صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب الإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَوَاتِ وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ: باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں پر تشریف لے جانا (یعنی معراج) اور نمازوں کا فرض ہونا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عُرِضَ عَلَيَّ الأَنْبِيَاءُ ، فَإِذَا مُوسَى ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ ، رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ ، رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ ، وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ ، رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دَحْيَةُ " ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ : دَحْيَةُ بْنُ خَلِيفَةَ .قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے، انہوں نے ابوزبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیائے کرام میرے سامنے لائے گئے۔ موسیٰ علیہ السلام پھر پتلے بدن کے آدمی تھے، جیسے قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ایک ہوں اور میں نے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو دیکھا، مجھے ان کے ساتھ سب سے قریبی مشابہت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ میں نظر آتی ہے، میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، مجھے ان کے ساتھ سب سے قریبی مشابہت تمہارے صاحب (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) میں نظر آئی، یعنی خود آپ۔ اور میں نے جبریل کو (انسانی شکل میں) دیکھا، میں نے ان کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت دحیہ رضی اللہ عنہ میں دیکھی۔“ ابن رمح کی روایت میں ’’دحیہ بن خلیفہ“ ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
: ضَرْبٌ: کم گوشت، ہلکا پھلکا، اس سے مضطرب ہے۔
فوائد ومسائل:
حضرت ابراہیمؑ کی شکل وصورت آپ جیسی تھی، اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ابراہیمؑ کو دیکھنا ہو، تو اپنے ساتھی کو یعنی مجھے دیکھ لو۔
‘‘
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” انبیاء میرے سامنے پیش کئے گئے تو موسیٰ علیہ السلام ایک چھریرے جوان تھے، گویا وہ قبیلہ شنوءہ کے ایک فرد ہیں اور میں نے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو دیکھا تو میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے عروہ بن مسعود رضی الله عنہ ہیں اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو ان سے زیادہ مشابہت رکھنے والا تمہارا یہ ساتھی ہے ۱؎، اور اس سے مراد آپ خود اپنی ذات کو لیتے تھے، اور میں نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا تو جن لوگوں کو م۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3649]
وضاحت:
1؎:
یعنی خود نبی اکرم ﷺ، اس میں آپﷺ کے حلیہ کا بیان اس طرح ہے کہ آپﷺ شکل وصورت سے ابراہیم علیہ السلام سے مشابہ ہیں۔