صحيح مسلم
كتاب القسامة— قسموں کا بیان
باب التَّغْلِيظِ عَلَى مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بِالزِّنَا: باب: اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگانے والے کے لیے وعید کا بیان۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي نُعْمٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بِالزِّنَا يُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ " ،عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں فضیل بن غزوان نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے عبدالرحمان بن ابی نعم سے سنا (کہا:) مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے غلام پر زنا کی تہمت لگائی اسے قیامت کے دن حد لگائی جائے گی، الا یہ کہ وہ (غلام) ویسا ہو جیسا اس نے کہا ہے۔“
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ كِلَاهُمَا ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِهِمَا سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيَّ التَّوْبَةِ .وکیع اور اسحاق بن یوسف ازرق دونوں نے فضیل بن غزوان سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ان دونوں کی حدیث میں ہے: میں نے ابوالقاسم نبی التوبہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مہلب کے حوالے سے لکھا ہے: جمہور اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ آزاد آدمی جب غلام پر تہمت لگائے تو اس پر حد جاری نہیں ہوگی کیونکہ حدیث میں ہے کہ تہمت لگانے والے کو قیامت کے دن سزا دی جائے گی اور کوڑے مارے جائیں گے۔
اگر دنیا میں اس پر حد لاگو ہوتی تو حدیث میں اس کا ضرور ذکر کیا جاتا جیسا کہ آخرت کی سزا کا ذکر ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں اجماع کا دعویٰ محل نظر ہے کیونکہ حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ام ولد پر تہمت لگانے پر حد جاری کرنے کے قائل ہیں۔
(فتح الباري: 229/12)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی التوبہ ۱؎ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائے حالانکہ وہ اس کی تہمت سے بری ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر حد قائم کرے گا، إلا یہ کہ وہ ویسا ہی ثابت ہو جیسا اس نے کہا تھا۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1947]
وضاحت:
1؎:
آپ ﷺ ایک دن ستر مرتبہ اور بعض روایات سے ثابت ہے کہ سومرتبہ استغفار کرتے تھے، اسی لحاظ سے آپ کو ’’نبي التوبة‘‘ کہاگیا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی توبہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائی اور وہ اس الزام سے بری ہے، تو قیامت کے دن اس پر حد قذف لگائی جائے گی۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5165]
رسول اللہ ﷺکی ایک صفت نبي التوبة ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس اُمت کی توبہ ندامت اور الفاظ سے قبول کرلی جاتی ہے۔
جبکہ سابقہ امتوں میں بعض اوقات اپنے آپ کو قتل کرنے سے قبول ہوتی تھی۔
ایک معنی یہ بھی لکھے گئے ہیں۔
کہ اس سے مراد ایمان وعمل ہے۔
جبکہ انسان نے کفر وفسق سے رجوع کیا ہو۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ جو شخص اپنی مملوک پر زنا کی تہمت لگائے اس پر قیامت کے روز حد لگائی جائے گی۔ الایہ کہ وہ اسی طرح ہو جس طرح کہ اس نے کہا ہے (یعنی وہ تہمت سچی ہو)۔ “ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1052»
«أخرجه البخاري، الحدود، باب قذف العبيد، حديث:6858، ومسلم، الأيمان، باب التغليظ علي من قذف مملوكه بالزني، حديث:1660.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو مالک اپنے غلام پر تہمت لگاتا ہے تو دنیا میں اس پر کوئی حد نہیں ہے‘ اسے قیامت کے روز اللہ رب العالمین ہی سزا دے گا۔
اور اگر تہمت سچی ہوگی تو پھر مالک بری ٔالذمہ ہوگا اور غلام کو جرم کی سزا دی جائے گی۔