صحيح مسلم
كتاب القسامة— قسموں کا بیان
باب صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ: باب: غلام، لونڈی سے کیونکر سلوک کرنا چاہیئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ : " كُنْتُ أَضْرِبُ غُلَامًا لِي بِالسَّوْطِ ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ خَلْفِي اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ فَلَمْ أَفْهَمْ الصَّوْتَ مِنَ الْغَضَبِ ، قَالَ : فَلَمَّا دَنَا مِنِّي إِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ ، يَقُولُ : اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ ، قَالَ : فَأَلْقَيْتُ السَّوْطَ مِنْ يَدِي ، فَقَالَ : اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ أَنَّ اللَّهَ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَى هَذَا الْغُلَامِ ، فَقُلْتُ : لَا أَضْرِبُ مَمْلُوكًا بَعْدَهُ أَبَدًا " ،عبدالواحد بن زیاد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے حدیث سنائی، انہوں نے اپنے والد (یزید بن شریک تیمی) سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنے ایک غلام کو کوڑے سے مار رہا تھا تو میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی: ”ابومسعود! جان لو۔“ میں غصے کی وجہ سے آواز نہ پہچان سکا، کہا: جب وہ (کہنے والے) میرے قریب پہنچے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، آپ فرما رہے تھے: ”ابومسعود! جان لو، ابومسعود! جان لو۔“ کہا: میں نے اپنے ہاتھ سے کوڑا پھینک دیا، تو آپ نے فرمایا: ”ابومسعود! جان لو۔ اس غلام پر تمہیں جتنا اختیار ہے اس کی نسبت اللہ تم پر زیادہ اختیار رکھتا ہے۔“ کہا: تو میں نے کہا: اس کے بعد میں کسی غلام کو کبھی نہیں ماروں گا۔
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَهُوَ الْمَعْمَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ عَبْدِ الْوَاحِدِ نَحْوَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ فَسَقَطَ مِنْ يَدِي السَّوْطُ مِنْ هَيْبَتِهِ .جریر، سفیان اور ابوعوانہ سب نے اعمش سے عبدالواحد کی (سابقہ) سند کے ساتھ اس کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، مگر جریر کی حدیث میں ہے: آپ کی ہیبت کی وجہ سے میرے ہاتھ سے کوڑا گر گیا۔
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : " كُنْتُ أَضْرِبُ غُلَامًا لِي فَسَمِعْتُ مِنْ خَلْفِي صَوْتًا اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ فَالْتَفَتُّ ، فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ ، فَقَالَ : أَمَا لَوْ لَمْ تَفْعَلْ لَلَفَحَتْكَ النَّارُ أَوْ لَمَسَّتْكَ النَّارُ " .حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، میں اپنے غلام کو مار رہا تھا کہ میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی، ”جان لو! اے ابو مسعود، اللہ تعالیٰ کو تجھ پر اس سے زیادہ قدرت حاصل ہے، جتنی تمہیں اس پر حاصل ہے۔‘‘ تو میں نے مڑ کر دیکھا، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، اس پر میں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! وہ اللہ کی رضا کی خاطر آزاد ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ایسا نہ کرتے، تو تمہیں آگ جھلساتی یا آگ پہنچتی۔‘‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ : " أَنَّهُ كَانَ يَضْرِبُ غُلَامَهُ ، فَجَعَلَ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَضْرِبُهُ ، فَقَالَ : أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ ، فَتَرَكَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَاللَّهِ لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَأَعْتَقَهُ " ،حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے غلام کو مار رہے تھے، تو وہ اللہ کی پناہ طلب کرنے لگا، اور وہ اسے مارتا رہا، تو اس نے کہا، میں اللہ کے رسول کی پناہ چاہتا ہوں، تو اس نے اسے چھوڑ دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ کو تم پر اس سے زیادہ قدرت حاصل ہے، جتنی تمہیں اس پر حاصل ہے۔‘‘ تو انہوں نے اسے آزاد کر دیا۔
وحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .محمد بن جعفر نے ہمیں شعبہ سے، اسی سند کے ساتھ خبر دی اور انہوں نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے: ”میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں“ (اور) ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں آتا ہوں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
‘‘
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے غلام کو مار رہا تھا کہ پیچھے سے کسی کہنے والے کی آواز سنی وہ کہہ رہا تھا: ابومسعود جان لو، ابومسعود جان لو (یعنی خبردار)، جب میں نے مڑ کر دیکھا تو میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے آپ نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ تم پر اس سے کہیں زیادہ قادر ہے جتنا کہ تم اس غلام پر قادر ہو۔“ ابومسعود کہتے ہیں: اس کے بعد میں نے اپنے کسی غلام کو نہیں مارا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1948]
وضاحت:
1؎:
غلاموں اور نوکروں چاکروں پرسختی برتنا مناسب نہیں، بلکہ بعض روایات میں ان پر بے جا سختی کرنے یا جرم سے زیادہ سزادینے پر وعید آئی ہے، نبی اکرمﷺ اللہ کی جانب سے جلالت و ہیبت کے جس مقام پر فائز تھے اس حدیث میں اس کی بھی ایک جھلک دیکھی جاسکتی ہے، چنانچہ آپﷺ کے خبردار کہنے پر ابومسعود اس غلام کو نہ صرف یہ کہ مارنے سے رک گئے بلکہ آئندہ کسی غلام کو نہ مارنے کا عہد بھی کر بیٹھے اور زندگی اس پر قائم رہے۔
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک غلام کو مار رہا تھا اتنے میں میں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی: اے ابومسعود! جان لو، اللہ تعالیٰ تم پر اس سے زیادہ قدرت و اختیار رکھتا ہے جتنا تم اس (غلام) پر رکھتے ہو، یہ آواز دو مرتبہ سنائی پڑی، میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے، آپ نے فرمایا: ” اگر تم اسے (آزاد) نہ کرتے تو آگ تمہیں لپٹ جاتی یا آگ تمہیں چھو لیتی۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5159]
1۔
انسان اپنے غصے اور قدرت کا اظہار کرتے ہوئے ہمیشا یاد رکھے کہ اللہ عز وجل اس سے بڈھ کر قدرت رکھنے والا ہے، اس لیے ہمیشا ظلم سے باز رہے، ورنہ اس کا انجام آگ ہے۔
2۔
اس حدیث میں ابو مسعود کی فضیلت کا اظہار ہے کہ انھوں نے فوراً اپنی غلطی کی تلافی کی اور ایک افضل عمل سے کی۔