حدیث نمبر: 167
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عُرِضَ عَلَيَّ الأَنْبِيَاءُ ، فَإِذَا مُوسَى ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ ، رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ ، رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ ، وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ ، رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دَحْيَةُ " ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ : دَحْيَةُ بْنُ خَلِيفَةَ .

قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے، انہوں نے ابوزبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیائے کرام میرے سامنے لائے گئے۔ موسیٰ علیہ السلام پھر پتلے بدن کے آدمی تھے، جیسے قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ایک ہوں اور میں نے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو دیکھا، مجھے ان کے ساتھ سب سے قریبی مشابہت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ میں نظر آتی ہے، میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، مجھے ان کے ساتھ سب سے قریبی مشابہت تمہارے صاحب (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) میں نظر آئی، یعنی خود آپ۔ اور میں نے جبریل کو (انسانی شکل میں) دیکھا، میں نے ان کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت دحیہ رضی اللہ عنہ میں دیکھی۔“ ابن رمح کی روایت میں ’’دحیہ بن خلیفہ“ ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 167
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في المناقب، باب: في صفة النبي صلی اللہ علیہ وسلم برقم (3649) وقال: حديث حسن صحيح غريب انظر ((التحفة)) برقم (2920)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3649

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھ پر انبیاءؑ پیش کیے گئے۔ میں نے موسیٰؑ کو دیکھا، وہ ہلکے بدن کے آدمی تھے، گویا کہ وہ قبیلہ شنوءہ کے لوگوں سے ہیں۔ اور میں نےعیسیٰ بن مریم ؑ کو دیکھا، میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ عروہ بن مسعودؓ کو دیکھتا ہوں۔ اور میں نے ابراہیم ؑ کو دیکھا، تو میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ تمھارے ساتھی (رسول اکرم ﷺ مراد ہیں) کو دیکھتا ہوں۔ یعنی: آپ ﷺ خود مراد ہیں۔ اور میں نے جبریلؑ کو دیکھا، میں سب سے زیادہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:423]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: ضَرْبٌ: کم گوشت، ہلکا پھلکا، اس سے مضطرب ہے۔
فوائد ومسائل:
حضرت ابراہیمؑ کی شکل وصورت آپ جیسی تھی، اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ابراہیمؑ کو دیکھنا ہو، تو اپنے ساتھی کو یعنی مجھے دیکھ لو۔
‘‘
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 167 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3649 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان`
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء میرے سامنے پیش کئے گئے تو موسیٰ علیہ السلام ایک چھریرے جوان تھے، گویا وہ قبیلہ شنوءہ کے ایک فرد ہیں اور میں نے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو دیکھا تو میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے عروہ بن مسعود رضی الله عنہ ہیں اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو ان سے زیادہ مشابہت رکھنے والا تمہارا یہ ساتھی ہے ۱؎، اور اس سے مراد آپ خود اپنی ذات کو لیتے تھے، اور میں نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا تو جن لوگوں کو م۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3649]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی خود نبی اکرم ﷺ، اس میں آپﷺ کے حلیہ کا بیان اس طرح ہے کہ آپﷺ شکل وصورت سے ابراہیم علیہ السلام سے مشابہ ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3649 سے ماخوذ ہے۔