صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب الإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَوَاتِ وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ: باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں پر تشریف لے جانا (یعنی معراج) اور نمازوں کا فرض ہونا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَرَّ بِوَادِي الأَزْرَقِ ، فَقَالَ : أَيُّ وَادٍ هَذَا ؟ فَقَالُوا : هَذَا وَادِي الأَزْرَقِ ، قَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام هَابِطًا مِنَ الثَّنِيَّةِ ، وَلَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ ، ثُمَّ أَتَى عَلَى ثَنِيَّةِ هَرْشَى ، فَقَالَ : أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ ؟ قَالُوا : ثَنِيَّةُ هَرْشَى ، قَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلَام ، عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ ، جَعْدَةٍ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ خِطَامُ ، نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ ، وَهُوَ يُلَبِّي " ، قَالَ ابْنُ حَنْبَلٍ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ هُشَيْمٌ : يَعْنِي لِيفًا .حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ازرق وادی میں سے گزرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون سی وادی ہے؟“ لوگوں نے کہا: یہ وادی ازرق ہے۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا کہ میں موسیٰ علیہ السلام کو چوٹی سے اترتے دیکھ رہا ہوں، اور وہ بلند آواز سے اللہ کے حضور تلبیہ کہہ رہے ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہرشیٰ کی چوٹی پر پہنچے تو پوچھا: ”یہ کون سی چوٹی ہے؟“ لوگوں نے کہا: یہ ہرشیٰ کی چوٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا کہ میں یونس بن متیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں، سرخ رنگ کی گھٹی ہوئی اونٹنی پر سوار ہیں، اونی جبہ پہنا ہوا ہے، ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے اور وہ لبیک کہہ رہے ہیں۔“ ابن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی حدیث میں بیان کیا کہ ہشیم رحمہ اللہ نے کہا: «خُلْبَةٌ» سے مراد «لِيفٌ» ہے، یعنی کھجور کی کھال۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، فَمَرَرْنَا بِوَادٍ ، فَقَالَ : أَيُّ وَادٍ هَذَا ؟ فَقَالُوا : وَادِي الأَزْرَقِ ، فَقَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَذَكَرَ مِنْ لَوْنِهِ ، وَشَعَرِهِ ، شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ دَاوُدُ ، وَاضِعًا إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ ، لَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ ، مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي ، قَالَ : ثُمَّ سِرْنَا ، حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ثَنِيَّةٍ ، فَقَالَ : أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ ؟ قَالُوا : هَرْشَى أَوْ لِفْتٌ ، فَقَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ ، عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ خِطَامُ ، نَاقَتِهِ لِيفٌ خُلْبَةٌ ، مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي مُلَبِّيًا " .حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک وادی سے گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون سی وادی ہے؟ لوگوں (صحابہ) نے کہا: وادی ازرق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا کہ میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کے رنگ اور بالوں کے بارے میں کچھ بتایا جو داؤد کو یاد نہیں۔ ”موسیٰ علیہ السلام نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں رکھی ہیں اور وہ بلند آواز سے تلبیہ پکارتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: پھر ہم چلے یہاں تک کہ ایک اور گھاٹی پر پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون سی گھاٹی ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: ہرشیٰ یا لفت ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا کہ میں یونس علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں، سرخ اونٹنی پر سوار ہیں، اونی جبہ پہنا ہے، ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے، وہ تلبیہ کہتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں۔“
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ، قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَمْ أَسْمَعْهُ ، قَالَ : ذَاكَ ، وَلَكِنَّهُ قَالَ : أَمَّا إِبْرَاهِيمُ ، فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ ، وَأَمَّا مُوسَى ، فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ ، مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذَا انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي " .مجاہد سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھے تو لوگوں نے دجال کا تذکرہ چھیڑ دیا، (اس پر کسی نے) کہا: اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا کہ آپ نے یہ کہا ہو لیکن آپ نے یہ فرمایا: ”جہاں تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تعلق ہے تو اپنے صاحب (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کو دیکھ لو اور موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ، گٹھے ہوئے جسم کے مرد ہیں، سرخ اونٹ پر سوار ہیں جس کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے، جیسے میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ جب وادی میں اترے ہیں تو تلبیہ کہہ رہے ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
: (1)
ثَنِيَّةٌ جمع ثَنَايَا: دره، گھاٹی، پہاڑی راستہ۔
(2)
جُؤَارٌ: بلند آواز سے دعا کرنا، گڑگڑانا، بیل کا ڈکارنا۔
(3)
تَلْبِيَةٌ: اللهم لبيك کہنا۔
فوائد ومسائل:
رسول اللہ ﷺ کو شب معراج، بعض انبیاء کی زندگی کا حال دکھایا گیا کہ ان کا حج کیسا تھا، سواری کس قسم کی تھی، لبیک کس طرح کہا، آج انسان مختلف قسم کے پروگراموں کی وڈیوز تیار کر لیتے ہیں، اور پھر جب چاہتے ہیں، ان پروگراموں کو دیکھ لیتے ہیں، تو کیا اللہ تعالیٰ انسانوں کی زندگی، ان کے افعال واعما ل کی وڈیوز تیار نہیں کر سکتا، کہ جب چاہے وہ کسی کو دکھا دے۔
اسی لیے آپ ﷺ نے "كَأَنِّي أَنْظُرُ" ’’گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں۔
‘‘ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔
اسی طرح ودجال اورمالک خازن ناز کی تصویر دکھائی گئی، جس طرح آپ کو جنت اور دوزخ کی تصویر دکھائی گئی تھی۔
یہاں تک کہ آپ دوزخ کو دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے اور جنت کو دیکھ کر اس کے میوے توڑنےکے لیے آگے بڑھے، یہاں تک کہ آپ نے لوگوں کو جہنم میں سزا پاتے دیکھا۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے، ہمارا گزر ایک وادی سے ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” یہ کون سی وادی ہے؟ “ لوگوں نے عرض کیا: وادی ازرق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کے بالوں کی لمبائی کا تذکرہ کیا (جو راوی داود کو یاد نہیں رہا) اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈالے ہوئے بلند آواز سے، لبیک کہتے ہوئے، اللہ سے فریاد کرتے ہوئے اس وادی سے گزرے۔“ عبداللہ بن عب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2891]
فوائد و مسائل:
(1)
بنی اسرائیل کے انبیاء کرام علیہم السلام بھی کعبہ شریف کا حج کرتے تھے اگرچہ ان کا قبلہ بیت المقدس تھا۔
(2)
رسول اللہ ﷺ کی وحی کا ایک انداز یہ بھی تھا کہ گزشتہ واقعات آپ کو اس انداز سے دکھا دیے جاتےتھے گویا کہ وہ ابھی واقع ہو رہے ہیں اس طرح ماضی کے واقعات یا جنت اور جہنم کے حالات سے نبیﷺ اس طرح واقف ہو جاتے تھے جس طرح کوئی چشم دید واقعات کو جانتا اور یاد رکھتا ہے۔
(3)
لبیک بلند آواز سے پکارنا مستحب ہے۔ (سنن ابن ماجة، حدیث: 2922 تا 2924)
(4)
مرد کو احرام کی حالت میں سلا ہوا لباس پہننا منع ہے۔ (سنن ابن ماجة حدیث: 2929)
ممکن ہے حضرت یونس علیہ السلام کی شریعت میں اس کی اجازت ہو اس لیے انھوں نےاونی جبہ پہنا ہوا ہو۔