صحيح مسلم
كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات— قتل کی ذمہ داری کے تعین کے لیے اجتماعی قسموں، لوٹ مار کرنے والوں (کی سزا)، قصاص اور دیت کے مسائل
باب إِثْبَاتِ الْقِصَاصِ فِي الأَسْنَانِ وَمَا فِي مَعْنَاهَا: باب: دانتوں میں قصاص کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ أُخْتَ الرُّبَيِّعِ أُمَّ حَارِثَةَ جَرَحَتْ إِنْسَانًا ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْقِصَاصَ الْقِصَاصَ ، فَقَالَتْ أُمُّ الرَّبِيعِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُقْتَصُّ مِنْ فُلَانَةَ وَاللَّهِ لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أُمَّ الرَّبِيعِ الْقِصَاصُ كِتَابُ اللَّهِ ، قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا أَبَدًا ، قَالَ : فَمَا زَالَتْ حَتَّى قَبِلُوا الدِّيَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ " .حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رُبیع رضی اللہ عنہا (بنت نضر بن ضمضم) کی بہن، ام حارثہ نے کسی انسان کو زخمی کیا (انہوں نے ایک لڑکی کو تھپڑ مار کر اس کا دانت توڑ دیا، صحیح بخاری) تو وہ مقدمہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قصاص! قصاص!“ تو ام رُبیع رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا فلاں عورت سے قصاص لیا جائے گا؟ اللہ کی قسم! اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! اے ام ربیع! قصاص اللہ کی کتاب (کا حصہ) ہے۔“ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! اس سے کبھی قصاص نہیں لیا جائے گا (اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسا نہیں ہونے دے گا۔) کہا: وہ مسلسل اسی بات پر (ڈٹی) رہیں حتی کہ وہ لوگ دیت پر راضی ہو گئے۔ تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم کھائیں تو وہ ضرور اسے سچا کر دیتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
ربیع سے مراد، ربیع بنت نضر بن ضمضم ہیں، جو حضرت انس بن مالک بن نضر کی پھوپھی ہیں، اور حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ ہیں، اور حارثہ سے مراد، حارثہ بن سراقہ ہے، جو غزوہ بدر میں شہید ہو گیا تھا، اور ام الربیع نے، جبﷺ آپ نے قصاص کا فیصلہ سنایا کہ اللہ کا قانون، اگر ولی معاف نہ کریں، تو قصاص ہے، جواباً کہا، اللہ کی قسم، مجھے اللہ تعالیٰ پر اعتماد و بھروسہ ہے، کہ فریق مخالف معافی یا دیت پر راضی ہو جائے گا، اس لیے عملاً قصاص کا واقعہ پیش نہیں آئے گا، اسی بناء پر آپﷺ نے آخر میں فرمایا: ’’اللہ کے بعض بندے ایسے ہیں، اگر وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے، اللہ کی قسم اٹھائیں، تو ان کی قسم پوری کر دیتا ہے‘‘ اس لیے یہ اعتراض پیدا نہیں ہو سکتا، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قصاص کے فیصلہ کا ام ربیع نے انکار کیا، اگر اس نے انکار کیا ہوتا، تو آپﷺ اس کی تعریف نہ فرماتے، بلکہ غصہ اور ناراضی کا اظہار فرماتے، اس لیے ہر متکلم کے الفاظ کے ظاہری معنی پر اصرار نہیں کرنا چاہیے، یا کسی نیک سیرت اور باکردار، صاحب تقویٰ کے ظاہری قول و فعل پر فورا، کفر یا گناہ گار ہونے کا فتویٰ نہیں لگانا چاہیے، بلکہ اس کا مقصد اور مراد معلوم کرنے کی کوشش کرنا چاہیے، اور اس کے احوال و ظروف کو ملحوظ رکھنا چاہیے کہ کہیں جذباتی طور پر، فرح یا حزن کی شدت کی بناء پر غیر شعوری طور پر یا تعبیر کی کوتاہی کی بناء پر، تو اس سے یہ حرکت سرزد نہیں ہو گی، کیونکہ انسان کے ہر فعل و قول کو اس کی سیرت و کردار اور عمومی رویہ کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔
(2)
اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مردوں اور عورتوں کا باہمی قصاص اور بدلہ جس طرح جان و نفس میں ہے، اس طرح اطراف اور اعضاء و جوارح میں بھی ہے، جان و نفس میں مرد اور عورت کے درمیان قصاص ہے، اس پر ائمہ اربعہ اور جمہور کا اتفاق ہے۔
(المغني، ج 11، ص 500 مسئلہ نمبر 1432)
اطراف و اعضاء میں قصاص کے بارے میں اختلاف ہے، ائمہ حجاز مالک، شافعی، اور احمد کے نزدیک یہاں بھی مرد اور عورت میں قصاص جاری ہو گا، لیکن امام ابو حنیفہ کے نزدیک اطراف میں مرد اور عورت میں قصاص نہیں ہے، ایسی صورت میں دیت ہو گی۔
(3)
