وجہ سے ذکر کیا جن کا بیان اس باب کے شروع میں ہے)