صحيح مسلم
كتاب القسامة— قسموں کا بیان
باب مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ: باب: مشترکہ غلام کو آزاد کرنے والے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : " أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ ، فَدَعَا بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَزَّأَهُمْ أَثْلَاثًا ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً ، وَقَالَ لَهُ قَوْلًا شَدِيدًا "امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی سند سے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دئیے، اس کے پاس ان کے سوا کوئی اور مال نہ تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کو منگوایا، اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کیا، پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، اس طرح دو آزاد کر دئیے، اور چار کو غلام قرار دیا، اور مرنے والے کے بارے میں شدید الفاظ استعمال کیے۔‘‘
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ الثَّقَفِيِّ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَمَّا حَمَّادٌ فَحَدِيثُهُ كَرِوَايَةِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، وَأَمَّا الثَّقَفِيُّ فَفِي حَدِيثِهِ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَوْصَى عِنْدَ مَوْتِهِ ، فَأَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ ،حماد اور (عبدالوہاب) ثقفی دونوں نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، حماد کی حدیث ابن عُلیہ کی حدیث کی طرح ہے اور ثقفی کی حدیث میں ہے: انصار کے ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت وصیت کی اور چھ غلام آزاد کر دیے۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَحَمَّادٍ .یزید بن زریع نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ہشام بن حسان نے محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن علیہ اور حماد کی حدیث کے مانند روایت کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
سب کا حق برابر تھا، اس لیے قرعہ اندازی کے سوا کوئی صورت نہ تھی، جس کی روشنی میں ان میں سے دو کو آزاد کیا جا سکتا، اس لیے جمہور فقہاء ایسے مواقع پر جبکہ سب کا حق برابر، کسی کو وجہ ترجیح حاصل نہ ہو، تو قرعہ اندازی سے فیصلہ کرنے کے قائل ہیں، ائمہ حجاز امام مالک، امام شافعی اور احمد کا یہی نظریہ ہے، اس حدیث کی بناء پر امام اسحاق، داؤد، ابن جریر، حضرت ابان بن عثمان اور عمر بن عبدالعزیز کا نظریہ بھی یہی تھا، احناف نے اس صحیح حدیث کو رد کرنے کے لیے مختلف حیلے بہانے کیے ہیں، جن کا جواب خود علامہ سعیدی نے بھی دیا ہے، کیونکہ قرعہ اندازی سے فیصلہ کرنا دوسری صحیح احادیث سے بھی ثابت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات کو سفر میں ساتھ لے جانے کے لیے قرعہ اندازی کرتے تھے، صف اول میں بیک وقت پہنچنے والوں کو قرعہ اندازی کرنے کی اجازت دی، علامہ سعیدی نے آخر میں لکھا ہے، ہماری رائے میں امام ابو حنیفہ تک یہ حدیث نہیں پہنچی ہو گی اور ان کا اپنا موقف یہ ہے کہ جب کسی مسئلہ میں صحیح حدیث مل جائے، تو وہی میرا مذہب ہے، (معلوم نہیں، احناف کو اس صریح قول کی موجودگی میں صحیح احادیث کی معنوی تحریف کرتے یا عجیب و غریب تاویل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے)
بہرحال کوئی شخص کچھ بھی کہے، میں یہی کہوں گا، کہ صحیح وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، اور اس مسئلہ میں قرعہ اندازی کے ذریعہ غلاموں میں سے دو غلاموں کو آزاد کرنا ہی صحیح طریقہ ہے۔
‘‘ (شرح صحیح مسلم، ج 4، ص 617)
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دیئے، اس کے پاس ان کے علاوہ اور کوئی مال (مال و اسباب) نہ تھا، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ اس سے ناراض ہوئے، اور فرمایا: ” میں نے ارادہ کیا کہ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھوں “، پھر آپ نے اس کے غلاموں کو بلایا، اور ان کے تین حصے کیے، پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، اور دو کو آزاد کر دیا، اور چار کو رہنے دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1960]
➋ موت کے قریب کوئی شخص تہائی مال سے زائد میں تصرف کا اختیار نہیں رکھتا، یعنی وہ ایک تہائی مال سے زیادہ وصیت نہیں کر سکتا۔
➋ ’’اس نبوی فیصلے کے برعکس، احناف کا خیال ہے کہ ’’سب غلام آزاد ہوں گے۔ ہر ایک کا تہائی حصہ وصیت کی بنا پر اور باقی دو تہائی حصے کی قیمت ہر غلام یت کے ورثاء کو کما کر ادا کرے گا۔“ لیکن یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے میں تصرف ہے اور کسی امتی کو اس کا قطعاً کوئی اختیار نہیں۔
➍ غیر وارث قریبی رشتے دار کے علاوہ بھی کسی کو وصیت کی جا سکتی ہے۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص کے چھ غلام تھے، ان غلاموں کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا، مرتے وقت اس نے ان سب کو آزاد کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حصے کئے (دو دو کے تین حصے) (اور قرعہ اندازی کر کے) دو کو (جن کے نام قرعہ نکلا) آزاد کر دیا، اور چار کو بدستور غلام رکھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2345]
فوائد و مسائل:
(1)
غلام آزاد کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔
وفات کے قریب مناسب وصیت کرنا اچھی بات ہے۔
(2)
وفات کے قریب اپنے پورے مال کو صدقہ کر دینا جائز نہیں زیادہ سے زیادہ کل ترکے کے تیسرے حصے تک صدقہ کیا جا سکتا ہے اس سے بھی کم رکھا جائے تو بہتر ہے۔ دیکھیے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 2708)
(3)
صحابی نے تمام غلاموں کو آزاد کر دیا جب کہ انہیں دو غلام آزاد کرنے کا حق تھا۔
اب ہر غلام یہ حق رکھتا تھا کہ اسے ان دوغلاموں میں شمار کیا جائے جوآزاد کیے جا سکتے ہیں۔
نبی ﷺ کے فیصلے سے معلوم ہوا کہ جب ایک سے زیادہ دعویدار ایک چیز پر برابر حق رکھتے ہوں تو فیصلہ قرعہ اندازی کے ذریعے سے کیا جا سکتا ہے۔
(4)
اسلام میں غلامی جائز ہے بشرطیکہ اس طریقے سے غلام بنایا گیا ہو جوشرعی طور پر جائز ہے ورنہ کسی آزاد شخص کو اغوا کرکے غلام بنا لینا بہت بڑا گناہ ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت بچہ ہو یا بڑا۔ دیکھیے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 2442)