صحیح مسلم کی مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہوتا ہے، جنایت یا جرم کا ارتکاب ربیع کی بہن نے کیا تھا، جبکہ بخاری شریف کی روایات سے معلوم ہوتا ہے، زیادتی کا ارتکاب خود ربیع نے کیا تھا، اس طرح صحیح مسلم کی روایت میں زخمی کرنے کا تذکرہ ہے، جبکہ بخاری میں، ثنیہ دانت توڑنے کا ذکر ہے، تیسرا اختلاف یہ ہے، صحیح مسلم کی روایت کی رو سے، قسم ربیع کی ماں نے اٹھائی ہے، اور بخاری کی اکثر روایات کی رو سے، ربیع کے بھائی، حضرت انس رضی اللہ عنہ کے چچا، انس بن نضر نے اٹھائی تھی، اس لیے اس تعارض کو دور کرنے میں شارحین میں اختلاف ہے، بعض حضرات کا خیال ہے، یہ دو واقعات ہیں، ایک واقعہ میں ربیع کی بہن نے کسی انسان کو زخمی کیا تھا، اور قسم اس کی ماں نے اٹھائی، دوسرے میں ربیع نے ایک عورت کا سامنے کا دانت توڑا، اور قسم اس کے بھائی انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے اٹھائی، اور بعض حضرات کے نزدیک واقعہ ایک ہی ہے، زخمی کرنا اور دانت توڑنا، اس میں کوئی تعارض نہیں ہے، اور جرم کا ارتکاب، انس بن نضر رضی اللہ عنہ کی بہن، ربیع نے کیا تھا۔
راوی کا یہ وہم کہ اس نے اس کو اخت الربيع بنا دیا، اس لیے امام بیہقی نے کہا ہے، اگر یہ واقعات نہیں ہیں، تو پھر ثابت کی روایت کو ترجیح ہے، اگرچہ حافظ ابن حجر کا میلان اس طرف ہے کہ واقعات دو ہیں، اور واقعہ ایک ہونے کی صورت میں قسم اٹھانے والے حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ ہیں، صحیح بات یہی ہے کہ صحیح بخاری کی روایت کو ترجیح حاصل ہے اور وہ حمید سے ہے، ثابت سے نہیں ہے۔
اس لیے امام بیہقی کا ثابت کی روایت کو ترجیح دینا جو مسلم کی روایت ہے، درست نہیں ہے، اور دو واقعات بنانے میں بھی کوئی اشکال نہیں ہے، کیونکہ دونوں واقعات کا راوی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہے، جو اس خاندان کا چشم و چراغ ہے، اور اس سے بیان کرنے والے دونوں شاگرد ثابت اور حمید بھی ان سے طویل ملازمت رکھنے والے ہیں۔
(1)
ایک دوسرے مقام پر امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت کو تفصیل سے بیان کیا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: حضرت انس رضی اللہ عنہ کی پھوپھی ربیع بنت نضر نے ایک انصاری لڑکی کے دانت توڑ دیے۔
ربیع کے رشتے داروں نے اس سے معافی مانگی تو انھوں نے انکار کر دیا، پھر انھوں نے دیت دینے کی پیش کش کی تو انھوں نے اسے بھی رد کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر قصاص کا مطالبہ کیا اور قصاص کے علاوہ کوئی بھی چیز لینے سے انکار کر دیا، لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا فیصلہ فرما دیا۔
یہ سن کر اس کے بھائی انس رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! کیا میری بہن ربیع کا دانت توڑ دیا جائے گا؟ ہرگز نہیں، مجھے اس ذات کی قسم ہے جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے انس! اللہ کا حکم تو قصاص ہی کا تقاضا کرتا ہے۔
‘‘ اتنے میں وہ لوگ دیت لینے پر رضامند ہو گئے اور انھوں نے معافی دے دی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ کی قسم کھا لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری کر دیتا ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4500) (2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کا حکم تو قصاص ہی کا تقاضا کرتا ہے۔
‘‘ اس سے آپ نے درج ذیل آیات کی طرف اشارہ فرمایا: ’’زخموں میں بھی قصاص ہے۔
‘‘ (المائدة: 5: 45)
’’سزا دو تم جس قدر تمھیں سزا دی گئی ہو۔
‘‘ (النحل16: 126)
بلکہ قرآن میں واضح نص ہے کہ دانت کے بدلے دانت ہے۔
(3)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے قصاص کا فیصلہ سن کر جو کچھ کہا وہ اس فیصلے کو رد کرنے کے لیے نہیں کہا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور یقین کے پیش نظر اس کے وقوع کی نفی کی، چنانچہ ان کی خواہش کے مطابق کام ہوا۔
(فتح الباري: 280/12)
واضح رہے کہ حدیث میں توڑنے سے مراد اکھاڑنا نہیں، چنانچہ امام ابوداودر حمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: دانت میں قصاص کیسے لیا جائے؟ تو انھوں نے فرمایا: اتنی مقدار میں ریتی سے رگڑ دیا جائے۔
(سنن أبي داود، الدیات، حدیث: 4595)
یہ روایت انتہائی مختصر ہے۔
اس کی تفصیل آئندہ بیان ہوگی۔
’’کتاب اللہ کا حکم تو قصاص ہی ہے۔
‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مقتول کے ورثاء دیت لینے پر راضی ہوجائیں تو بہتر صورت دیگرکتاب اللہ کا فیصلہ ہے کہ قاتل سے قصاص ہی لیا جائے گا۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانت میں قصاص کا فیصلہ فرمایا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کی کتاب قصاص کا حکم دیتی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4756]